’پی ٹی اے کا کمپنی کو سنے بغیر پب جی بند کرنا خلاف قانون ہے‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پب جی پر پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی اے کو حکم دیا کہ اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔

پی ٹی اے نے شہریوں کی شکایات کے بعد پب جی پرپابندی لگائی تھی ( اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعے کو آن لائن ویڈیو گیم پب جی پر پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا ہے کہ اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے پب جی پر پابندی کے خلاف درخواست پر 14 جولائی کا محفوظ شدہ فیصلہ آج سنایا۔

گذشتہ سماعت میں پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس گیم میں اسلام کے خلاف کچھ مواد نظر آیا تھا، جس کی وجہ سے پابندی لگائی گئی۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا تھا کہ 'اسلام کے خلاف مواد کی موجودگی کے حوالے سے پی ٹی اے کے اجلاس کے میٹنگ منٹس میں کہاں لکھا ہے؟'

عدالت نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ 'یہ کہہ کر کیا سب گیمز پر پابندی لگا دیں گے؟ پی ٹی اے کو چاہیے تھا کہ ماہر نفسیات کو بلاتے اور ان سے رائے لیتے کہ اس گیم کا اثر کیا ہے۔'

درخواست گزار عبدالحسیب ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'وہ لیگ کے پریکٹس میچز میں شرکت نہیں کر سکے کیونکہ پاکستانی حکومت کے فیصلے کے بعد پب جی نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو حتمی عدالتی فیصلہ آنے تک کھیلنے سے روک دیا تھا۔'

انہوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں نے پب جی سےدرخواست کی تھی کہ جب تک پاکستان میں عدالت کا حتمی فیصلہ آتا ہے تب تک انہیں کھیلنے دیا جائے۔ عبدالحسیب نے مزید بتایا کہ 'انہوں نے وی پی این پروکسی لگا کر میچز میں حصہ لیا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ رات پی ٹی اے نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ پب جی پر پابندی برقرار رہے گی۔ بیان کے مطابق 'اتھارٹی نے یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں نو جولائی کو کی گئی تفصیلی سماعت کے بعد کیا۔'

خیال رہے کہ پی ٹی اے نے متعدد شہریوں کی شکایات کے بعد پب جی پرپابندی لگائی تھی جبکہ پاکستان میں پب جی کنٹرول کرنے والی کمپنی اور پب جی کھیلنے والے ایک گیمر نے پی ٹی اے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان میں آن لائن کھیلوں (ای سپورٹس) کو ترویج دینی چاہیے، پب جی بھی کرکٹ کی طرح کا ایک کھیل ہے۔

عدالت کے تفصیلی فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پی ٹی اے متاثرہ کمپنی کو صفائی کا موقع دے چکا ہے اس لیے سات روز میں واضح آرڈر جاری کرے۔

فیصلے کے مطابق پی ٹی اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ پی ٹی اے آرڈر میں پیکا  ایکٹ  کی سیکشن  37 کے تحت وجوہات بھی بیان کی جائیں کیونکہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 37 میں عارضی معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

پیکا ایکٹ کی سیکشن  37 کے تحت اسلام، ریاست، افواج اور عدلیہ مخالف مواد بلاک کیا جاسکتا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کا گیم کی معطلی کا دو جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کا متاثرہ کمپنی کو سنے بغیر گیم بند کرنا خلاف قانون ہے۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پی ٹی اےحکام متاثرہ فریق کو سنے بغیر گیم بند نہیں کرسکتا کیونکہ پی ٹی اے نے گیم پر عارضی پابندی کا فیصلہ آرڈر کے ذریعے نہیں بلکہ پریس ریلیز کے ذریعے کیا۔

پب جی گیم پر پابندی کا فیصلہ یکم جولائی کو کیا گیا جبکہ میٹنگ منٹس پر تاریخ دو جولائی کی درج ہے۔

’اس کا مطلب یہ ہے کہ پریس ریلیز عارضی پابندی کے فیصلے سے قبل ہی تیار کر لی گئی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان