بیروت دھماکہ:70 سے زائد ہلاکتیں، حتمی نوعیت کا تعین باقی

دھماکے میں تاحال ستر سے زائد افراد ہلاک اور تین ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں اہم ترین بیان لبنان کے وزیر داخلہ کا ہے، جن کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بندرگاہ پر موجود امونیم نائٹریٹ کا ایک بڑا ذخیرہ پھٹا ہے۔

لبنان کے حکام کا کہنا ہے منگل کی شام درالحکومت بیروت میں ہونے والے ’پراسرار‘ دھماکے میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور تین ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جب کہ لبنانی حکومت تا حال دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کر پائی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بدھ کی صبح تک کئی لاشیں ملبے میں دبی ہوئی ہیں اور زخمیوں کو اب تک ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

تاہم اے پی کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ دھماکہ جو بحیرہ روم کے اس پار 200 کلومیٹر دور قبرص تک سنا اور محسوس کیا گیا اور جو علاقے میں 3.5 شدت کے زلزلے کا سبب بنا، اس کی نوعیت کیا تھی۔

لبنان کے وزیر داخلہ نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بندرگاہ پر موجود امونیم نائٹریٹ کا ایک بڑا ذخیرہ پھٹا ہے۔

اچانک تباہی نے ایک ایسے ملک میں مزید افراتفری پیدا کر دی جو پہلے ہی کرونا وائرس کی وبا اور شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔

لبنان کی تاریخ کے اس بدترین دھماکے کے گھنٹوں بعد بھی ایمبولینسز شہر بھر سے زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہیں جہاں تیزی سے جگہیں کم پڑ رہی ہیں۔

صحت کے حکام عوام سے خون کی فراہمی کی درخواست کر رہے ہیں جب کہ شہر دھماکے کے باعث شہر کا بجلی کا نظام ناکارہ ہونے کے بعد جنریٹرز سے ہسپتالوں اور دیگر اہم مقامات کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق بندرگاہ کے آس پاس کے علاقوں میں گاڑیاں سڑکوں پر الٹی ہوئی ہیں جب کہ ہر جانب عمارتوں کا ملبہ بکھرا پڑا ہے جن کے نیچے انسانی لاشیں دبی ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بندرگاہ پر امدادی کام جاری ہے۔

وزیر صحت حسن حماد نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 70 سے زیادہ ہلاک اور 3000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرب ریاستوں اور لبنان کے دوست ممالک کی طرف سے طبی امداد کی پیش کشیں آرہی ہیں۔

جائے وقوع پر موجود ایسوسی ایٹڈ پریس کے عملے نے بتایا کہ زخمی ہونے والے کچھ افراد بندرگاہ کے نزدیک زمین پر پڑے تھے۔ شہری دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بندرگاہ کے اندر ابھی بھی لاشیں موجود ہیں اور متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

وزیر داخلہ محمد فہمی نے ایک مقامی ٹی وی کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دھماکا 2014 سے بندرگاہ کے گودام میں پڑے دو ہزار سات سو ٹن سے زیادہ امونیم نائٹریٹ کے پھٹنے سے ہوا ہے۔ دھماکے کے بعد نارنگی رنگ کے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے تھے جس کا اخراج دھماکے کے بعد زہریلی گیس نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی صورت میں ہوتا ہے۔

مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق دھماکہ آتشبازی کے سامان کے گودام میں ہوا اور دھماکے سے قبل کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جائے حادثہ کے قریب آگ لگی ہوئی تھی۔ یہ آگ قریبی عمارت میں پھیلتی گئی جس سے زیادہ بڑے دھماکے ہوئے جو مشروم  کی شکل کے بادل اور شاک ویوز کا باعث بنے۔

بندرگاہ پر کام کرنے والے اہلکاروں نے بتایا کہ پہلے پٹاخوں جیسے چھوٹے چھوٹے دھماکے ہوئے اس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا جس نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

دوسری جانب بعض افراد اس دھماکے کے تانے بانے اسرائیل سے جوڑ رہے ہیں کیوں کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب لبنان کی جنوبی سرحد پر اسرائیل اور حزب اللہ گروپ کے مابین کشیدگی عروج پر ہے۔ بہت سے رہائشیوں نے دھماکے سے ٹھیک پہلے ہی طیاروں کی آواز سننے کی اطلاعات دی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل کے ایک سرکاری عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ اس دھماکے سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسرائیلی حکام عام طور پر ’غیر ملکی خبروں‘ پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکومت نے بین الاقوامی تعاون کے تحت لبنان کو ہنگامی امداد کی پیش کش کی ہے۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ لبنان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

 امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے بھی دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اتنی شدت کا دھماکا اس شہر کے لیے بھی حیرت انگیز تھا جس نے پندرہ سالہ خانہ جنگی، خودکش دھماکے، اسرائیل کی طرف سے بمباری اور سیاسی قتل و غارت گری دیکھی ہے۔

بیروت کے ایک شہری رمضان کا کہنا تھا: ’یہ ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔ ہم نے (سول) جنگ کے دنوں سے میں بھی اس طرح کا کچھ نہیں دیکھا۔‘

بیروت کے گورنر مروان عبود یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ ’بیروت ایک بار پھر تباہ ہو گیا۔‘

وزیر اعظم حسن دیاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس دھماکے کے ذمہ دار ان کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے بھی اس سانحے پر لبنان حکومت سے افسوس اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ عائشہ فاروقی، ترجمان وزارت خارجہ کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر بیروت مقمیم پاکستانیوں کے لیے ہیلپ لائن نمبرز بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔ 

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا