کرونا کے دنوں میں نانیوں اور دادیوں کا اپنا 'گرینیز چینل'

ملیے اسلام آباد کی 67 سالہ فرحت رزاق سے جنہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران بزرگوں کے لیے ایک یوٹیوب چینل شروع کیا ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا اور اس کے نفسیاتی اثرات کے حوالے سے ہم نے بچوں، نوجوانوں، مرد و خواتین کو موضوع بنایا لیکن اگر بات نہیں ہوئی تو ایسے افراد کی جو اپنی عمر کے اس حصے میں ہے جہاں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اب یہ باہر جا کر کیا کریں گے، انہیں گھر پر رہنا چاہیے اور بس اپنے پوتوں پوتیوں یا نواسے نواسیوں کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہونا چاہیے۔ تاہم اسلام آباد کی فرحت رزاق کو اس سوچ سے سخت اختلاف ہے۔

67 سالہ فرحت رزاق کے مرحوم شوہر ایک سینیئر پولیس افسر تھے۔ فرحت نے ان کے ساتھ ایک انتہائی متحرک زندگی گزاری اور دنیا بھر کا سفر کیا۔ چند برس قبل اپنے شوہر کے انتقال کے بعد فرحت نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ کا استعمال کرنا شروع کیا، بالکل ویسے ہی جیسے ان کے بچے، پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں استعمال کرتے تھے۔

شروع میں انہیں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی مگر پھر انہوں نے سنجیدگی سے گیجٹس کا استعمال شروع کیا۔ انہوں نے چند روز قبل اپنی جیسی دیگر خواتین، جو نانیاں اور دادیاں ہیں، کے لیے ایک یو ٹیوب چینل 'دی گرینیز چینل' کا آغاز کیا۔

فرحت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: 'اس چینل کا خیال اب کا نہیں بہت پرانا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ میری عمر کی خواتین کے لیے کوئی ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں ان کے مسائل کی بات ہو۔ ہم انہیں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا سکھائیں، ہماری عمر کے بہت سے لوگ جدید ٹیکنالوجی یا گیجٹس کا استعمال نہیں جانتے اور نہ دلچسپی لیتے ہیں۔'

'بہت سی نانیاں، دادیاں اپنے موبائل فون کو بس کال کرنے اور سننے کی حد تک ہی جانتی اور سمجھتی ہیں۔ میں چاہتی تھی کہ انہیں بھی اس کا استعمال آنا چاہیے، اس کے ذریعے آپ مختلف معلومات حاصل کر سکتے ہیں، گیمز کھیل سکتے ہیں اور دور رہنے والے اپنے بچوں کے ساتھ ویڈیو پر بات کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کو مصروفیت بھی مل جاتی ہے اور آپ کا وقت بھی اچھا گزر جاتا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرحت کہتی ہیں کہ کرونا وبا کے باعث جب لاک ڈاؤن ہوا تو انہوں نے سنجیدگی سے اس چینل کا آغاز کرنے کے بارے میں حکمت عملی بنانا شروع کی۔ 'لاک ڈاؤن کے دوران جب زندگی گھروں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی تو مجھے احساس ہوا کہ بہت سے لوگ ڈپریشن میں جا رہے ہیں، خاص طور پر وہ خواتین جن کی عمر زیادہ ہے کیونکہ ان کی کوئی سرگرمی نہیں تھی۔

'یہ وقت مجھے مناسب لگا کہ ایسی صورت حال میں ان کے لیے کوئی ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں انہیں محسوس ہو کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے اور ان کی بات کی جارہی ہے۔'

فرحت نے دو برس پہلے اپنے داماد سے جدید آئی فون منگوایا۔ ان کے پاس اس کے علاوہ بھی دیگر جدید گیجٹس ہیں، جن کے ذریعے وہ مختلف ویب سائٹس سے مختلف قسم کی معلومات حاصل کرتی ہیں، مختلف ویڈیو گیمز نہ صرف کھیلتی ہیں بلکہ ان کے حوالے سے بہت کچھ جانتی بھی ہیں، جیسے کون سی گیم کس نے بنائی ہے یا دنیا میں اس گیم کی رینکنگ کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس چینل میں ان کی بیٹی رابعہ رزاق بھی معاونت فراہم کرتی ہیں۔

'دی گرینیز چینل' پر فرحت اب تک گیمز ریویوز، ڈپریشن، آپسی رشتوں، بیکنگ، پراڈکٹ ریویو اور کرونا کے دوران رہن سہن کے علاوہ اپنی بہت سی نادر چیزوں کی کلیکشن کے حوالے سے بھی پروگرامز کر چکی ہیں۔ ان کے اس چینل میں ان کی سمدھن چندہ بھی اپنی مزے مزے کی کھانوں کی ترکیبیں لے کر آتی ہیں۔

فرحت نے اسی چینل کا ایک فیس بک پیج بھی بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں وہ اس میں دیگر نانیوں اور دادیوں کے تجربات کو بھی شامل کریں گی۔ اس کے علاوہ وہ جسمانی، ذہنی صحت کے ماہرین، خوراک اور دیگر ماہرین کو بھی چینل پر مدعو کریں گی جن سے دیکھنے والے بات چیت کر سکیں اور مفید مشورے لے سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین