میں نے اٹھارہویں ترمیم دی، اس لیے مقدمات بنے: زرداری

پارک لین ریفرنس میں پیر کو سابق صدر آصف علی زرداری پر ویڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کر دیا گیا تاہم صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے سابق صدر نے اعتراض کیا کہ ان کے وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد نہیں ہو سکتا۔

آصف علی زرداری نے تمام الزامات سے انکار کیا (اے ایف پی)

پارک لین ریفرنس میں پیر کو سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کر دیا گیا۔

احتساب عدالت میں پارک لین ریفرنس کی سماعت میں سابق صدر آصف زرداری پر ویڈیو لنک کے ذریعے فردجرم عائد کیا گیا۔

آصف علی زرداری نے صحت جرم سے انکار کر دیا اور اعتراض کیا کہ ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں ہیں اور وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد نہیں ہو سکتا۔

پیر کو احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں فرد جرم عائد کرنے سے قبل عدالت نے ویڈیو لنک پر موجود تمام افراد کی حاضری لگائی۔

بلاول ہاؤس، رجسٹرار آفس کراچی اور اڈیالہ جیل میں ملزمان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضریاں لگائیں گئیں۔ ویڈیو لنک پر نو ملزمان جب کہ کمرہ عدالت میں چار ملزمان موجود تھے۔

حاضری لگنے کے بعد آصف علی زرداری جو بلاول ہاؤس کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ میں ہیں، 'آپ میرے وکیل کی غیر موجودگی میں مجھ پر فرد جرم عائد نہیں کر سکتے۔'

عدالت نے جواب دیا: 'ہم آپ سے صرف دو الزامات کے بارے میں پوچھیں گے۔'

آصف علی زرداری نے جواباً کہا: 'لیکن جواب تو میرا وکیل دے گا نا!'

انہوں نے مزید کہا: 'مجھے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے تیس سال ہو گئے ہیں اس لیے عدالتی کارروائی کا اندازہ ہے۔'

عدالت نے ریمارکس دیے:  'اگر آپ کو مقدمات کا سامنا کرتے تیس سال ہو گئے پھر تو آپ کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے، ہم آپ کو الزام پڑھ کر سناتے ہیں آپ جواب دے دیجیے گا۔ چارج شیٹ کے الزام سننے کے لیے وکیل کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ جرم مانتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔'

اس کے بعد فریمنگ آف چارج کی تحریر احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پڑھ کر سنائی۔ عدالت نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا:  'آپ نے بطور صدر پاکستان اثر انداز ہوکر قرض کی رقوم فرنٹ کمپنیوں کو جاری کروائیں۔ آپ نے بدنیتی سے اپنی فرنٹ کمپنی، پارتھینون کمپنی کو ڈیڑھ ارب کا قرضہ دلوایا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے یہ بھی کہا کہ 'آپ پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور جعل سازی کا منصوبہ بنایا اور فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یہ رقم جعلی بینک اکاؤنٹس میں بھجوائی گئی۔'

آصف علی زرداری نے جواب دیا: 'میں تمام الزامات کو رد کرتا ہوں بلکہ آپ کراچی آ کر اس عمارت کو بھی دیکھ لیں۔'

فرد جرم عائد کرنے کے بعد جج احتساب عدالت نے کراچی میں موجود پراسیکیوٹر کو آصف علی زرداری کے دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات لے کر بھجوانے کی ہدایت کی۔

آصف علی زرداری نے کہا: 'میں نے پاکستان کو اٹھارہویں ترمیم دی، اس لیے یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ کیس بنائے جا رہے ہیں۔ عدالتوں کو غیر جانبدار رہ کر فیصلہ دینا چاہیے۔ سیاسی بدنامی کے لیے ڈراما رچایا جارہا ہے۔'

جج اعظم خان نے کہا: 'اسی لیے ہم نے یکم ستمبر کو گواہوں کو بلایا ہے پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔'

عدالت نے دیگر شریک ملزمان انور مجید ، شیر علی، فاروق عبد اللہ، محمد سلیم فیصل پر بھی ویڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کر دیا۔ شریک ملزمان نے بھی صحت جرم سے انکار کیا۔

آصف زرداری سمیت مجموعی طور پر تیرہ ملزمان پر فرد جرم عائد کیا گیا۔ آصف زرداری سمیت دس افراد پارک لین ریفرنس جبکہ تین ملوث کمپنیوں (پارک لین کمپنی، پارتھینون کمپنی اور ٹریکم پرائیویٹ لمیٹڈ) پر ان کے نمائندوں کے ذریعے فرد جرم عائد کیا گیا۔

عدالت نے ملزمان پر لگائی جانے والی دفعات کی تفصیل انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے بتاتے ہوئے کہا کہ ملزمان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے سیکشن  9اے 3، 4،6،12 تحت کیس چلے گا۔

کیس کی سماعت تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ نیب کی جانب سے 61 گواہوں کی لسٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

احتساب عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے بعد آصف علی زرداری سمیت دیگر ملزمان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل کا آغاز کرتے ہوئے پارک لین ریفرنس میں نیب کے 61 گواہوں میں سے تین گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا اور کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی۔

پارک لین ریفرنس کیا ہے؟

پارک لین ریفرنس گذشتہ برس جولائی میں نیب کی جانب سے دائر کیا گیا۔ نیب نے ریفرنس میں آصف زرداری سمیت 17 ملزمان کو نامزد کیا۔

نیب کے مطابق آصف زرداری پر پارک لین کمپنی اور اس کے ذریعے اسلام آباد میں دو ہزار 460 کنال اراضی خریدنے کا الزام ہے جب کہ اس کیس میں پہلے بلاول بھٹو زرداری بھی نامزد تھے لیکن نیب کو ان کے خلاف ثبوت نہیں مل سکے تو اُن کا نام ریفرنس سے نکال دیا گیا۔

نیب کے مطابق اسلام آباد میں خریدی گئی تقریباً ڈھائی ہزار کنال زمین کی اصل مالیت دو ارب روپے ہے لیکن اسے صرف 62 کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان