سانحہ بابڑہ: ’جہاں گولیوں کے پیسے بھی مقتولین کے ورثا سے لیے گئے‘

باچا خان کے پیروکاروں کی احتجاجی ریلی پر 12 اگست، 1948 کو فائرنگ میں 600 کے قریب ’خدائی خدمت گار‘ہلاک جبکہ ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

بابڑہ کے متاثرین کا ہم پر قرض ہے۔ اگر ہمیں دوبارہ اقتدار ملا تو ہم اس سانحے کا کیس دوبارہ کھولیں گے: میاں افتخار حسین (عبدالستار)

سانحہ بابڑہ کو 72 سال ہو چکے ہیں اور آج بھی اس کی یاد میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن چارسدہ میں تقریب منعقد کرتے ہیں اور یادگار پر پھول چڑھاتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے شہر سے پیوست علاقہ بابڑہ جہاں عبدالغفارخان عرف باچا خان کے پیروکاروں کی احتجاجی ریلی پر 12 اگست، 1948 کو فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ریلی میں شریک 600 کے قریب ’خدائی خدمت گار‘ ہلاک جبکہ ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

عبدالغفار خان عرف باچا خان کی رہائی کے لیے نکالی گئی اس ریلی کی شرکا، جس کی قیادت سالار امین جان کر رہے تھے، جیسے ہی بابڑہ کے مقام پر پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے ’حکم‘ کے مطابق ان پر شیلنگ کی۔

اس سال بھی غازی گل بابا مسجد میں سخت سکیورٹی میں سانحہ بابڑہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، جس میں ’خدائی خدمت گار‘، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی صدر ایمل ولی خان نے شرکت کی اور بعد ازاں بابڑہ کے مقام پر بنی یادگار پر پھول چڑھائے۔

افتخارحسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے ایک سال پورا ہونے میں دو دن باقی تھے کہ سانحہ بابڑہ کا واقعہ پیش آیا اور یہ واقعہ اس وجہ سے پیش آیا کہ صوبہ سرحد(خیبرپختونخوا) میں عبدالغفار خان کے بھائی ڈاکٹرخان صیب کی آئینی حکومت کو غیرآئینی طریقے سے ختم کرتے ہوئے ہمارے مشران باچا خان،عبدالولی خان اور دوسرے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور ان کی زمینیں ضبط کر لی گئیں تو خدائی خدمت گاروں نے ایک پرامن احتجاجی ریلی کا فیصلہ کیا۔

’پرامن جلوس پر وزیراعلیٰ سرحد عبدالقیوم خان کشمیری کے خصوصی حکم پر گولیاں برسائی گئیں جبکہ ریلی کے شرکا پرامن اور خالی ہاتھ تھے اور پہلا شہید سپین ملنگ جس کے ہاتھ میں پارٹی کا جھنڈا تھا اسے 52 گولیاں لگیں اور وہ موقعے پر دم توڑ گئے۔ اس موقعے پر علاقے کی بچیوں اور خواتین سروں پر قرآن لے کر آئیں اور منتیں کیں کہ ہمارے نہتے لوگوں پر گولیاں نہ برسائیں لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی اور ان پر گولیاں برسائی گئی۔‘

افتخار حسین نے کہا کہ اس واقعے میں عبدالولی خان کی بیوی اور میاں اسفندیار ولی خان کی والدہ تاجو بی بی کو بھی گولی لگی تھی۔ ’فائرنگ سے ہلاک کچھ شرکا کو دریا برد کردیا گیا اور کچھ ہسپتال میں طبی امداد نہ ملنے سے ہلاک ہوگئے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس وقت کے حکمرانوں نے سانحہ بابڑہ کے متاثرین اور ہلاک شدگان پر استعمال ہونے والی گولیوں کے پیسے بھی ان کے ورثا سے جمع کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور جس کے پاس پیسے نہیں تھے ان کی زمین اور گھروں کو نیلام کر کے گولیوں کی قیمت وصول کی گئی۔‘

افتخار حسین کہتے ہیں کہ ان کے پاس سانحہ بابڑہ میں قتل کیے گئے افراد کی تعداد 604 ہے، جن میں خواتین، بچے، جوان اور بوڑھے شامل ہیں۔ ’اس واقعے کو ہم اس لیے یاد کر رہے ہیں کہ خدائی خدمت گاروں کے اس کردار کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں اور جوانوں تک اس بات کو پہنچائیں کہ اس تاریخی تحریک میں جو بھی مشکلات سامنے آئیں ہم خندا پیشانی سے برداشت کریں گے اور ہمارے رہنماؤں نے جس طرح قربانیاں دیں اس کو ہم منزل مقصود تک پہنچائیں گے۔‘

پختوںوں کو کیوں ٹارگٹ کیا گیا؟

افتخارحسین کہتے ہیں کہ ’سانحہ بابڑہ میں سزا اس لیے دی گئی کہ باچا خان اور خدائی خدمت گار ایک ایسی قوت تھی کہ اس کے سامنے انگریز اور اس کے حواری نہیں ٹھہر سکتے تھے اور ان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔‘

’ان کی حکومت ختم کر دی گئی، جائیدادیں ضبط کر لیں اور حراست میں بھی لیا گیا اورعبدالغفار خان عرف باچا خان اور ان کے ساتھی مسلسل پانچ سال پانچ ماہ اور پانچ دن جیل میں رہے۔اس لیے ان کو جیل میں رکھا کہ ان کے آواز پر پختوں اکھٹے ہوتے تھے اور حکومت کے پاس نہ اکثریت تھی اور نہ عوامی تعاون حاصل تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا 'ہماری پچھلی حکومت میں ہم دہشت گردی سے نمٹنے میں مصروف رہے اور بابڑہ کے متاثرین کا ہم پر قرض ہے، اگر ہمیں دوبارہ اقتدار ملا تو ہم سانحہ بابڑہ کیس دوبارہ کھولیں گے۔'

بابڑہ کے رہائشی 77 سالہ کریم اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت وہ چار سے پانچ  سال کے تھے مگر انہیں واقعہ مکمل یاد ہے۔ کریم اللہ کے مطابق شیلنگ کے بعد گھروں کی تلاشی لی گئی اور بعد میں پولیس نے ریلی پر شیلنگ کے دوران چلنے والی گولیوں کی فی گولی 60 روپے جرمانہ لگایا اور جتنی گولیاں چلیں اس کی قیمت بھی وصول کی۔

’ہم چھوٹے تھے تو خون کے اوپر مٹی کا ڈبہ بناتے لیکن پولیس والے آکر ہمیں مار دیتے اور ہم گھروں کو بھاگ جاتے تھے۔ اتنا ظلم اس علاقے میں ہو رہا تھا کہ یہاں پر ایک شخص جس کا نام میرباز تھا اس کے دانت اور اس کی بھینس کے سینگ بھی نکالے گئے۔‘

بابڑہ چارسدہ کے ہی رہائشی باچہ گل نے بتایا کہ وہ اس وقت چھ سال کے تھے اور ان کے والد ریلی سے آگے بیگل بجا کر جا رہے تھے کہ اچانک شیلنگ کے دروان گولی لگی اور زخمی ہوگئے۔ ’انہیں میں اپنی ماں کے ساتھ مل کر زخمی حالت میں اٹھا کر گھر لے گیا جس سے ان کی جان بچ گئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ