کیسز میں کمی: کیا واقعی کرونا وائرس شکست کھا رہا ہے؟

خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی کی نشاندہی عالمی ادارہ صحت نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کی ہے، لیکن طبی ماہرین اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟

خیبرپختونخوا میں  کرونا وائرس سے  شرح صحت یابی جو کہ 30 فیصد کے لگ بھگ تھی، اب بڑھ کر 60 فیصد ہو گئی ہے۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

خیبر پختونخوا میں کرونا (کورونا) وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دو مہینے بعد نہ صرف واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے بلکہ دو مئی کے 108 کیسز کے بعد پیر (6 جولائی) کو پہلی مرتبہ 120 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اگرچہ دوسرے ہی دن (7 جولائی) کو یہ تعداد 445 پر پہنچ گئی لیکن جولائی کے پہلے سات دن کی یہ تعداد گذشتہ ماہ جون کے مقابلے میں تاحال کہیں زیادہ کم ہے۔

خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی کی نشاندہی عالمی ادارہ صحت نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'یہ کمی پچھلے ایک ہفتے سے دیکھنے میں آرہی ہے۔'

اگر اس صوبے میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ مئی کے بعد دیکھنے میں آیا جس میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ اسی تناظر میں یکم مئی سے  10 مئی تک  کل 2042 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 11 مئی سے 20 مئی تک  2146 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 21 مئی سے 30 مئی تک 2725 کیسز رپورٹ ہوئے۔

یکم جون سے 10 جون تک متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس طرح سرکاری اعداد وشمار کے مطابق  ان دس دنوں میں 5179 کیسز رپورٹ ہوئے۔

سب سے زیادہ کیسز 11 جون سے 20 جون کے دوران رپورٹ ہوئے، جن کی تعداد 6238 تھی اور جن کی روزانہ اوسط 623 رہی۔

21 جون سے 30 جون تک دوبارہ کیسز میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی اور اس طرح کل 5154 کیسز رپورٹ ہوئے۔

جولائی کا مہینہ شروع ہوتے ہی یہ تعداد دوبارہ کم ہونے لگی اور صرف پہلے سات دنوں میں 2083 کیسز رپورٹ ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے بظاہر یوں لگ رہا ہے جیسے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔

تاہم خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر آصف اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'مریضوں کی تعداد میں کمی اس لیے آئی ہے کہ ٹیسٹس کم ہو رہے ہیں۔'

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ کی ٹیسٹ صلاحیت ساڑھے چار ہزار تک بڑھا دینے کے باوجود عوام میں ٹیسٹ نہ کروانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

بعض دیگر طبی ماہرین بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ دراصل پاکستان یا خیبر پختونخوا میں متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی کی وجہ ٹیسٹس میں کمی کا رجحان ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ایک حالیہ ٹویٹ نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ اگر مریضوں کی تعداد میں کمی کی وجہ ٹیسٹس نہ کرنا ہے تو پھر ہسپتالوں میں کرونا وائرس کےانتہائی نگہداشت کے مریضوں میں کمی کیوں آئی ہے؟ جبکہ یہ ایسے مریض ہوتے ہیں جنہیں ہسپتال لے جانے اور داخل کروانے کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

محکمہ صحت کی اس ٹویٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں کریٹیکل کیئر یوٹیلائزیشن جو کہ پہلے 70 فیصد سے زیادہ تھی، گھٹ کر 50 فیصد سے نیچے آگئی ہے۔

محکمہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ پازیٹیو کیسز، شرح اموات اور ہیلپ لائنز پر کالز کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

کیسز میں کمی کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر ضیا الحق نے بتایا کہ ایک وجہ یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور صوبائی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوں جوں وقت بڑھتا جا رہا ہے، اس وائرس اور وبا سے نمٹنے سے متعلق عوام، حکومت اور تمام اداروں میں شعور بڑھ رہا ہے۔

’لیکن فی الحال کیسز میں کمی کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہی قائم کی جارہی ہیں۔ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں میں اس وائرس سے متعلق شعور بڑھ گیا ہو۔‘

دوسری جانب محکمہ صحت خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کیسز میں کمی کی وجہ  حکومت کا ہسپتالوں میں بروقت کریٹیکل کیئر کی سہولیات پہنچانا اور سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر لوگ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ چونکہ بہت سارے لوگوں نے اس وائرس کا شکار ہو کر بھی ٹیسٹس نہیں کروائے، لہذا ہو سکتا ہے کہ ہم ہرڈ امیونٹی کی جانب بڑھنے لگے ہیں اور اس لیے اب تعداد میں کمی آنے لگی ہے۔

تاہم خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر آصف کا کہنا ہے کہ ابھی ہم ہرڈ امیونٹی سے کوسوں دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'عوام کی ایک بڑی تعداد میں یہ وائرس پایا جارہا ہے لیکن وہ ٹیسٹ نہیں کروا رہے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'کرونا وائرس ابھی بہت نیا ہے اور اس سے چھٹکارا دو صورتوں میں ممکن ہے۔ یا تو اس کی ویکسین تیار ہو جائے اور مدافعت پیدا کی جائے یا پھر یہ وائرس خود میوٹیٹ ہوکر کمزور اور ختم ہو جائے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت