تین نسلوں سے لاہور اور نارووال کے درمیان کشتی چلانے والا خاندان

ہیڈ سیفن کے مقام پر دریا راوی پر باقاعدہ پل نہ ہونے کی وجہ سے شہری لوہے کی چادر سے بنی کشتی کے ذریعے دریا کے ایک سے دوسرے کنارے تک پہنچتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کا ایک خاندان کئی سالوں سے شہریوں کو لاہور اور نارووال کے درمیان کا سفر دریا روای کے ذریعے کروا رہا ہے۔

ضلع نارووال کے علاقوں نارنگ منڈی، بدوملہی، ظفروال اور شکرگڑھ سے لاہور آنے اور لاہور سے واپس جانے کے لیے سینکٹروں لوگ روزانہ ہیڈ سیفن کے مقام پر اس دریائی راستے کو شارٹ کٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اس مقام پر دریائے راوی پر باقاعدہ پل نہ ہونے کی وجہ سے شہری لوہے کی چادر سے بنی کشتی کے ذریعے دریا کے ایک سے دوسرے کنارے تک بحفاظت پہنچتے ہیں۔

اس سروس کو چلانے والے ملاح خاندان کے محمد ندیم کے مطابق یہ کشتی سروس روزانہ صبح پانچ بجے سے شام سات بجے تک چلتی ہے۔ موٹرسائیکل سواروں کا کرایہ 20 سے 25 روپے جبکہ گاڑی اور ٹریکٹر ٹرالی کے لیے کرایہ بالترتیب 50 روپے اور 100 روپے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور سے نارووال جانے کے لیے براستہ جی ٹی روڈ جلوموڑ باٹا پور کے قریب راوی سیفن کے مقام پر کئی مسافر اس خطرناک سہولت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔

شکرگڑھ کے ایک مسافر محمد شریف کا کہنا تھا: 'میں گذشتہ 20 سال سے اسی راستے شکرگڑھ نارووال اور لاہور کے درمیان سفر کرتا ہوں۔ اس راستے سے سفر کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ایک تو سفر مختصر ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی نسبت اگر مریدکے نارووال روڈ یا کالاخطائی نارووال سے سفر کیا جائے تو اس راستے میں 20 سے 25 کلو میٹر مزید سفر کرنا پڑتا ہے۔'

اس دریائی شارٹ کٹ سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے جو اپنی سبزیاں، دودھ، فصلیں اور گھریلو استعمال کی اشیا یہاں سے لے جاتے اور لاتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس مقام پر سفر خطرناک ہونے کے باوجود کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا تاہم اس مشکل کے باعث شہریوں کا کہنا ہے اگر حکومت یہاں ایک کلومیٹر دریا کے اوپر پل تعمیر کر دے تو وہ مزید آسانی سے سفر کر سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان