عمران غزالی کی وزارت اطلاعات میں تعیناتی صحیح یا غلط؟

تحریک انصاف کے سابق سوشل میڈیا سربراہ کی وزارت اطلاعات میں حالیہ تقرری پر شدید تنقید کی جارہی ہے تاہم عمران غزالی کا کہنا ہے کہ انہوں نے میرٹ کے مطابق اس عہدے کے لیے انٹرویو دیا اور وہ پورے جائزہ عمل سے گزرے۔

اگرچہ عمران غزالی کی تعیناتی کی منظوری ہو چکی ہے مگر انہوں نے ابھی تک عہدے کا چارج نہیں لیا (عمران غزالی/فیس بک  پیج)

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامی اور ماضی میں ان کے سوشل میڈیا کے سربراہ عمران غزالی کی وزارت اطلاعات میں بطور جنرل مینیجر ڈیجیٹل میڈیا ونگ تعیناتی کی خبر آئی تو پی ٹی آئی اور عمران غزالی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ عمران غزالی کی تعیناتی کی منظوری ہو چکی ہے مگر انہوں نے ابھی تک عہدے کا چارج نہیں سنبھالا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے عمران غزالی سے رابطہ کیا اور ان سے جاننا چاہا کہ اس تمام تنازع پر ان کا کیا موقف ہے۔

تقرری کے لیے میرٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر عمران کا کہنا تھا:’میں نے باقی امیدواروں کی طرح اس پوسٹ کے لیے اپلائی کیا تھا اور مجھے اعلیٰ سطح کے بورڈ کے سامنے طویل انٹرویو اور جائزے کے عمل سے گزرنا پڑا اور میری تقرری کی منظوری کمیٹی نے دی ہے۔‘

اس سوال پر کہ پارٹی اراکین کو سرکاری نوکریاں دینا تحریک انصاف کے ماضی کے بیانیے کی نفی تو نہیں؟ عمران غزالی نے بتایا :’میری تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ساتھ آخری پوزیشن مئی 2016 تک تھی اور وہ بھی رضاکارانہ۔ میرا گذشتہ چار سال سے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ ایک سیاسی نظریہ رکھے اور میرے خیال میں میرے تحریک انصاف کے ساتھ تعلق کی وجہ سے میرے پروفیشنل تجربے کو ڈس کریڈیٹ نہیں کرنا چاہیے۔ میرے علاوہ تعینات کیے گئے افراد میں سے کسی کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونٹ میں بھرتی کیے گئے دیگر افسران میں سید مزمل حسن زیدی کو بطور ڈیجیٹل میڈیا کنسلٹنٹ اور شہباز خان کو ڈیجیٹل کمیونیکیشنز آفیسر تعینات کیا گیا ہے اور دونوں ’لولز سٹوڈیوز‘ سے منسلک رہے ہیں۔

عمران غزالی سے جب پوچھا گیا کہ ’لولز سٹوڈیوز‘ سے منسلک دو افراد ماضی میں تحریک انصاف کے لیے ویڈیوز بناتے رہے ہیں جو کہ وزیراعظم عمران خان کے فیس بک سے بھی شیئر کی جاتی تھیں تو ان کا کہنا تھا: ’لولز سٹوڈیوز نے معیشت پر ویڈیو بنائی تھی جو تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو اچھی لگی اور انہوں نے اسے اپنے پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحریک انصاف جیو ٹی وی، ڈان، سی این این اور دیگر پلیٹ فارمز کی ویڈیو بھی شیئر کرتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیج کی طرف سے شیئر کیا جانے والا سارا مواد ’کومپرومائزڈ‘ ہے؟‘

’لولز سٹوڈیوز‘ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس پر دیگر ویڈیوز کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف حکومت کے حق میں اور ان کے بیانیے کو ترویج دینے کے لیے ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ اس سٹوڈیو کے بانی مزمل زیدی ہیں جبکہ شہباز خان اس کے شریک بانی اور چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔

’لولز سٹوڈیوز‘کے فیس بک پیج پر ایک حالیہ ویڈیو شہباز خان کی ہے، جو وزیراعظم عمران خان کے آفیشل فیس بک پیج سے بھی شیئر کی جا چکی ہے جبکہ ایک اور ویڈیو میں مزمل خان کراچی کے حالات پر حکومتی بیانیہ پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

’لولز سٹوڈیوز‘ کے فیس بک پیج پر اسی طرح کی متعدد ویڈیوز ہیں جس میں تحریک انصاف حکومت کے بیانیے کی توثیق اور توجیح پیش کی گئی ہے۔

عمران غزالی سے پوچھا گیا کہ اگر ان کا تعلق تحریک انصاف سے نہ ہوتا تو کیا انہیں یہ نوکری ملتی؟ جس پر انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ تعلق کے بغیر بھی ان کے پاس اس پوسٹ کے لیے کوائف پورے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں، میرے تحریک انصاف کے ساتھ تعلق کی وجہ سے مجھ پر بےجا تنقید کی جاتی ہے۔‘

جس یونٹ کے لیے انہیں بھرتی کیا گیا ہے اس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: ’اس سیل کا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ ڈیجیٹل میڈیا ونگ وزارت اطلاعات کے ماتحت ہے۔‘

اس تعیناتی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جمہوریت اور گورننس کے امور پر نظر رکھنے والی تنظیم پلڈاٹ (PILDAT) کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا: ’کسی سیاسی پارٹی کا رکن ہونا نااہلی کی وجہ نہیں ہو سکتا مگر سرکاری عہدہ ملنے کے بعد وہ سیاسی تحریک جاری نہیں رکھ سکتے۔‘

احمد بلال محبوب نے مزید کہا کہ ’اگر تمام قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھ کر تعیناتی ہوئی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں مگر چونکہ امیدوار ایک مشہور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور انٹرویو کمیٹی میں وزیر اطلاعات شامل تھے اور بیوروکریٹ بھی ہوں گے تو قوی امکان ہے کہ وزیر اطلاعات چونکہ انہیں جانتے ہیں تو ان کا امیدوار کے لیے نرم گوشہ ہو سکتا ہے۔‘

جب عمران غزالی سے انٹرویو کمیٹی کے اراکین کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں وزیر اطلاعات، وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد، سیکریٹری اطلاعات، جوائنٹ سیکریٹری اطلاعات، ایڈیشنل/جوائنٹ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن شامل تھے۔

وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے ہی اگست 2016 میں عمران غزالی کی جگہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس وقت عمران غزالی نے اپنی ٹویٹ میں ارسلان خالد کو اپنا دوست کہہ کر مبارک باد دی تھی۔

 

عمران غزالی کون ہیں؟

عمران غزالی کے لنکڈ ان پیج کے مطابق وہ ایک ڈیجیٹل میڈیا سٹریٹجسٹ ہیں اور انہوں نے 2009 میں امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ پروفائل کے مطابق انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی بھی بنا رکھی ہے اور برطانوی امدادی ادارے DFID کے ایک شعبے کے سوشل میڈیا سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

عمران غزالی نے بطور یونیسیف کے کنسلٹنٹ وزیراعظم عمران خان کی ’کلین گرین پاکستان مہم‘ کی میڈیا سٹریٹجی ٹیم کی سربراہی بھی کی ہے۔ عمران غزالی ’الف اعلان‘ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ پروفائل کے مطابق وہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹیم کے بانی رکن ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی آن لائن موجودگی بھی انہی کی وجہ سے ہے۔

ان کی پروفائل کے مطابق: ’ ڈیجیٹل دنیا میں 14 سالہ تجربے کے حامل عمران غزالی ڈیجیٹل میڈیا کا وسیع علم اور مہارت رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان میں سوشل میڈیا مہمات کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر ایک لاکھ 20 ہزار فالورز رکھتے ہیں۔‘

ڈیجیٹل میڈیا کے مقاصد کے حوالے سے عمران غزالی سے پوچھا گیا تو انہوں نے یونٹ کے مقاصد کے پوائنٹس انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ شیئر کیے۔ ’یہ حکومتِ پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک یونٹ کے طور پر کام کرے گا اور حقائق پر مبنی میڈیا مواد کی فراہمی کے علاوہ ڈیجیٹل تعلقات عامہ اور ڈیجیٹل میڈیا پر مستند سرکاری اپ ڈیٹس کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’حقائق کو مدِ نظر رکھنے والی نمو پزیر ٹیم مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ریاستِ پاکستان کے مفادات کی ترویج میں بھی بھرپور کردار ادا کرے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان