لوگ پوچھ رہے ہیں ن لیگ کہاں ہے، اس کا بیانیہ کدھر ہے؟

عزیمت کی تو خیر توقع ہی نہیں کہ مسلم لیگ جاہ طلبوں کی چھتری ہے۔ لیکن پارلیمان کے اندر اور باہر ایک باوقار رویے کا مظاہرہ تو کیا جا سکتا تھا کہ معلوم تو ہو یہ حزب اختلاف ہے۔

(اے ایف پی)

موجودہ پارلیمانی ڈھانچے میں مسلم لیگ ن کی حیثیت کیا ہے؟ وہ حزب اختلاف کی ایک اہم جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے یا وہ اس انتظار میں ہے کہ کب اس کی باری آئے گی، کب اسے موقع ملے گا کہ دوبارہ سے اقتدار میں آ سکے گی؟

پارلیمانی طرز حکومت محض حزب اقتدار کی ترک تازی کا نام نہیں ہوتا، ایک باوقار اور ذمہ دار حزب اختلاف بھی اس کا ناگزیر جزو ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حزب اقتدار وضع داری سے بے نیاز ہے اور حزب اختلاف عزت نفس سے۔ اہل اقتدار اس کی توہین اور ہجو میں صبح سے شام کر دیتے ہیں اور حزب اختلاف بےمزہ نہیں ہوتی۔

یاروں نے یہاں رجز پڑھے کہ ’بیانیہ صرف نواز شریف کے پاس ہے،‘ اب ان کے حلق سے دبی دبی آہ نکل رہی ہے۔ میاں صاحب کہاں ہیں، ن لیگ کہاں ہے، مزاحمت کہاں ہے۔ سکھی سہیلیاں بھی پاس وضع میں چپ ہیں کوئی انہیں یہ نہیں بتا رہا کہ مسلم لیگ ن جس عفیفہ کا نام تھا وہ ہجر میں کواڑ سے لگی کھڑی ہے اور امید کی ڈور سے مانگ سجا رکھی ہے۔ سادہ لوحوں کو معلوم ہونا چاہیے تاجر کے پاس ’بیانیہ‘ نہیں ’بیعانیہ‘ ہوتا ہے اور بیعانیہ اور عزیمت دریا کے دو کنارے ہیں کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔

عزیمت کی تو خیر توقع ہی نہیں کہ مسلم لیگ جاہ طلبوں کی چھتری ہے۔ لیکن پارلیمان کے اندر اور باہر ایک باوقار رویے کا مظاہرہ تو کیا جا سکتا تھا کہ معلوم تو ہو یہ حزب اختلاف ہے۔ افسوس ہجر کے آزار نے مسلم لیگ ن کو اس قابل بھی نہیں چھوڑا۔

بلاول ہلکی سی چٹکی کاٹ لیں کہ ہم باہر نکلیں گے اور شہباز شریف صاحب ہمارے قائد ہوں گے تو بیانیہ ساون کے بادل کی طرح جھوم کر آتا ہے اور وہیں وضاحت کر دیتا ہے کہ ہم سے اس مشقت کی توقع نہ رکھی جائے، ہم رجوع کی امید سے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نکلے توبیانیہ یو ٹرن لے کر ماڈل ٹاؤن چلا گیا۔ مولانا نیک آدمی ہیں گانے نہیں سنتے ہوں گے ورنہ انہیں نور جہاں ضرور یاد آتیں کہ ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے بیانیہ خورے کتھے رہ گیا۔‘

مولانا کے کارکن اسلام آباد کے یخ بستہ موسم میں بھیگتے رہے بیانیہ مگر ماڈل ٹاؤن کے کواڑ سے لگا سوچ رہا تھا کون سی طلاق بائن کبری ہے، رجوع ہو ہی جائے گا۔ منے کے ابا کا دل کبھی تو پسیجے گا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان پر جب ’بیعانیے‘ کی حقیقت کھلی تو کہا، ’ساری عمر سیاست دانوں سے معاملہ کیا اور سرخرو رہا، پہلی بار ایک تاجر پر اعتبار کیا اور دھوکہ کھایا۔‘ معلوم نہیں مولانا دل کا حال کب بیان کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پارلیمان کے اندر مسلم لیگ ن کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ روز اس کی عزت افزائی ہوتی ہے، روز اس کے گریبان کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں لیکن وہ مشرقی دوشیزہ کی طرح اپنے آنسو آٹے میں جذب کر کے وفا گوندھتی رہتی ہے کہ لڑکے کی تو عمر کھیلنے کودنے کی ہے ذرا سا لا ابالی اور سخت زبان بھی ہے لیکن گھر بچانا تو خاتون خانہ کی ذمہ داری ہوتا ہے۔

قانون سازی کے کتنے اہم مراحل آئے، بالعموم ایسے مراحل پر حکومت نرمی اور محبت کا رویہ اختیار کرتی ہے کیونکہ اسے حزب اختلاف کا ووٹ درکار ہوتا ہے۔ یہاں عالم یہ ہوتا ہے کہ وزرا رجز پڑھتے رہتے ہیں کہ ہمت ہے تو ذرا ووٹ نہ دینا، وزیر اعظم ایک رسمی سے خیر سگالی بھی نہیں دکھاتے لیکن پھر بھی حزب اختلاف ذرا سا بھی بدمزہ نہیں ہوتی اور جا کر ووٹ دے آتی ہے۔

آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہو یا ایف اے ٹی ایف کا حزب اختلاف خود ہی ووٹ دینے پہنچ جاتی ہے کہ کہیں آپ مجھے نکال کر پچھتا نہ رہے ہوں اس خیال سے میں محفل میں لوٹ آئی ہوں۔ بجٹ میں عمران خان حکومت پہلے سے زیادہ ووٹ لے جاتی ہے اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کی کہانی تو زبان زد عام ہے۔

پیپلز پارٹی تو حزب اختلاف ہے ہی نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وہ غیر معمولی وسائل کے ساتھ سندھ میں لطف اندوز ہو رہی ہے۔ وہ صادق سنجرانی صاحب کو جیت کے لڈو کھلائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن مسلم لیگ ن کی مشرقیت دیکھیے یہ سال بعد صرف اتنا بتا پاتی ہے کہ 14 اراکین نے وفاداری بدل کر ووٹ دوسری صف کو دے دیا تھا۔

بیانیے سے کوئی تو پوچھے، تمہارے تو لب نازک سے عزیمت پھوٹتی ہے تم نے ان اراکین کے خلاف کیا کارروائی کی؟ یاد رہے بیانیہ جب اقتدار میں تھا تو پرویز مشرف کا وزیر قانون بیانیے کا وزیر قانون تھا اور مشرف دور کا گورنر بلوچستان بیانیے کا وفاقی وزیر بن کر داد عزیمت دیا کرتا تھا۔ بیانیہ جب جلا وطنی ختم کر کے وطن لوٹا اور ایک یا دو نہیں پورے 145 ٹکٹ ایسے لوگوں کو دیے گئے، ایک عشرہ جنہوں نے پرویز مشرف کی صف میں گزارا۔

بیانیے کے ممدوحین کی سادگی پر پیار آتا ہے۔ بتاتے ہیں، ’میاں صاحب نے رات گئے شاہد خاقان عباسی کو فون پر میسج چھوڑا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو یہ بتا دیجیے اور شاہد خاقان عباسی بتانا بھول گئے۔‘

شاہد خاقان عباسی کیا گھر سے مولانا کو بتانے کے لیے نکلے تھے اور کوٹلی ستیاں کے اس پار کسی بارات کی شہنائی کے لطف میں اس پیغام کو بھول گئے؟ اور کیا میاں صاحب کے فون سے پیغام صرف شاہد خاقان عباسی کو جا سکتا تھا مولانا کے فون پر نہیں جا سکتا تھا؟

کیا مولانا کے فون کو جانے والے راستے پر کیچڑ بہت تھا جو میاں صاحب کا میسج سیدھا وہاں نہ جا سکا؟ کیا وہاں بھی ایک اورنج لائن بچھا دی جائے تا کہ بیانیہ پوری عافیت سے آ جا سکے؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ