بیروت: لبنان کا اوجھڑی کیمپ

حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی قبضہ چھڑوا کر جو نام کمایا تھا، آج اس تنظیم کی اختیار کردہ پالیسیوں سے ماضی کی شاندار کامیابی گہناسی جا رہی ہے۔

ایک لبنانی خاتون اپنے 25 سالہ کزن کے تابوت سے لپٹ کر اپنے غم کا اظہار کر رہی ہیں جو بیروت کے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے (اے ایف پی)

بیروت میں دھماکے سیاسی اور معاشی بحرانوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے لبنان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھے۔ کرونا (کورونا) وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر نے ’سونے پر سہاگے‘ کا کام کیا۔ دھماکوں سے ہونے والی معاشی تباہی کا تخمینہ اربوں ڈالرز لگایا جا رہا ہے۔

دھماکوں سے ہونے والی تباہی کووڈ -19 عالمی وبا کے معاشی اثرات اور گذشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد لبنان کو پہنچنے والا تیسرا بڑا صدمہ ہے۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

بیروت کے بڑے حصے میں تباہی پھیلانے والے دھماکوں کے اسباب سے متعلق بہت سی زیر گردش تفصیلات مبہم اور غیرواضح ہیں۔ تاہم لبنانی حکومت کے مطابق زور دار دھماکہ بیروت بندرگاہ کے ہینگر 12 میں 2013 کو بحق سرکار ضبطی کے بعد رکھے گئے امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں آگ لگنے سے ہوا۔

ہم پاکستان کے جڑواں شہر راولپنڈی-اسلام آباد میں 10 اپریل، 1988 کو اوجھڑی کیمپ کے مقام پر گولہ بارود کے ایک ڈپو میں بیروت پورٹ جیسی تباہی کا منظر دیکھ چکے ہیں۔ ان دھماکوں میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 103 افراد ہلاک جبکہ 1300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

بیروت دھماکے کا مرکز بندرگاہ تھی۔ ڈیپ سی پورٹ لبنان کی لاجسٹک کا مرکز ومحور تھی، جو اب مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ اس کی تعمیر نو کون کرے گا؟ بیروت کی بندرگاہ لبنان کا دھڑکتا دل تھی۔ یہاں سے ملکی معشیت کو رواں رکھنے والی 80 فیصد درآمدات کا گزر ہوتا تھا۔

 اقتصادی ماہرین کے مطابق 65 سے 85 فیصد تک خوراک کی ضروریات درآمدات کے ذریعے پورا کرنے والے ملک میں بندرگاہ کی بندش سے خوراک کی سکیورٹی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بندرگاہ کے ہینگر میں دھماکوں کے وقت 15 ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ محفوظ تھا۔

منگل کو ہونے والی تباہی کے فوڈ سکیورٹی پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوں گے۔ روٹی کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں مزید بڑھیں گی جبکہ لبنانیوں کی 50 فیصد آبادی پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بیروت کی امریکن یونیورسٹی میں فوڈ سکیورٹی پروگرام کے پروفیسر مارٹن کیلیز کے مطابق اگلے چند مہینوں میں آنے والا یہ یقینی طوفان ہے۔

لبنان کی دوسری بندرگاہ دارالحکومت کے شمال میں 80 کلومیٹر دور طرابلس کے مقام پر ہے۔ یہ بیروت کی بندرگاہ سے بہت چھوٹی ہے جہاں پر اضافی کارگو لوڈ کے انتظامات سنبھالنا مشکل امر ہو گا۔ طرابلس بندرگاہ خوراک درآمد کی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔

لبنان میں ہنگامی بنیادوں پر درآمدات کی ضرورت ہے، جس کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ دستیاب نہیں۔ لبنان میں ’ہارڈ کرنسی‘ یا نوٹوں کی شدید قلت ہے۔ لبنان کو ڈالرز کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں کے سٹورز میں دستیاب زیادہ تر اشیا امپورٹڈ (غیر ممالک سے درآمد شدہ) ہیں۔

بینکوں سے رقم نکالنے کا کوٹہ مقرر کیے جانے کے باوجود گذشتہ برس کے دوران 25 ارب ڈالرز لبنان سے باہر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ لبنانی کرنسی لیرا کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 80 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ ملکی قرضے 92 ارب ڈالرز کی ہوش ربا انتہائی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ قرضوں کی یہ رقم مجموعی قومی پیداوار کے 170 فیصد کے مساوی ہے۔

دنیا کو زندگی کی ہما ہمی سے آشنا کرانے والے مشرق وسطیٰ کے ’پیرس‘ یعنیٰ بیروت میں چشم فلک نے حالیہ دنوں میں معاشی تنگ دستی کی وجہ سے لوگوں کو خود کشیاں کرتے بھی دیکھا۔ بیروت کے الحمرا ڈسٹرکٹ اور جنوبی شہر صعدا میں متعدد افراد کی خود کشی سے لبنان کی فضا پہلے ہی سوگوار تھی۔ بندرگاہ پر دھماکوں سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی نے اس غم میں مزید اضافہ کر دیا۔

مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جہاں تیل کی دولت دستیاب نہیں، وہاں کی عوام کی زندگی بہت سی معاشی مشکلات کا شکار ہے اور لوگ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ لبنان بھی انہی ملکوں میں شامل ہے، جو شدید معاشی بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں۔

لبنان میں اس وقت سیاسی کشیدگی بھی عروج پر ہے۔ حکومت کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں اور عوام موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 15 برس [1975 ۔ 1990] تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد لبنان میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔

یہ احتجاج لبنان میں ایک دہائی میں ہونے والے سب سے بڑے اور فرقہ واریت سے بالاتر مظاہرے ہیں جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ 1975 سے لے کر 1990 تک چلنے والی خانہ جنگی کے بعد ایسا کم ہی ہوا ہے۔

ویسے لبنان میں بات پیسوں سے بہت آگے جا چکی ہے۔ لبنانی مظاہرین اپنے ملک میں گہری ہوتی فرقہ واریت کے سامنے عاجز دکھائی دیتے ہیں، جہاں پارلیمنٹ اور کابینہ میں شامل ایک جماعت فرقہ واریت کا کارڈ  انتہائی بےرحمی سے استعمال کر رہی ہے۔

حزب اللہ نے ماضی میں جنوبی لبنان کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کروا کر جو نام کمایا تھا آج تنظیم کی اختیار کردہ پالیسیوں کی وجہ سے ماضی کی شاندار کامیابی گہنا سی گئی ہے۔ حزب اللہ کی حکومتیں بلڈوز کرنے اور من مانی کی روش نے لبنان کو معاشی اور سیاسی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب لبنانی حکومت سرحد پر اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی سے بھی نمٹ رہی ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے حزب اللہ کی طرف سے لبنان کی سمت سے اسرائیلی سرحدوں میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔

ماضی میں روشنی، رنگوں اور فیشن کا ’حب‘ کہلانے والے لبنان کو درپیش سیاسی، معاشی اور فرقہ وارانہ چیلنجز کے جلو میں حوصلہ افزا خبروں کی کمی نہیں۔

بیروت میں دل دہلا دینے والے دھماکوں سے ہونے والی تباہی کے بعد ہزاروں لوگوں نے سوشل میڈیا پر بے گھر ہونے والے افراد کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھولنے کی قابل تحسین مہم کا آغاز کیا تاکہ دھماکوں سے تباہ شدہ گھروں کے باسیوں کو ضرورت کی اس گھڑی میں چھت اور امان دی جا سکے۔

دھماکوں کے فوراً بعد ہی انسٹاگرام پر ’اوپن ہاؤس لبنان‘ کے عنوان سے ایک پیج متعارف کرایا گیا جس پر متاثرین کے کوائف موجود تھے۔ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ #OurHomesAreOpen کے ذریعے اس تباہی سے محفوظ رہنے والے صارفین متاثرہ افراد کو قیام وطعام کے لیے اپنا گھر اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچانے کی خاطر سواری کی پیش کش کرتے دکھائی دیے۔

بیروت دھماکوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ بھی ہوئے، ان کی تلاش کے بعد انہیں اپنے پیاروں تک پہنچانے کے لیے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے قابل قدر کردار ادا کیا۔

اہالیان بیروت نے اسی اوللعزمی اور جواں ہمتی سے ماضی کی طویل خانہ جنگی کے بعد لبنان کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کیا۔ آج بھی زندہ دل لبنانی پرعزم ہیں کہ وہ بیروت بندرگاہ دھماکے سے ہونے والی تباہی کے اثرات سے جلد باہر نکلیں گے اور اپنے ملک کو ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ کا پیرس بنا کر دم لیں گے، اس میں یقیناً انہیں عالمی برادری اور بالخصوص عرب دنیا کا تعاون درکار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ