'ہمیں مسلح جدوجہد میں ہی اپنا  پیارملا'

 اکاون سالہ پارا اپنی ساتھی مرینہ سے 1992 میں کولمبئین چھاپہ ماروں کے دستے میں شمولیت کے بعد ملے تھے۔

جب لوزمرینہ کی  اپنے ساتھی الیگزینڈر پارا سے ملاقات ہوئی تو  اس وقت  وہ زخموں کی مرہم پٹی کیا کرتیں  اورپرانی طرزکے آلات کی مدد سے  زخمیوں کے جسم  سے دھاتی ٹکڑے نکالا کرتی تھیں۔

لوز مرینہ کا  تعلق شعبہ طب سے تھا جبکہ الیگزینڈرپارا  اپنے ساتھی چھاپہ ماروں کو ان مارکسی اصولوں کی تعلیم دے رہے تھے جن  کی وجہ سےان کی یہ تنظیم وجود میں آئی تھی۔

'ہمیں مسلح جدوجہد میں ہی اپنا  پیارملا'

 اکاون سالہ پارا نے  اپنی ساتھی کی جانب سے پیارسے دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر انہوں نے وہ وقت یاد کیا جب 1992 میں کولمبیا کے  دلدلی علاقوں میں ان کی پہلی بارملاقات ہوئی تھی۔

لیکن جتنا جلدی دونوں کوایک دوسرے سے پیارہوا اتنی تیزی سے انھیں مختلف جنگی محاذوں پربھیج کرالگ کردیاگیا اورپھروہ کوئی بیس برس تک ایک دوسرے کونہ دیکھ سکے۔
مرینہ نے سوچا کہ پارا ماراگیاہوگا یہاں تک کہ  مشرقی میدانوں کے دورافتادہ کیمپ میں غیرمتوقع طورپران کی ملاقات ہوگئی۔  وہاں  جون 2017 میں کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج حکومت اورچھاپہ مارفوج کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے بعد ہتھیارڈالنے کا جشن منا رہی تھیں۔

7000کے قریب جنگجووں کوغیرفعال کردیا گیا جبکہ کولمبیا کی انقلابی فوج مسلح شورش کوچھوڑ کرپرامن سیاسی جماعت بن گئی۔

پارا نے اپنی بندوق رکھ دی اور مرینہ کوآخرکارجیل رہا کردیاگیا۔پارا کے لیے یہ بے پناہ خوشی کاموقع تھا۔خوش وخرم پارا جنہوں نے بے داغ سفید رنگ کا چھجے والا ہیٹ اوراسی رنگ کا پاجامہ پہن رکھا تھا، اب وہ اپنی زندگیاں نئے سرے سے استوارکرنے اورکولمبیا کے معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش کررہے تھے۔

وہ کیمپ ماریانہ میں  اپنے گھرمیں لکڑی کی کرسیوں پربیٹھے تھے۔یہ بستی ان 26 بستیوں میں سے ایک تھی جوحکومت نے امن معاہدے کے تحت قائم کی تھیں تاکہ سابق جنگجووں کومعاشرے کا حصہ بنایا جاسکے۔وہ ماضی کے قصے سناتے ہیں جبکہ ان کے بچے خاندان کی بلیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہیں۔ 260 میں سے بہت سے مکینوں کی طرح ان کے موجود حالات زندگی ماضی سے مختلف ہیں۔خیموں کی بجائے وہ اپنے سروں پرچھت پاکربہت خوش ہیں۔

وہ اب اپنے خاندان کاآغازکرنے کے قابل ہیں(کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج میں عورتوں کے حاملہ ہونے پرپابندی تھی اورباغیوں کے لیے اسقاط حمل لازمی تھا)مرینہ کہتی ہے ہم نے مستقبل کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ہم اگلے دن کی زندگی کا گمان تک نہیں کرتے تھے۔الیگزینڈرپارا اورمرینہ کا جوڑا جواب  کیمپ کے لیے کام کرتا ہے اس نے چھاپہ مارکارروائیاں ترک کرکے شہری زندگی کوجذبے کے ساتھ اپنایا ہے لیکن کیمپ کے بہت سے مکین نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بہت جدوجہد کررہے ہیں۔

مرینہ کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ کام کی تلاش میں جاچکے ہیں مگر ہمیشہ انہیں  جواب ملتا ہےکہ تم؟کوئی صورت نہیں،تم سابق چھاپہ مارہو۔

1964 میں کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج کے قیام سے 2،60،000انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ سترلاکھ بے گھرہوئے۔پاراکہتےہیں کہ یہ آسان نہیں ہم 53 برس سے  ہرممکن طریقے سے کولمبیا میں ایک دوسرے کوماررہے ہیں۔نفرت اورانتقام کوختم ہونے میں وقت لگے گا۔

کئی سابق جنگجووں کا یہ بھی دعویٰ ہےکہ حکومت نے ماہانہ وظیفےاورتعلیم وتربیت  کے معاملے میں اپنی جانب سے امن معاہدے پرعمل نہیں کیا ۔جنگجووں کواپنا وجود قائم رکھنے اوراردگرد کی زرعی زمین پرفصلیں کاشت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

خوف بڑھ رہا ہے کہ مواقع کی کمی اوراس مایوسی کا  فائدہ وہ باغی گروپ  اٹھاسکتے ہیں جنھوں نے غیرمسلح ہونے سے انکارکردیاتھا۔کیمپ میں موجود سرکاری امدادی کارکنوں کے مطابق یہ گروپس جن کے بارے میں خیال ہے کہ ا ن کے ارکان کی تعداد لگ بھگ 3،000ہوگی ، وہ  کیمپس میں آن موجود ہوئے ہیں اورتیزی سے بھرتی کررہے ہیں۔

یہ گروپس سابق چھاپہ ماروں کو230 ڈالرکے ماہانہ وظیفے سے چارگنا زیادہ کی پیشکش کرسکتے ہیں۔مرینہ نے بے تابی سے سوال کیا کہ معاشرے کا دوبارہ حصہ بننے کا عمل کامیاب نہ ہواتوکون ضمانت دے سکتا ہے کہ 5،000چھاپہ مارواپس نہیں جائیں گے؟باغیوں کے پاس تمام ضروری تجربہ ہے۔لیکن ایسے مکین جنھوں نے دوبارہ ہتھیارنہ اٹھانے کا عزم کررکھا ہے ان کے لیے کیمپ میں بہت امید افزا مواقع سامنے آئے ہیں۔ وہ ایسی برادری دکھائی دیتے ہیں جوآپس میں مضبوطی کے ساتھ جڑی اورخود کفیل ہے اوراسے گھرمیں جمائے یونانی دہی اورآئس کریم جیسی آسائشیں حاصل ہیں ۔ ان چیزوں کی  مکینوں کے درمیان باقاعدہ  خریدوفروخت ہوتی ہے۔

ایک ایسی ہی مثال یسینا کوئنٹیروکی ہے جنہوں  نے کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج میں چودہ  برس گزارنے کے بعد ایک بیکری بنائی ہے جوکیمپ کی سماجی سرگرمیوں کا محوربن چکی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ یہ سیکھنے کا ایک عمل تھا۔کیونکہ کوئی نہیں جانتا تھاکہ کاروبارکیسے چلایا جائے؟ لیکن ان کا ماننا ہے کہ کم عمری میں باغیوں کی فوج میں رہ کرمل جل کرکام کرنے کا جو ہنراس نے سیکھا وہ ان کے بہت کام آیا۔انہوں نے ایک غیرملکی غیرسرکاری تنظیم کی مالی معاونت کے ساتھ بیکری بنائی۔

وہ ایسی عمررسیدہ اوراکیلی ماوں کوکام دیتی ہیں جوغیرفعال ہوچکی ہیں۔وہ ان کوپیسٹریز اورمیٹھے پکوان تیارکرنا سکھاتی ہیں۔پارا اورمرینہ بھی سابق چھاپہ مارکم بیکرجیساعزم ظاہرکرتے ہیں۔پارا کہتے ہیں کہ کہ یہ آسان نہیں ہوگا لیکن ہم پرعزم ہیں۔ہمارے دل اورروح نے امن عمل کا تہیہ کررکھا ہے۔مرینہ کا یہ کہنا ہے  کہ ہمیں امن کوقائم رکھنا ہوگا کیونکہ اب ہمارے اوپرنئی ذمہ داری ہے۔اگرخود اپنے لیے نہیں توہمیں اپنے بچوں کو بہترزندگی کی ضمانت دینی ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی