کیا پاکستانی عوام نے کرونا وائرس کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے؟

اس وائرس نے لوگوں کی زندگیوں کو کیسے متاثر کیا ہے؟ اسلام آباد کے شہریوں کے خیالات

پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کرونا (کورونا) وائرس کے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جبکہ اس جان لیوا وائرس سے صحت یاب افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اگرچہ زندگی مکمل طور پر بحال تو نہیں ہوئی لیکن معمول کی جانب رواں دواں ضرور ہے۔ 

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط کے تقاضے پورے کیے گئے، عوامی مقامات پر ماسک لازمی پہنا گیا اور کیسز کم ہونے کی یہی رفتار رہی تو امکان ہے کہ اگلے دو ماہ تک کیسز بالکل کم یا ختم ہو سکتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک مقامی لیب کے اسسٹنٹ علی محمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ صرف سرکاری اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقتاً کیسز کم ہو رہے ہیں۔ 'جون میں اگر ہماری لیب میں روزانہ 100 کرونا ٹیسٹ ہوتے تھے تو ان میں سے 35 سے 40 مثبت کیسز تھے لیکن آج یہ تعداد گھٹ کر پانچ، چھ رہ گئی ہے۔'

وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) میں 24 گھنٹوں میں ہونے والے مجموعی ٹیسٹوں اور نتائج کے شمار کے لیے ملک کی تمام لیبز سے آن لائن ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام نے وائرس کی موجودگی کو نہ صرف قبول کر لیا ہے بلکہ اس نے وائرس کے ساتھ جینا بھی سیکھ لیا ہے اور وہ معمولات زندگی واپس اپنی ڈگر پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان