سویڈش نرس جنہوں نے 37 سال پاکستان کی خدمت کی

صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد وینی لیکرڈل 1969 میں پاکستان آئیں اور 2007 میں ریٹائرمنٹ تک ملک کے مختلف علاقوں میں نرسنگ کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔

وینی  لیکرڈل آج کل ایک کمپنی کے لیے اردو ترجمے کا کام کرتی ہیں (تصویر: وینی لیکرڈل)

یہ دسمبر 1969 کی بات ہے جب 29 سالہ وینی لیکرڈل نے سویڈن کی پُر آسائش زندگی چھوڑ کر پاکستان میں بطور نرس خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا۔

وینی غیر شادی شدہ اور نوجوان تھیں۔ ایسے میں ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ایک الگ مزاج کی دنیا میں بس جانا، وہاں کے لوگوں میں اس حد تک گھل مل جانا کہ اسے اپنی زندگی کا حاصل ہی سمجھ بیٹھیں، کیسے ممکن ہے۔

بہرحال وینی پاکستان آئیں اور پھر اس ملک کو اپنا گھر سمجھ لیا۔ حال ہی میں انہیں حکومت پاکستان نے ساڑھے 37 سال نرسنگ کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے صلے میں صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے، جسے وصول کرنے کی تقریب اگلے سال 23 مارچ کو ہوگی۔

79 سالہ وینی نے سویڈن سے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ اپنی یادداشتیں تازہ کرتے ہوئے بتایا: ’مجھے نوعمری سے ہی دنیا دیکھنے کا شوق تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ ایک نہ ایک دن میں سویڈن سے باہر جاؤں گی۔ دنیا کے نقشے میں میری نظر برصغیر پاک و ہند پر تھی۔ پھر جب مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان کو ضرورت ہے تو مجھے محسوس ہوا کہ خدا مجھے وہاں لے کر جانا چاہتا ہے۔‘

وینی جب پاکستان آئیں تو آغاز میں انہوں نے راولپنڈی کے بستی ہسپتال میں کام شروع کیا، جہاں ان کے مطابق بیشتر مریضوں کا تعلق کچی آبادی سے تھا۔ انہوں نے بتایا: ’میں کنٹونمنٹ کے خوبصورت علاقے میں رہتی تھی۔ پانچ سال بعد ساہیوال کے مسیحی ہسپتال گئی جہاں چھ سال گزارے۔ 1981 میں میں کرسچن ہسپتال ٹیکسلا آئی اور یہاں ساڑھے 26 سال گزارے۔'

یوں انہوں نے پاکستان میں گزارے ساڑھے 37 سالوں کے دوران بہت سے مریضوں کی تیمارداری کی۔ بچوں، ماؤں اور حاملہ خواتین کا خیال رکھا اور سٹاف کے انتظامی معاملات اور سپرنٹنڈنٹ کے طور پر فرائض سنبھالے۔

چیچک اور ٹی بی کا مرض اس زمانے میں عام تھا، لہٰذا انہوں نے ایسے مریضوں کی تیمارداری بھی کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 2007 میں وینی کو واپس سویڈن لوٹنا پڑا، لیکن آج بھی ان کا ٹیکسلا کے مسیحی ہسپتال سے رابطہ برقرار ہے۔

وینی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پاکستانی دوستوں اور شناساؤں کو اکثر یاد کرتی ہیں۔ ’میں نے اپنی زندگی کا نصف حصہ پاکستان میں گزارا لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد سویڈن لوٹنا پڑا۔ یہ ملک اور خطہ ایک الگ مزاج رکھتا ہے لہٰذا مجھے دوبارہ یہاں کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وینی سے جب ان کی ذاتی زندگی سے متعلق سوال کیا گیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے کبھی شادی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنی بہنوں کی اولاد اور پوتے پوتیوں کو اپنا خاندان سمجھتی ہیں۔ ’میں نے پاکستان میں اکیلے زندگی گزاری اور یہاں بھی میری کوئی فیملی نہیں۔ میری بہنوں کی اولاد ہی میری فیملی ہے۔ پاکستان میں کچھ مردوں کی جانب سے شادی کے پیغامات آئے تھے لیکن میں جس طرح کا شریک حیات چاہتی تھی وہ اس طرح کے نہیں تھے۔‘

انہوں  نے بتایا کہ وہ آج کل ایک کمپنی کے لیے اردو ترجمے کا کام کرتی ہیں، جس سے یہ معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف اردو بول سکتی ہیں بلکہ پڑھ بھی سکتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے نام  پیغام میں کہا کہ ان کی دعا ہے پاکستان ہمیشہ شاد و آباد رہے۔ 'میری پوری کوشش ہوگی کہ اگلے سال میں بذات خود صدارتی ایوارڈ لینے پاکستان آؤں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین