یہ شادیاں کرونا کا تحفہ ہیں

کرونا وائرس کی وبا کے دوران ہونے والی سادہ سی شادیوں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کا احوال

لڑکی والوں کے لیے شادی کا سب سے بڑا خرچہ جہیز کا ہوتا ہے۔ اس پر تو اتنی بات کی جا چکی ہے کہ مزید کچھ کہنا الفاظ کا زیاں لگتا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

کرونا (کورونا) نے دنیا بھر کا نظام الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ بظاہر تو اس کی تباہ کاریاں بہت ہیں لیکن اس سے حضرتِ انسان نے فائدہ بھی بہت اٹھایا ہے۔ شادیاں ہی دیکھ لیں۔ کرونا کے پھیلنے سے پہلے ہی حکومت نے شادی ہالز بند کر دیے تھے مگر جس نے بیاہ رچانا تھا اس نے رچا ہی لیا۔

سب سے پہلے تو ان شادیوں کی بات کرلیتے ہیں جن کی تیاریاں کئی مہینوں سے جاری تھیں۔ ان کے ہال بھی بُک تھے اور کارڈ چھپ کر تقسیم بھی ہو چکے تھے۔ مہمانوں کو شادی میں لازمی شرکت کرنے کی تاکید بھی کی جا چکی تھی۔ دلہا دلہن کی تیاری بھی مکمل تھی۔ اب بس شادی کے دن کا انتظار ہو رہا تھا، لیکن کرونا نے ان کی ساری تیاریاں چوپٹ کر دیں۔ کچھ کو شادی ملتوی کرنی پڑی کہ مہمانوں کی شرکت ضروری تھی جبکہ کچھ نے گھر کے افراد کی موجودگی میں ہی شادی کر لی۔

کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے لاک ڈاؤن کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کے رشتے طے کیے اور فٹا فٹ ان کی شادی بھی کر دی۔ اس طرح جو شادی انہیں 15 سے 20 لاکھ میں پڑتی، اب ایک سے دو لاکھ میں پڑی۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ جو پیسے کماتے ہیں وہ اس فرق کو خوب جانتے ہیں۔ ہمارا معاشرتی نظام کچھ ایسا ہے کہ شادیوں پر خرچہ کرنا پڑتا ہے، نہ کریں تو ناک کٹ جاتی ہے۔ لوگ سامنے تو کچھ نہیں کہتے پر پیٹھ پیچھے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔

لڑکی والوں کے لیے شادی کا سب سے بڑا خرچہ جہیز کا ہوتا ہے۔ اس پر تو اتنی بات کی جا چکی ہے کہ مزید کچھ کہنا الفاظ کا زیاں لگتا ہے۔ پھر بھی کہنا ضروری ہے، کیا پتہ کب کوئی بات کسی پر اثر کر جائے۔ ساتھیو، جہیز ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے جتنا بچ سکتے ہو بچو۔

جہیز کے علاوہ شادی کے فنکشن بھی اخراجات کے حوالے سے کچھ کم نہیں ہوتے۔ دونوں پارٹیوں کو ان فنکشنز پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ایک نارمل شادی میں کم از کم چار فنکشن تو ہوتے ہی ہیں، مایوں، مہندی، بارات اور ولیمہ۔ مایوں کا فنکشن تو گھر میں ہی نمٹا دیا جاتا ہے پر مہندی کے لیے ہال یا مارکی بُک کروانا لازمی ہے۔

کھانے کے علاوہ گول گپوں، دہی بڑوں یا پان مصالحے کی ریڑھی ہونا بھی ضروری ہے۔ نہ نہ کرتے ہوئے بھی مہمانوں کی تعداد 300 تک جا پہنچتی ہے۔ فی کس کھانے کا بل ہزار روپے لگا لیں۔ میزبان، مہمان اور ویٹرز کو ملا کر یہی کوئی تین لاکھ روپے سے اوپر کا حساب بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہال کی بکنگ اور سجاوٹ، مہمانوں کے لیے بس یا کوچ، گھر والوں اور دلہا دلہن کے کپڑے، جوتے، زیورات، میک اپ، اور مہندی کی رسم کا سامان کا خرچہ بھی شامل کر لیں تو معاملہ چھ سے آٹھ لاکھ روپے تک جا پہنچتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے، یہ ایک درمیانے درجے کی شادی کا حساب ہے۔ بارات کا اس سے دگنا حساب لگالیں۔ دلہن کا بھاری لباس، زیورات، پارلر، شادی ہال اور اس کے اخراجات، کھانا اور اس سب کے ساتھ ساتھ دلہے اور اس کے گھر والوں کے لیے تحائف، دلہے کی اماں اور بہنوں کو سونے کی کوئی چیز دینا لازمی ہے جبکہ دلہے، اس کے ابا اور بھائیوں کو مہنگی گھڑیاں دینے کا رواج ہے۔ اگلے روز دلہن کا ناشتہ بھی جاتا ہے۔ اس کی مد میں بھی ہزاروں روپے اٹھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف دلہے کو بھی شیروانی پہننے کے بعد کئی طرح کے نیگ دینے پڑتے ہیں، کبھی دلہن کی بہنوں کو تو کبھی اپنی بہنوں کو۔

ولیمے پر بھی کم و بیش پانچ، چھ لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ جن لوگوں نے لاک ڈاؤن میں شادیاں نمٹائیں، انہوں نے اس خرچے میں واضح کمی دیکھی۔ اس بچت کے علاوہ انہوں نے اپنے پیاروں کی شادیاں انجوائے کیں۔ یہی شادی عام حالات میں ہوئی ہوتیں تو ان کا سارا وقت ایک میز سے دوسری میز تک لوگوں کو پوچھنے میں ہی گزر جاتا۔ اب وہ آرام سے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھے ان کی شادی انجوائے کر رہے تھے۔ اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟

ہمارے معاشرے میں شادیاں والدین پر وہ بوجھ ہیں جو انہیں دوسروں کی خاطر اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر ان پر 'لوگ کیا کہیں گے' کا دباؤ نہ ہو تو وہ ان شادیوں پر اتنا ہی خرچہ کریں جس سے ان کے دل اور جیب پر بوجھ نہ پڑے۔ ویسے بھی جس شادی میں دلہا دلہن اپنے والدین کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر کھانا نہ کھا سکیں وہ بھی بھلا کوئی شادی ہوئی؟

ایسی شادیاں لاک ڈاؤن کے بعد بھی ہونی چاہییں بلکہ صرف ایسی ہی ہونی چاہییں۔ کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔ یہ شادیاں کرونا کا تحفہ ہیں۔ جہاں اس نے انسان کو بہت پریشان کیا ہے وہیں اس نے زندگی کو آسان بھی بنایا ہے۔ کرونا کی پریشانیوں سے ہم جلد چھٹکارہ حاصل کر لیں گے، پر اس کی آسانیوں کو اپنی زندگی سے نکلنے نہ دیجیے گا۔  

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ