بھارت: محدود جنگ کی بات کیوں کی گئی؟

کشمیر کو ’آئسولیشن‘ میں دیکھنا ٹھیک نہیں۔ کیا کارگل جیسی ایک اورجنگ کی ہانڈی پک کر تیار ہو چکی ہے؟

سری نگر میں کرفیو نافذ(عمر گنائی)

فضا میں بڑی گرما گرمی ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے اس خطے میں جلد ہی کچھ ہو کر رہے گا۔ وہ ’کچھ‘ کیا ہوسکتا ہے؟ کوئی نہیں جانتا لیکن ایک معاملہ ایسا ہے جس پر پاکستان کے اندر سے بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے بھارت کےساتھ ایک محدود جنگ کی۔

کل ہی بھارت نے اس کے زیر انتظام وادی جموں و کشمیر میں کرونا کو خطرہ قرار دے کر کرفیو لگانے کا اعلان کیا ہے تو وہیں پر پاکستان نے اس کے ردعمل کے طور پر اپنے ہاں اسلام آباد کی بڑی شاہراہ ’کشمیر ہائی وے‘ کو ’سری نگر ہائی وے‘ کا نام دینے کا اعلان کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ’کام‘ دونوں طرف چل رہا ہے اور دونوں اپنے اپنے مقاصد ہر صورت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اس سال کے پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے حوالے سے خاتون کشمیری رہنما محبوبہ مفتی کا بیان اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ بھارت دراصل گذشتہ سال کشمیر کی حیثیت بدلنے کے ردعمل سے بچنا چاہتا ہے اوراس کے لیے کرونا کا بہانہ کر رہا ہے۔

اس وقت یہاں صرف خطے کی دو ایٹمی قوتیں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے معاملے پر تناو چلا آ رہا ہے بلکہ اب تو لداخ میں ہندوستان اور چین بھی الجھ چکے ہیں۔

ایسی صورت حال میں جب پاکستانی حکومت گذشتہ ایک سال سے بھارت کے ساتھ جنگ کے تمام اندازوں اورمطالبوں کو رد کر کے چُپ تھی اور خود ملک کے اندر سے اس پر ہونے والی تنقید بڑھتی جا رہی تھی، تو اب وہ کیوں ایک محدود جنگ کا سوچ سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے ذرا تھوڑا سا ماضی قریب میں جھانکنا ہوگا۔

حکومتی پالیسی سے واقفیت رکھنے والے بعض اہم افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس محدود جنگ کے لیے طویل انتظار کیا ہے کیونکہ اسے معلوم چکا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات یا اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے اسے کچھ خاص حالات کا انتظار کرنا تھا جو اب قریبا رونما ہو چکے ہیں۔

نائن الیون گو کہ پوری دنیا کے لیے حیران کن تھا اور لوگ اسے دنیا پر امریکی راج کا آغاز سمجھ رہے تھے کلیکن اس کے بعد جنگ میں جکڑا امریکہ اورابھرتی ہوئی چینی معیشت خطے کی صورت حال یکسر بدل رہا تھا۔ ایسے میں سی پیک جیسے منصوبے کا شروع کیے جانے کا اقدام اس ’محدود جنگ‘ کی پہلی سیڑھی بن بیٹھا۔

پاکستان کو پھانسنے اور اسے سی پیک سے روکنے کے لیے بھارت، اسرائیل اورچند دوسری طاقتوں کے ایما پر ایل او سی پر مسلسل اشتعال دلاتا رہا مگر پاکستان نے ایک پالیسی کے تحت جنگ میں جانے سے احتراز کر کے بھارتی خواب چکنا چورکر دیئے یہ کسے معلوم نہیں تھا کہ پاک بھارت جنگ شروع ہونے کی صورت میں اقوام متحدہ کو مداخلت کا جواز ملتا اور یہ معلوم کرنا کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ اس کی قیادت اسی امریکہ کے ہاتھ میں ہوتی جو خطے میں بھارت کو بالادست قوت بنانے کے لیے برسرپیکار تھا۔ پھراس علاقے میں ہونے والی سی پیک سمیت تمام پیش رفتیں اس وقت تک رک جاتیں جب تک کشمیر کے معاملے کا اقوام متحدہ کے ذریعے کوئی حل نہ نکل پاتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے اس انتظارکا جو پھل ملا ہے وہ یہ ہے کہ آج ایک طرف امریکہ ڈوبتی معیشت اور نسل پرستی کی تحریک سے دوچار ہے دوسری طرف چین کھل کر امریکی مقابلے میں آ گیا ہے۔ اور رہی سہی کسر مودی کے بھارت کے اندر انتہا پسندانہ پالیسی نے پوری کر دی۔

اقوام متحدہ کی طرف سے بھارت کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے اور سٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمتی قرارداد منظور کرنے  سے واضح ہوتا ہے کہ اب اقوام عالم میں چین کی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے اس لیے چین سی پیک کے تخفظ کے لیے ہر ممکن حد تک جا کر پاکستان کی حمایت کرے گا۔

دوسری طرف اس حطے میں بھارت ’اکیلے پن‘ کی طرف بظاہر جا رہا ہے۔ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیشں کے ساتھ کشیدگی بھی اس پورے کھیل کا حصہ ہے اور طویل عرصے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کی ایک دوسرے کے ساتھ بیک ڈور بات چیت بھی چل رہی ہے جبکہ ایران نے بھارت کو چاہ بہار سے نکال کر اس کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔

اب کوئی یہ بتائے کہ ان سے اچھے حالات اور کیا ہوسکتے ہیں کہ پاکستان بھارت کی ریشہ دوانیوں سے مستقل چھٹکارا حاصل کر لے۔ اس لیے پاکستان کے اندر سے اعلی سطح پر ایسی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں کہ شاید پاکستان کارگل کی طرز پر کسی ایک محدود جنگ کی طرف جائے اوراس بار پہلے سے زیادہ مضبوط علاقائی حمایت اور ظاہری وباطنی دشمن کی کمزور حیثیت کا فائدہ اٹھائے اوراگر ایسا ہو جاتا ہے تو لداخ میں چین کے ہاتھوں گہرے زخم کھائے بھارت کواپنی شرائط پر لانا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ