سلل چوہدری: ’آ جا رے پردیسی‘ کا خالق ہر فن مولا موسیقار

بالی وڈ کے سنہرے دور کے صفِ اول کے موسیقار سلل چوہدری کی 25 ویں برسی کے موقعے پر خصوصی تحریر۔

حیرت کی بات یہ ہےکہ ’مدھومتی‘ جیسا سپر ہٹ میوزک دینے کے باوجود بھی سلل چوہدری بالی وڈ میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے (پبلک ڈومین)

بالی وڈ کی تاریخ کی چوٹی کے ہدایت کار بمل رائے 1952 میں بمبئی کے بین الاقوامی فلمی میلے میں ڈی سیکا کی فلم ’بائی سائیکل تھیوز‘ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

ٹرین سے واپسی پہ بمل دا سگریٹ کے کش لگاتے ایسی ہی فلم بنانے کے خواب دیکھنے لگے۔ ان کے یونٹ میں شامل ہری کیش مکھر جی کی ملاقات انہی دنوں ایک 30 سالہ بنگالی سے ہوئی جس نے ایک کہانی ’رکشے والا‘ سنائی۔ کہانی ٹیگور کی ایک نظم ’دو بیگھہ زمین‘ سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی۔

ہری کیش مکھرجی نے اس جوان سے کہا، ’بمل رائے کو ضرور سناؤ، انہیں ایسی کہانی کی تلاش ہے۔‘ بمل رائے نے سن کر کہانی پسند کی اور اس طرح اپنی کہانی کے ذریعے سلل چوہدری کلکتہ سے بمبئی پہنچے۔ انہوں نے بمل رائے سے کہا کہ کہانی میں اس شرط پر دینے کو تیار ہوں کہ بطور موسیقار مجھے موقع دیا جائے۔ 

بمل رائے پروڈکشنز کی بمبئ میں یہ پہلی فلم تھی جس نے 16 جنوری 1953 میں ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی۔ دوبیگھہ زمین سے انڈیا میں متوازی سینما کی بنیاد رکھنی پڑی اور اس کے ساتھ ایک نہایت عمدہ موسیقار بھی بمبئی کے ہاتھ لگا جسے محبت سے سلل دا کہا جانے لگا۔ 

بمل رائے نے سلل چوہدری سے کہا پہلے ہی فلم میں بد حالی اور مایوسی کے بادل بہت  گہرے ہیں، اس لیے میوزک ہلکا پھلکا ہو۔ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے سلل دا نے بہت عمدہ موسیقی ترتیب دی۔ مناڈے کی آواز میں کورس کے ہمراہ کسانوں کا گیت ’اپنی کہانی چھوڑ جا‘ ہو یا مینا کماری پر فلمائی گئی لوری ’نندیا تو آجا‘ آج بھی بالی وڈ کی بہترین لوریوں میں شمار کی جاتی ہے۔

نومبر 1925 میں مغربی بنگال میں پیدا ہونے والے سلل چوہدری کو سکول کے زمانے سے موسیقی کا شوق تھا۔ کسانوں کا معاشی استحصال اور بھوک سے مرتے بنگالیوں کو دیکھ کر وہ کالج کے زمانے سے ہی سوشلسٹ ہو گئے۔ 1944 میں جب کولکتہ یونیورسٹی میں پڑھنے آئے تو انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (iPTA) سے منسلک ہو گئے۔ اپٹا کے لیے سلل دا نے جہاں بہت سے ڈرامے اور گیت لکھے وہیں موسیقی بھی دی اور ان کے بہت سے گیت بنگال میں مشہور بھی ہوئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلل دا نے اس زمانے میں بے تحاشا سفر کیا اور ہر علاقے میں لوک موسیقی سے وابستگی پیدا کی۔ ہندوستان میں شاید ہی کوئی دوسرا موسیقار ایسا ہو جسے لوک موسیقی کا سلل چوہدری سے زیادہ علم ہو۔ کلکتہ میں کچھ نام ہو چکا تھا اور سلل دا بمبئی میں پہلی فلم سے ہی مقبولیت کی بلندی پر پہنچ گئے۔  

دو بیگھہ زمین کی شانداری کامیابی کے فورا بعد بمل رائے اور سلل چوہدری کی  تین فلمیں آئیں لیکن سوائے نوکری فلم کے گیت ’چھوٹا سا گھر ہو گا بادلوں کے بیچ‘ کوئی قابل ذکر کامیابی نہ ملی۔ جب 1954 میں بمل رائے نے فلم ’دیواس‘ بنانے کے لیے پر تولے تو اس وقت کے کامیاب ترین موسیقار نوشاد سے رابطہ کیا۔

بمبئی کی فضاؤں میں ابھی کے ایل سہگل کی دیواس گونج رہی تھی۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ویسی موسیقی میں نہیں دے سکتا، نوشاد نے بمل رائے کو مشورہ دیا کہ وہی گیت ہو بہو فلم میں شامل کر لیے جائیں۔ بمل دا سمجھ گئے کہ نوشاد پتلی گلی سے کھسکنا چاہتا ہے اور اس طرح ایس ڈی برمن سائن ہوئے۔

بمل رائے نے اپنی اگلی فلم ’مدھومتی‘ کے لیے دوبارہ ایس ڈی برمن سے بات کی تو دادا نے کہا اس موضوع کو سلل مجھ سے بہتر نبھا سکتا ہے۔

مدھومتی میں سلل چوہدری اور شیلندر کی جوڑی اپنے فن کی بلندیوں پہ نظر آتی ہے۔ آسام کے باغیچوں میں گایا جانے والا لوک میوزک مغربی آلات موسیقی کی آمیزش سے دو آتشہ ہو گیا۔ فلم ’جاگتے رہو‘ کے بیک گراؤنڈ میں ایک جگہ خانہ بدوش راج کپور پانی طلب کرتا ہے۔ پیاس کی شدت کو واضح کرنے کے لیے بیک گراؤنڈ میں میوزک بجتا ہے۔ شیلندر کو یہ چھوٹا سا ٹکڑا بہت پسند آیا اور سلل دا سے کہا اسے کمپوز کیجیے اور اس ٹکڑے پہ لکھے تین لفظ بھی سنائے ’آ جا رے پردیسی۔‘

سلل دا نے انتظار کی بے چینی اور ملن کی شدید خواہش کو اپنی دھن میں ایسا رچا کہ ہر دل کو اس میں اپنی آواز سنائی دی۔ جب گیت شروع ہوتا ہے تو لتا کی آواز دور سے آتی سنائی دیتی ہے جیسے روح کی وادیوں سے کوئی نغمہ دھیرے دھیرے لبوں تک آ رہا ہے۔ لتا نے اپنا پہلا فلم فیئر ایوارڈ اسی گیت پہ حاصل کیا، جب کہ سلل چوہدری کو اس فلم کے لیے بہترین موسیقار کا ایوارڈ دیا گیا۔

مدھومتی میں 11 گیت ہیں اور سبھی ایک سے ایک بڑھ کر۔ ’سہانا سفر اور یہ موسم حسیں،‘ ’دل تڑپ تڑپ کے کہہ رہا ہے آ بھی جا،‘ ’ٹوٹے ہوئے خوابوں نے،‘ ’جُلمی سنگ آنکھ لڑی،‘ اور ’بچھوا،‘ کس کس کی بات کی جائے سبھی گیت آج تک برابر مقبول چلے آتے ہیں۔

سلل دا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا، ’شیلندر نے میری دھنوں کو جیسے شبدوں کا روپ دیا ویسا کوئی دوسرا نہ دے سکتا تھا۔ مجھے ہمیشہ اپنے میوزک روم میں شیلندر کی کمی محسوس ہوئی۔‘

سادگی میں جیسی پر کاری سلل دا موسیقی میں دکھاتے ویسی ہی فنکاری سے شیلندر لفظوں کی مالا پروتے۔ سلل دا کا میوزک اور شیلندر کی شاعری جیسی خواب ناک فضا بناتی ہے لتا اپنی ملکوتی آواز سے چار چاند لگا دیتی ہے۔ اپنی طرز کے بہت ہی عمدہ موسیقار اور لتا کے چاہنے والے سی رام چندر نے جب ’آ جا رے پردیسی سنا‘ تو اسی وقت سلل چوہدری کے گھر پہنچے اور داد دی، ’تم نے اتنی عمدگی سے لتا کی آواز کا استعمال کیا کہ مجھے لگا سولہ سالہ دوشیزہ گا رہی ہے۔‘ 

 اس کے بعد سلل چوہدری کی تین چار ناکام فلموں کے بعد ’پرکھ‘ ریلیز ہوئی۔ بمل رائے کی اس فلم کی کہانی بھی سلل چوہدری نے لکھی تھی۔ فلم کامیاب ہوئی لیکن اس کا ایک گیت ’او سجنا برکھا بہار آئی‘ اپنی غیر معمولی اورکیسٹرائزیشن کی وجہ سے سنگ میل ثابت ہوا۔ بناؤ سنگھار سے دور صرف ماتھے پہ ایک بندیا سجائے سادہ سی دیہاتی لڑکی کا کردار نبھاتے ہوئے سادھنا اس گیت میں بہت سندر دکھائی دیتی ہیں۔

پتوں پہ گرتی بوندوں کی مدھر آواز سے اس گیت کا آغاز ہوتا ہے اور سننے والا جذباتی فضا میں بھیگتا چلا جاتا ہے۔ اس گیت میں جس مہارت سے ستار کا استعمال کیا گیا اس کا جواب نہیں۔ لتا کی رومان پرور آواز کے بغیر یہ گیت کبھی بن ہی نہ سکتا تھا۔ سلل دا نے خود بھی ایک جگہ بتایا کہ لتا ہمیشہ اس کے لیے انسپریشن رہی۔ لتا کی آواز سے والہانہ محبت لتا کے لیے بنائی گئی سلل دا کی دھنوں سے چھلکتی ہے۔ 

اسی سال ایک فلم ’اس نے کہا تھا‘ ریلیز ہوئی جس میں شیلندر کا لکھا گیت طلعت اور لتا کے بہترین دوگانوں میں شامل ہے، ’آہا رم جھم کے یہ پیارے پیارے گیت لیے۔‘ اگلے سال فلم ’چھایا‘ ریلیز ہوئی۔ موزارٹ کی چالیسویں سمفنی سے متاثر ہو کر ’اتنا نہ مجھ سے تو پیار بڑھا‘ ترتیب دیا گیا۔ جب سلل چوہدری پہ چربے کا الزام لگا تو سلل دا نے کہا ’یہ تخلیقی چربہ ہے۔ کیا یہ گیت سنتے ہوئے ایسے نہیں لگتا بھیروی بج رہی ہے؟‘

 1961 میں سلسل چوہدری کی فلم ’مایا‘ ریلیز ہوئی جو اپنے گیتوں کے ساتھ ساتھ ایک تنازع کی وجہ سے بھی یادگار ہوئی۔ بعد میں فلم کا سب سے عمدہ گیت ثابت ہونے والا دوگانا ’تصویر تری دل میں جس دن سے اتاری ہے‘ ریکارڈ کروانے کے لیے رفیع لتا نے اپنے اپنے مائیک سنبھالے۔

اس وقت دونوں کا تال میل رائیلٹی کے تنازعے کی وجہ سے بگڑا ہوا تھا۔ جب پہلا ٹیک ہو چکا تو سلل دا نے دوسرا پھر تیسرا اور اس طرح 11 بار گانا ریکارڈ کیا۔ رفیع صاحب کو ایک انترے میں مشکل کا سامنا تھا۔ لتا نے کہا، ’بس اب ریکارڈنگ کینسل کر دیتے ہیں بہت ہو گیا۔‘ سلل دا نے کسی طرح لتا کو ایک اور ٹیک کے لیے راضی کیا اور اس طرح 12ویں کوشش میں گیت اوکے ہوا۔

تلخی مزید اس طرح بڑھی جب رفیع صاحب کو لگا کہ سلل چوہدری لتا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پارہ اس وقت آخری حد تک چڑھ گیا جب لتا نے کہہ دیا، ’میں آئندہ رفیع کے ساتھ گیت نہیں گاؤں گی۔‘

رفیع صاحب انتہائی دھیمے مزاج اور ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے، لیکن ان کا پیمانہ بھی چھلک گیا اور انہوں نے لتا سے کہا، ’مجھے بھی آپ کے ساتھ گانے کی اتنی ہی خواہش جتنی آپ کو۔‘

اس طرح رفیع لتا نے تقریباً چھ سال ایک ساتھ کام نہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی لڑائی جھگڑے کی فضا میں ریکارڈ کیا جانے والا یہ گیت آج بھی دونوں عظیم گلوکاروں کے بہترین دوگانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔  

کشور کمار اور مدھو بالا کی فلم ’ہاف ٹکٹ‘ میں سلل چوہدری کے سبھی گیت پسند کیے گئے۔ ’آنکھوں میں تم‘ اور ’چاند رات تم ہو ساتھ‘ تو آج بھی مقبول ہیں۔ اس کے بعد اگلے آٹھ سال تک سلل چوہدری کی کوئی بہت کامیاب فلم ہندی سینما میں نہ آئی۔ البتہ ملیالم اور آسام میں سلل دا دھومیں مچاتے رہے۔

70 کی دہائی راجیش کھنّہ کے سٹارڈم سے طلوع ہوئی۔ گھن گرج سے ہٹ کر معمولی بجٹ کی ایک فلم ہری کیش مکھر جی نے بنائی جس کا نام تھا ’آنند۔‘ گلزار کے مکالمے، سلل دا کی موسیقی اور راجیش کھنّہ کی نہایت عمدہ اداکاری کے سبب یہ فلم امر ہو گئی۔ اس فلم کا گیت ’کہیں دور جب دن ڈھل جائے‘ آج بھی نہ صرف مکیش بلکہ بالی وڈ کے بہترین گیتوں میں شامل ہوتا ہے۔  

’زندگی کیسی ہے پہیلی،‘ ’میں نے تیرے لیے ہی سات رنگ کے سپنے چنے،‘ اور ’نہ جیا لاگے نا‘ بھی اپنے پورے رچاؤ کے ساتھ سنتے ہی دل میں گھر کر جاتے ہیں۔ 

’آنند‘ کی شاندار کامیابی کے بعد سلل دا کی اچھی فلم تین سال بعد آئی۔ اس دوران میں وہ فلمیں تو کرتے رہے لیکن بات نہ بن سکی۔ 1974 میں آئی فلم ’رجنی گندھ‘ میں سلل چوہدری دوبارہ اپنی موجودگی کا پوری طرح احساس دلاتے ہیں۔ اس فلم میں دو گیت تھے اور دونوں سپر ہٹ رہے۔ ’کئی بار یوں بھی دیکھا ہے‘ پر مکیش کو نیشنل فلم فئیر ایوارڈ بھی ملا۔ اسی فلم میں ’پھول تمہارے‘ لتا کی آواز میں آج بھی مہکتا ہے۔

اگلے سال آنے والی فلم ’چھوٹی سی بات‘ کا مرکزی گیت ’نہ جانے کیوں ہوتا ہے یہ زندگی کے ساتھ‘ سلل دا کے آخری مقبول ترین گیتوں میں سے ایک ہے۔

سلل دا کم و بیش مزید 15 سال تک میوزک دیتے رہے لیکن ایک بھی ہندی فلم یادگار نہ ہو سکی۔

سلل دا کا سب سے بڑا مسئلہ عدم تسلسل تھا۔ بڑے بینروں کی فلمیں ملنے کے باوجود اچھی دھن کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑتا۔ سلل دا کا اچھا گیت بہت ہی اچھا ہوتا ہے لیکن برے گیتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ عدم تسلسل کی شاید ایک وجہ سلل چوہدری کے کام کا پھیلاؤ تھا۔ ایک پاؤں بمبئی تو دوسرا کلکتہ میں ہوتا کہ اچانک  تیسری طرف ملیالم میں سلل چوہدری کی فلم دھوم مچا دیتی۔

اس کے ساتھ وہ بنگالی میں شاعری، ڈراما اور کہانی بھی لکھتے رہے۔ سلل دا نے 13 سے زیادہ زبانوں میں 150 سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ جن میں ہندی کی 75، بنگالی کی 41 اور ملیالم کی 27 فلمیں شامل ہیں۔ 

سلل چوہدری کو امر کرنے کے لیے مدھومتی کی موسیقی ہی کافی ہے۔ ہندوستانی سینما کی بہترین میوزیکل فلمز کی فہرست جتنی بھی مختصر ہو، مدھومتی کو نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں۔ مدھومتی کے علاوہ سلل دا کے دس بہترین گیت پیشِ خدمت ہیں:

او سجنا برکھا بہار آئی             ( لتا: پرکھ)

کہیں دور جب دن ڈھل جائے ( مکیش: آنند)

اتنا نہ مجھ سے تو پیار بڑھا     (طلعت، لتا: چھایا) 

تصویر تیری دل میں             ( رفیع لتا: مایا) 

جا رے جا رے اڑ جا رے پنچھی (لتا: مایا)

نہ جیا لگے نا تیرے بنا          (لتا: آنند) 

آجا رے آ نندیا تو آ            ( لتا: دو بیگھہ زمین)

کئی بار یوں بھی دیکھا ہے     ( مکیش: رجنی گندھا) 

رات نے کیا کیا خواب دکھائے ( طلعت: اک گاؤں کی کہانی)

دھرتی کہے پکار کے              ( منا ڈے لتا: دو بیگھہ زمین)

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی