بھارت سے تنازع: نیپال کا نیا نقشہ عالمی برادری کو بھجوانے کا اعلان

نیپال نے حال ہی میں نظرثانی شدہ نقشے میں لیمپیادھورا، لیپولیخ اور کالاپانی کے علاقوں کو اپنا حصہ ظاہر کیا ہے۔ یہ علاقے اس وقت بھارت کے پاس ہیں لیکن نیپال بھی ان پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

13جون 2020 کو لی گئی اس تصویر میں کھٹمنڈو میں مظاہرین نےایک بینر پر بنا ہوا  نیپال کا نیا نقشہ اٹھا رکھا ہے (تصویر: اے ایف پی)

بھارت اور نیپال کے درمیان متنازع سرحدی علاقوں پر کشیدگی جاری ہے اور کھٹمنڈو حکومت نے اگست کے وسط تک اپنا نظر ثانی شدہ نقشہ بھارت، گوگل اور بین الاقوامی تنظیموں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

نیپال نے حال ہی میں نظرثانی شدہ نقشے میں لیمپیادھورا، لیپولیخ اور کالاپانی کے علاقوں کو اپنا حصہ ظاہر کیا ہے۔ یہ علاقے اس وقت بھارت کے پاس ہیں لیکن نیپال بھی ان پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

نیپالی وزیر برائے زمینی انتظام پدما آریل نے بھارتی خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کو بتایا: ’کالاپانی، لیپولیخ اور لمپیادھورا سمیت کئی علاقے  تاریخی طور پر نیپال کا حصہ ہیں اور ہم پارلیمان سے منظور شدہ نئے نقشے کو بھارت، اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں سمیت بین الاقوامی برادری کو بھیج رہے ہیں۔ یہ عمل اس ماہ کے وسط تک مکمل ہوجائے گا۔‘

بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق نیپالی وزارت نے محکمہ پیمائش سے کہا ہے کہ نیپال کے نئے نقشے کے تازہ ترین ورژن کی چار ہزار کاپیاں انگریزی زبان میں چھاپ کر بین الاقوامی برادری کو بھیجیں۔

محکمہ پیمائش اس سے قبل نئے نقشہ کی 25 ہزار کاپیاں پہلے ہی پورے ملک میں تقسیم کر چکا ہے۔ صوبائی اور دیگر تمام سرکاری دفاتر کو یہ کاپیاں مفت دی جائیں گی جبکہ عوام اسے 50 نیپالی روپوں میں خرید سکتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے کہا ہے کہ نیپال کا یہ یکطرفہ اقدام ’تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔‘

بھارتی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام سفارتی گفت و شنید کے ذریعے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے دوطرفہ افہام و تفہیم کی پالیسی کے منافی ہے اور ’اس طرح کی خود ساختہ توسیع پسندی کو ہندوستان قبول نہیں کرے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیپالی پارلیمنٹ نے رواں سال جون میں نئے نقشے کی منظوری دی تھی جس میں ان علاقوں کو نیپالی کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کھٹمنڈو کا یہ اقدام نئی دہلی کے لیے ایک جھٹکا تھا جس کے پہلے ہی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

بھارتی افواج پہلے ہی چین اور پاکستان کی سرحد پر موجود ہیں لیکن حالیہ دنوں میں چھوٹے ہمسایہ ممالک بھوٹان، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات میں تلخی دیکھی گئی ہے۔

بھوٹان جیسے چھوٹے سے ملک نے ایک دریا کا پانی روک کر بھارت کو آنکھیں دکھائی ہیں۔ کالاندی دریا کے پانی سے بھارتی ریاست آسام کے درجنوں دیہاتوں کی زمینوں کی آبپاشی ہوتی تھی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے متنازع شہریت بل، جس میں لاکھوں بھارتی شہریوں کو بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیا گیا ہے، نے بھی نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان دوریاں پیدا کر دی ہیں اور بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش اب پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری لا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا