اسرائیل، یواے ای سفارتی تعلقات کس شرط پر قائم ہوئے ہیں؟

متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا خلیجی اور تیسرا عرب ملک بن گیا ہے۔

اماراتی رہنما شیخ محمد بن زید نے بھی اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے کی تصدیق کی ہے (تصویر بشکریہ یو اے ای سفارت خانہ پاکستان)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایک 'تاریخی'معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل اپنے تعلقات کو رسمی طور پر معمول پرلے آئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اسرائیل اس مقبوضہ زمین کو اپنا حصہ نہیں بنائے گا جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس اعلان سے متحدہ عرب امارات ایسا کرنے والا پہلا خلیجی اور صرف تیسرا عرب ملک بن گیا ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہوں گے۔ اس سے پہلے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ فعال سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

 اس بات پر فلسطینی رہنما حماس نے غصے کا اظہار کیا تھا۔ حماس ایک عسکریت پسند گروپ ہے جس کی غزہ پر حکومت ہے۔ اس نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

تاہم ٹرمپ نے'تاریخی پیش رفت' کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں امن کو فروغ ملے گا۔ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ'تعاون کو تیز کرنا اور وسیع کرنا شروع کر دے گا۔'

انہوں نے کہا: 'اب جب کہ برف ٹوٹ  چکی ہے مجھے امید ہے کہ مزید عرب اور مسلمان ملک متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے۔' اماراتی رہنما شیخ محمد بن زید نے بھی خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا: 'اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ ایک فون کال کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت مزید فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنا روک دیا جائے گا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے قیام کے لیے ایک روڈمیپ تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔' ایک خلیجی ریاست کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے نومبرمیں ہونے والے ایک صدارتی انتخاب سے پہلے ٹرمپ کو ایک منفرد اور ممکنہ طورپر طاقت ور سفارتی فتح حاصل ہو گئی ہے۔

یہ فتح اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ  کروانے کی ان کوششوں کے بعد ملی ہے جو مسائل کا شکار ہونے کے بعد ختم ہو گئی تھیں۔ فلسطینی قیادت نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مؤثر انداز میں منقطع کر لیے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ'تاریخی دن'ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے قوم سے خطاب کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاہدے سے اسرائیلی وزیراعظم کی بنیامین نتن یاہو کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا جو طویل عرصے سے فخر کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلیجی ممالک کے ساتھ پس پردہ قریبی تعلقات قائم ہیں۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اپنے ان حامیوں کو جواب دینا ہو گا جنہوں نے ان پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کیا جائے حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیرقانونی ہے۔

حالیہ انتخابات سے پہلےاسرائیلی وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقے اسرائیل میں شامل کرنے کا کام فوری طور پر آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا جس کے تحت وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک تہائی حصے پر حاکمیت کا اعلان کر سکیں گے۔ ان حصوں میں مشرقی بیت المقدس اور غزہ شامل ہیں، جن کے حوالے سے فلسطینیوں کو امید ہے کہ وہ ان کی مستقبل کی ریاست کا حصہ ہوں گے۔

فلسطینی قیادت نے غصے میں آ کر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے اورایک موقعے پر اسرائیل کے ساتھ سلامتی میں تعاون بند کر دیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا