’بیروت ہزار مرتبہ مر کر ہزار دفعہ زندہ ہوا‘

چار اگست کو بیروت میں ہونے والے خوف ناک دھماکے کے بعد متاثرہ علاقے کی عمارتیں اور مکان اب کس حال میں ہیں؟

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں رواں ماہ چار اگست کو ہونے والے دھماکے میں اب تک 180 افراد کی ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ چھ ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔ دھماکے کے بعد 30 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

یہ دھماکہ بحیرہ روم کے اس پار 200 کلومیٹر دور قبرص تک سنا اور محسوس کیا گیا اور علاقے میں 3.5 شدت کے زلزلے کا سبب بنا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھماکے کے بعد  لبنانی وزیر داخلہ محمد فہمی کا بیان سامنے آیا کہ بندرگاہ کے گودام میں چھ سال سے پڑے ضبط شدہ ہزاروں ٹن امونیم نائٹریٹ کا ذخیرہ اس کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بیروت کے پورٹ پر رکھے گئے تقریباً تین ہزار ٹن امونیم نائٹریٹ کی موجودگی کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی تاہم ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق لبنان کے صدر سمیت سکیورٹی حکام اس کیمیکل کی وہاں موجودگی سے واقف تھے۔

دھماکے کے بعد بیروت میں عوامی احتجاج کا ایک سلسلہ چل نکلا تھا جس کے نتیجے میں لبنانی وزیر اعظم حسن دیاب نے اپنی کابینہ سمیت استعفی بھی دے دیا تھا۔ اس دھماکے کے بعد اب تک لوگوں کے مکانوں اور شہر بیروت کی حالت کیا ہے، دیکھیے اس ویڈیو میں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا