سویڈن کے شہر میں قرآن کی بے حرمتی کے بعد فسادات پھوٹ پڑے

پولیس کے مطابق تین افراد کو مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرنے اور ایک نسلی گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

سویڈش شہر مالمو   کے علاقے روزنگارڈ میں مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

سویڈن کے شہر مالمو میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی بے حرمتی کے بعد فسادات پھوٹ پڑے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سویڈش پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ جنوبی شہر مالمو میں دائیں بازو کے کارکنوں نے قرآن کے ایک نسخے کو نذر آتش کر دیا تھا جس نے شہر بھر میں فسادات اور بدامنی کو جنم دیا۔

واقعے کے بعد جمعہ کی شب مشتعل افراد نے پولیس اور دیگر سروسز کی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پولیس پر مختلف اشیا پھنکیں جس سے متعدد افسران زخمی ہوگئے جب کہ 15 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

’ٹی ٹی نیوز ایجنسی‘ کے مطابق یہ پرتشدد مظاہرہ جمعہ کی دوپہر اس وقت شروع ہوا جب انتہائی دائیں بازو کی تنظیم کے کارکنوں نے قرآن کے ایک نسخے کو جلا دیا دیا، اس عمل کو فلمایا اور پھر آن لائن پوسٹ کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد میں تین افراد کو مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرنے اور ایک نسلی گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ مظاہروں پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا تاہم پولیس کنٹرول سنبھالنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ مظاہرے اسی جگہ شدت اختیار کر گئے ہیں جہاں قرآن کو نذرآتش کیا گیا تھا۔

مقامی اخبار 'ڈیلی افٹونبلاڈیٹ' کی رپورٹ کے مطابق مالمو میں جمعہ کے روز قرآن جلانے کے علاوہ اسلام مخالف متعدد سرگرمیاں بھی رونما ہوئیں۔

اخبار کے مطابق اسلام مخالف مظاہرے ڈنمارک کی دائیں بازو کی سخت گیر سیاسی جماعت کے رہنما راسمس پلوڈن کو سویڈش بارڈر پر روکے جانے کے بعد شروع ہوئے۔

سویڈش حکومت نے پلوڈن کو مالمو میں ایک اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔

 

روئٹرز اور اے ایف پی کی اضافی رپورٹنگ کے ساتھ

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ