’عشقیہ‘ اور ’پیار کے صدقے‘ اختتام پذیر: اب ہم کیا دیکھیں گے؟

یہ ایسے ڈرامے تھے جو سالوں ناظرین کے دلوں پر نقش رہیں گے۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کا ڈراما  ’عشقیہ‘اور ہم ٹی وی  نیٹ ورک کا ڈراما   ’پیار کے صدقے‘رواں ہفتے اختتام پذیر ہوا۔ (پبلسٹی فوٹوز)

’عشقیہ‘ کے بعد جمعرات کی شب اس سیزن کے ایک اور ڈرامے ’پیار کے صدقے‘ کا بھی اختتام ہو گیا۔ یہ ایسے ڈرامے تھے جو سالوں ناظرین کے دلوں پر نقش رہیں گے۔

رواں ہفتے ہی اے آر وائے ڈیجیٹل پر ڈراما سیریل ’عشقیہ‘ کی بھی آخری قسط نشر ہوئی۔ ان دونوں ڈراموں کو اس سیزن کے بہترین ڈرامے کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔

پہلے بات کرتے ہیں ’عشقیہ‘ کی جو ایک سنجیدہ موضوع پر بنایا گیا ڈراما تھا جس کا اختتام بھی ٹریجڈی پر ہوا جس سے بہت سے لوگوں کے دل بھی ٹوٹے۔

محسن علی شاہ کے قلم سے تحریرکردہ اور بدر محمود کی ہدایات میں بننے والے اس ڈرامے کی کہانی تین کرداروں حمزہ، حمنہ اور رومی کے گرد گھومتی ہے۔ حمزہ  حمنہ سے پیار کرتا ہے لیکن اس کی کہیں اور شادی طے ہونے پر بدلہ لینے کے لیے اس کی بہن رومی سے شادی کر لیتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ کہ اسے بعد میں رومی سے پیار ہو جاتا ہے، جو اس کی اصلیت جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیتی ہے۔

میں نے یہ ڈراما اپنی بیگم کے ساتھ مل کر دیکھا اور آخری سین میں حمزہ کی بے بسی اور دکھ دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں۔ بیگم کے خیال میں رومی کو حمزہ کو معاف کر دینا چاہیے تھا جب کہ میرا موقف تھا کہ یہ ایک سبق آمیز کہانی تھی اور معاشرے میں ایسے افراد کو سزا ملنی ہی چاہیے۔

ڈرامے میں ہانیہ عامر، رمشا خان اور فیروز خان کی اداکاری کافی جاندار تھی جبکہ اس کا او ایس ٹی بھی کافی مقبول ہوا۔ عاصم اظہر کی آواز میں اس گانے کو صرف یو ٹیوب پر ہی ایک کروڑ کے قریب دیکھا گیا ہے۔

فلموں اور سیریز کی رینکنگ کی عالمی ویب سائٹ ’آئی ایم ڈی بی‘ کے مطابق ’عشقیہ‘ کو 93 فیصد لوگوں نے پسند کیا ہے جب کہ ویب سائٹ پر اس کی رینکنگ 7.8 رہی۔

’عشقیہ‘ کی آخری قسط کے بعد یہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹین میں ٹرینڈ کرتا رہا اور صارفین حمزہ کے حق میں لکھتے نظر آئے۔

ایک صارف نے گلہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر حمنہ کو معاف کیا جا سکتا تھا تو پھر حمزہ کو کیوں نہیں۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مرد کو قابل معافی کیوں نہیں سمجھا جاتا۔

 

دوسری جانب ’ہم ٹی وی‘ پر پیش کیا جانے والے ڈرامے ’پیار کے صدقے‘ کو اس کے معصوم کرداروں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے کبھی ناظرین کو ہنسایا تو کبھی خوب رلایا۔ 

مومنہ درید پروڈکشن کے بینر تلے بننے والے اس ڈرامے کو معروف لکھاری زنجبیل عاصم شاہ نے تحریر کیا تھا اور فاروق رند کی بہترین ہدایت کاری نے اس سکرپٹ کو چار چاند لگا دیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پیار کے صدقے‘ کی کہانی دو بھولے بھالے کرداروں عبداللہ (بلال عباس) اور ماہ جبین (یمنیٰ زیدی) کے بارے میں ہے، جن کی حادثاتی طور پر شادی ہو جاتی ہے لیکن عبداللہ کا سوتیلا باپ اپنی بہو پر بری نظر رکھنے لگتا ہے۔ عبداللہ اور ماہ جبین کی محبت آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے اور بالآخر یہ معصوم جوڑا ہمیشہ کے لیے ایک ہو جاتا ہے۔

عتیقہ اوڈھو، عمیر رانا، یمنیٰ زیدی اور بلال عباس سمیت تمام اداکاروں نے عمدہ اداکاری کے جوہر دکھائے خاص طور پر بلال عباس اور یمنیٰ زیدی کی ’معصومیت بھری‘ اداکاری نے ناظرین کے دل موہ لیے۔  

ڈرامے کا اختتام ہیپی اینڈنگ پر ہوا جسے میری بیگم نے بھی سراہا اور میری کیا مجال کہ میں بیگم کی رائے سے اختلاف کروں۔ بہرحال بہت سوں کے نزدیک یہ ایک اچھا اختتام تھا کیوں کہ بہو پر بری نظر رکھنے والے سسر کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔

اس ڈرامے پر انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے بھارتی تجزیہ کار اور یوٹیوبر راج مرلی دھرن کا کہنا تھا:  ’پیار کے صدقے پاکستانی ڈراموں سے کچھ مختلف تھا اور اس میں کچھ کلاسک ٹچ تھا۔‘

راج کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں بلال عباس اور یمنیٰ زیدی کی اداکاری بالی وڈ کی فلم ’برفی‘ میں رنبیر کپور کے کردار مرفی جانسن اور پریانکا چوپڑا کے کردار جھلمل چھترجی سے ملتا جلتا تھا۔

 راج مرلی دھرن کا مزید کہنا تھا کہ ’عشقیہ‘ نے بھی ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے اور وہ ہمیشہ پاکستانی ڈراموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو بھارت کے مقابلے میں کافی معیاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستانی ڈراما ’میرے پاس تم ہو‘ دیکھ کر رو پڑے تھے۔

یہ دونوں ڈرامے ’عشقیہ‘ اور ’پیار کے صدقے‘ ایک ہی ہفتے میں اختتام پذیر ہو گئے جس پر بیگم کا کہنا تھا کہ اب ہم پرائم ٹائم میں کیا دیکھیں گے؟ جس پر میرا جواب تھا۔۔۔ ارطغرل غازی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی