سینیٹ کے ’لوگو‘ والی سگریٹ

لمحہ فکریہ ہے کہ قانون ساز ایوان بالا المعروف مجلس شوری (سینیٹ آف پاکستان) کے مونوگرام (LOGO) کے ساتھ سگریٹ برانڈ (پیکٹس) منظرعام پر آیا ہے۔

(سوشل میڈیا)

تمباکو نوشی مضرصحت ہے۔ اس تلقین و آگہی کی’قومی مہم‘ کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ’قومی قیادت‘ خاطرخواہ حساسیت درد مندی اور ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

لمحہ فکریہ ہے کہ قانون ساز ایوان بالا المعروف مجلس شوری (سینیٹ آف پاکستان) کے مونوگرام (LOGO) کے ساتھ سگریٹ برانڈ (پیکٹس) منظرعام پر آیا ہے۔ اگرچہ قانون ساز ایوان (پارلیمنٹ ہاؤس) کے اندر سگریٹ (تمباکو) نوشی ممنوع ہے لیکن بظاہر سگریٹ ممنوع نہیں ہے۔ 

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر کی جانب سے تحفتاً بھیجے جانے والے سگریٹ کے پیکٹس وصول ہونے پر متعدد سینیٹرز اور سول سوسائٹی نے بظاہر ناپسندیدگی اور مذمت کا اظہار کیا ہے لیکن ایسی قواعد و قانون سازی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے جس میں آئندہ ایسی کسی کوشش کو روکا جا سکے کیونکہ اگر آج سینیٹ کے نام سے سگریٹ برانڈ سامنے آیا ہے اور اِس کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو دیکھا دیکھی دیگر ممنوع نشہ آور اشیا بھی ’سینیٹ‘ کے نام سے متعارف ہو سکتی ہیں۔

اس سفید ڈبیا پر نہ تو معمول کا کوئی انتباہ درج ہے اور نہ سگریٹ نوشی سے نقصان کی کوئی تصویر۔ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے والے چاہتے ہیں کہ سگریٹ کی ہر ڈبیا پر تحریر کیا جانے والے ’انتباہ‘ کا سائز 85 فیصد تک بڑھا دینا چاہیے جیسا کہ خطے کے کئی ممالک بشمول بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں رائج ہے لیکن ابھی ان کا یہ مطالبہ پورا بھی نہیں ہوا کہ قانون سازوں نے ’سینیٹ ہاؤس‘ متعارف کروا دی۔ عام لوگ بھدے پیکٹ والی سگریٹ پیئں اور سینیٹ کے اراکین سفید صاف پیکنگ والی واہ!

حکومت ایک طرف عوام بالخصوص نوجوانوں کو سگریٹ کے مضر اثرات بارے خبردار کرتی ہے اور تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ذہین و دانشور قانون ساز سگریٹ نوشی کے اِس قدر رسیا ہیں کہ انہیں اپنے کیے کا احساس تک نہیں۔ اِس صورت حال میں صحت عامہ سے متعلق شعور کی سطح بلند ہونے کی زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے۔

وزارت صحت (حکومت پاکستان) کی جانب سے پاکستان میں فروخت ہونے والی سگریٹ کے ہر پیکٹ پر جلی حروف میں انتباہ شائع کیا جاتا ہے کہ ’تمباکو نوشی کا انجام .... منہ کا کینسر۔‘

جنوری 2015 میں وفاقی حکومت نے سگریٹ کے پیکٹوں پر مذکورہ انتباہ کا سائز 45 سے بڑھا کر 85 فیصد کرنے کا حکم (ایس آر اُو) جاری کیا تھا اور اِس اقدام کی وجہ سے اس وقت کی وزیر سائرہ افضل تارڑ کو ’عالمی ادارہ صحت‘ کی جانب سے خصوصی اعزاز سے نوازہ گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی صحت خدمات (این ایچ ایس) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’پاکستان میں ہر سال (کم سے کم) ایک لاکھ 60 لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی کل تعداد ایک کروڑ 56 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ہر انداز اسلوب اور صورت میں ’جان لیوا‘ تمباکو نوشی کے پاکستان مین پھیلنے (بڑھنے) کی ’خطرناک شرح‘ کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چھ سے 15 سال عمر کے قریب 1200 بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی لاگت 143 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کی اکثریت سرمایہ دار و جاگیردار (زمیندار) طبقات سے تعلق رکھتی ہے جو معمول کے مطابق اپنے باغات یا کھیتوں سے حاصل ہونے والی پیداوار کا تحفتاً تبادلہ کرتی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ سالہا سال سے معمول بن چکا ہے۔

سینیٹر دلاور کی جانب سے سگریٹ کی خصوصی ڈبیا ڈیزائن کروانا اور اس پر سینیٹ آف پاکستان کے نشان (logo) کی پرنٹنگ بھی اِنہی ’مہربان سلسلوں‘ کی ایک کڑی ہے‘ جس کی بارش اراکین  پارلیمان ایک دوسرے پر اور اہم انتظامی عہدوں پر تعینات بیوروکریسی بشمول صحافیوں پر وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔

انیسویں صدی کے معروف صنعت کار اور سماجی کارکن جان روسکن کا معروف قول ہے کہ ’دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ