کرونا وائرس: پاکستان کا لاک ڈاؤن ’ختم‘ کرنے کا اعلان

حکومت نے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ملک بھر میں متعدد شعبوں پر لگائی گئی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ دنوں تاجروں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا تھا (اے ایف پی)

پاکستانی حکومت نے کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں متعدد شعبوں پر سے نافذ پابندیاں اٹھانے کا اعلان کردیا ہے۔

حکومتی اعلان کے مطابق ملک میں تعلیمی اداروں، ہوٹل اور ریستوران، سیاحت، کھیلوں، ٹرانسپورٹ اور شادی ہال وغیرہ کو کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

تاہم متعلقہ حکام کے مطابق ان تمام شعبہ جات کے لیے ایس او پیز مرتب کر لیے گئے ہیں جن پر عمل کرنا لازمی ہو گا۔

تعلیمی ادارے ستمبر میں کھولنے کے علاوہ حکومت نے بازاروں کے مخصوص اوقات اور ہفتہ وار بندش کی پابندیاں بھی اٹھا دی ہیں جبکہ ہوائی، ریل اور بسوں وغیرہ کے سفر پر بھی قدغنیں ختم کر دی گئی ہیں۔

اسی طرح مزاروں، پارکوں، جمز، کھیل کے میدانوں اور دوسری کئی جگہوں پر بھی جانے کی اجازت ہو گی۔

اکثر شعبوں کو اگست کے مہینے میں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بعض پر سے پابندیاں ستمبر میں اٹھائی جائیں گی۔

پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ جمعرات کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے بھی ان فیصلوں کی توسیع کی۔

وفاقی وزیر برائے ترقی، منصوبہ بندی اور اصلاحات اسد عمر نے این سی او سی اور کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کسی بھی جگہ یا شعبے میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیاں دوبارہ لگائی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ایک مرتبہ ختم ہونے کے بعد مہلک وائرس دوبارہ سے سر اٹھا رہا ہے۔ ’اس لیے پابندیاں اٹھنے کے باوجود احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں ہو گا۔‘

اسد عمر نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور خصوصاً عوام کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ٹیم ورک اور محنت کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے۔

وفاقی حکومت نے جن شعبوں سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

تعلیمی ادارے

وفاقی وزیر نے بتایا کہ این سی او سی نے 15 ستمبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ سات ستمبر کو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر سے بندش اٹھانے کا مزید چند دن جائزہ لیا جائے گا اور اس میں مشکلات اور خطرات کے جائزے کے علاوہ ایس او پیز کو بھی مزید موثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ہوٹل، ریستوران

ہوٹلوں اور ریستورانوں کو ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے 10 اگست سے کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور دونوں قسم کے ہوٹل اور ریستوران شامل ہوں گے۔

سیاحت کی صنعت

سیاحت کی صنعت سے متعلق مختلف شعبوں پر بھی لگائی گئی پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو آٹھ اگست سے قابل عمل ہو گا۔

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر وغیرہ میں سیاحت سے منسلک ہوٹلوں وغیرہ کو کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تفریحی شعبہ

ملک بھر میں سنیما گھر، تھیٹر اور پارکوں وغیرہ کو 10 اگست سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ تفریحی شعبے کے مختلف سیکٹرز سے متعلق تفصیلی ہدایات ترتیب دی جا رہی ہیں اور انہیں ان ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔

کھیل

این سی او سی نے پاکستان بھر میں 10 اگست سے کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں پر سے بھی پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم تماشائیوں کو سٹیڈیمز اور گراؤنڈز میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اسی طرح ان ڈور کھیلوں اور جمز پر سے بھی پابندی ہٹانے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔

ٹرانسپورٹ

اسد عمر نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے مختلف شعبوں پر سے بھی پابندیاں یکم اکتوبر سے اٹھا دی جائیں گی، تاہم اس سلسلے میں ستمبر کے آخر تک مزید غور و خوص کیا جائے گا۔

ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں اسد عمر نے فضائی سفر اور ریل گاڑی کے سفر کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں پر سے پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں اور ایئر لائنز اور ریلویز بغیر کسی پابندی کے آپریٹ کر سکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جہازوں اور ریل گاڑیوں میں موجودہ ایس او پیز پر ستمبر کے آخر تک عمل ہو گا اور یکم اکتوبر سے ایس او پیز سے متعلق اگلا فیصلہ لیا جائے گا۔

اسی طرح سڑک پر چلنے والی گاڑیوں خصوصاً مسافروں کو لانے لے جانے والی چھوٹی بڑی بسوں اور ویگنوں پر سے بھی پابندی ہٹائی جا رہی ہے اور 10 اگست سے ہی انہیں بھی کام کرنے کی پوری اجازت ہو گی۔

تاہم بسوں میں مسافروں کو کھڑے ہو کر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور دوسرے ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل کیا جائے گا۔

شادی ہال بیوٹی پارلرز

10 اگست سے ہی شادی ہالوں اور بیوٹی پارلرز کے کاروباروں سے بھی ایس او پیز کے ساتھ پابندیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

مزارات اور زیارات

پاکستانی عوام کو 10 اگست سے مزارات اور زیارات پر جانے کی اجازت ہو گی۔

تاہم عرس یا کسی بڑی سرگرمی کی صورت میں منتظمین کے لیے مقامی انتظامیہ یا صوبائی حکومت سے اجازت لینا لازمی ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بازار اور مارکیٹیں

اسد عمر نے کہا کہ ملک بھر میں بازاروں اور مارکیٹوں کے لیے جو مخصوص اوقات کار اور چھٹی کے دن مختص کیے گئے تھے، ان کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تمام کاروباری مراکز کو لاک ڈاؤن لگنے سے پہلے کے اپنے اپنے اوقات کار کے مطابق کام اور چھٹیاں کرنے کی اجازت ہو گی۔

چودہ اگست

وفاقی وزیر اسد عمر نے اس حوالے سے بتایا کہ پوری قوم یوم آزادی جوش و خروش سے منانا چاہتی ہے اور حکومت بھی اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتی، تاہم کرونا وائرس کی موجودگی میں اس سلسلے میں کچھ ہدایات جاری کی جائیں گی جن پر عمل کرنا ضروری ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ 14 اگست سے متعلق این سی او سی میں لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔

محرم الحرام

اسد عمر نے مزید کہا کہ محرم سے متعلق علما کی مشاورت سے ایس او پیز تیار کر لے گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں عوام کو ان سے مطلع کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان