نیب کے ’مضحکہ خیز‘ نوٹس میں کوئی الزام نہیں لگایا گیا: مریم نواز

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صابزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ نیب دفتر کے باہر جو کچھ ہوا وہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صابزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ نیب دفتر کے باہر جو کچھ ہوا وہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

مریم نواز کو نیب کی جانب سے منگل کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا تاہم لیگی کارکنان اور پولیس کے درمیان پتھراؤ اور تصادم کے بعد ان کی پیشی کو ملتوی کر دیا گیا۔

اس سارے واقعے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’نیب کی جانب سے جو ’مضحکہ خیز نوٹس‘ ملا تھا اس میں مجھ پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔‘

قومی احتساب بیورو نے مریم نواز کو180 ایکڑ ارضی خریداری کیس میں ذاتی طور پر طلب کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب نیب نے بلایا تھا تو پھر ان سے جوابات بھی لیتے۔

مریم نواز نے الزام لگایا کہ ’مجھے بلانے کے پیچھےمجھے نقصان پہنچانا مقصود تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ پولیس وردیوں میں افراد نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ نہیں جانتی کہ آیا وہ پولیس اہلکار تھے یا نہیں۔

 

مریم نواز نے باہر سے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ نیب نے پیشی منسوخ کرنے کی ہدایت کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا کہ انہیں الزامات پر بلایا ہے تو اب وہ جواب دے کر ہی جائیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا نواز شریف کے علاج پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے ’وہ ہمارے لیڈر ہیں ہمیں زندہ لیڈر چاہییں ان کی لاشیں نہیں۔‘

پارٹی میں دھڑوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ ایک ہی ہے جو نواز شریف کا بیانیہ ہے وہ ہی ووٹ کو عزت دو۔‘

’ہم تو یہ بھی سنتے آرہے ہیں کہ ن لیگ کے دو بیانیے ہیں اور دو دھڑے ہیں لیکن ن لیگ وہی ہے جس کا آج بھی ایک ہی لیڈر نواز شریف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بہت قربانیاں دی ہیں اب دوسروں کو بھی اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

نیب دفتر کے باہر مریم نواز کا کیا کہنا تھا؟

لیگی کارکنان کی بڑی تعداد اور رہنماؤں کے ہمراہ مریم نواز جاتی امرا سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے نیب آفس کی جانب نکلیں۔ جب ان کی ریلی نیب آفس ٹھوکر نیاز بیگ پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی کارکنوں کی ایک بڑی تعدا دموجود تھی۔

نیب آفس کے باہر پولیس نے رکاوٹیں لگا کر حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے، تاہم اچانک پولیس اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں پتھراؤ کا تبادلہ شروع ہوگیا اور بھگدڑ مچ گئی۔ اسی دوران مریم نواز کی گاڑی کی سکرین ٹوٹ گئی۔

نیب دفتر کے باہر موجود مریم نواز نے نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سوال کیا ہے تو اب جواب سنو۔‘

’احتساب سے نہ پہلے ڈری نہ اب ڈروں گی۔ 'نیب نے من گھڑت الزامات پر مجھے طلب کرلیا ہے، میں اپنی بے گناہی کا مکمل ثبوت رکھتی ہوں، میرے خلاف انتقامی کارروائیاں کسی کام نہیں آئیں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے پیغام مل رہے ہیں کہ میں یہاں سے چلی جاؤں۔‘

اس موقع پر مریم نواز کے والد میاں نواز شریف نے بھی ٹیلی فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔

ان کے علاوہ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ مریم نواز نے اس سارے واقعے سے انہیں آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے اور نیب کی مذمت کرتے ہیں۔

حکومتی ارکان کا ردعمل

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ مریم نواز پتھر اپنے ساتھ لائی تھیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ مریم نواز کی سیاست تو ویسے ہی ختم ہو چکی ہے تو انہیں لگا کہ اس طرح سے ہنگامہ کیا جائے۔

’یہ ایک سٹیج ڈرامہ تھا اور سیاست میں ایسی چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نیب کو تفتیش کے لیے اتنا طویل عرصہ نہیں لگانا چاہیے تھا۔

’جب کیسز کو اتنا وقت لگ گیا تو ظاہر ہے وہ سیاسی دباؤ ڈالیں گے۔ آج بھی یہی ہوا ہے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز انقلاب کی داعی بنی ہوئی ہیں، افسوس کی بات ہے اب تک تو ان کے کیسز مکمل ہو جانیے چاہیے تھے۔‘

نیب کا کیا کہنا ہے؟

نیب کی جانب سے اس سارے واقعے کے بعد ایک بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’مریم نواز نے کارکنان کے ذریعے منظم انداز میں غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔‘

نیب بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ مریم نواز کو ان کا موقف لینے کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا تاہم وہ کارکنان کے ہمراہ آئیں اور ’ان کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس سے عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی اہلکار زخمی ہوئے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ یہ 20 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ’ایک آئینی اور قومی ادارے کے ساتھ ایسا رویہ روا رکھا گیا ہے۔

نیب کا کہنا تھا کہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی منظوری کے بعد مسلم لیگ ن کے کارکنان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 

حکومتی کارروائی

وزیر اعلیٰ پنجاب نے مریم نواز کی پیشی پر نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی کا نوٹس لے لیا اور چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب پولیس کو قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔

نیب ذرائع کے مطابق نیب کے سامنے ہنگامہ آرائی سوچی سمجھی کارروائی ہے اور عمارت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔اس طرح کے ہتھکنڈوں سے قانونی کارروائی روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست