ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، ماجرا کیا ہے؟

کئی دہائیوں بعد ادویات کی قیمتوں میں اضافے سےعوام بالخصوص مریض سخت مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

فائل فوٹو۔ اے ایف پی

پاکستان میں کئی دہائیوں کے بعد ادویات کی قیمتوں میں اضافے سےعوام بالخصوص مریض سخت مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

پیٹرول، گیس اور بجلی  کے نرخوں میں اضافے کے بعد ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان  (ڈریپ) نے 10 جنوری 2019 کو وفاقی حکومت کی منظوری سے عام ادویات میں 15 جبکہ جان بچانے والی ادویات میں نو فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈریپ کا کہنا ہے کہ ادویات میں 15 فیصد تک اضافہ سپریم کورٹ کے پچھلے سال 14 نومبر کےفیصلے کو روشنی میں کیا گیا۔

فارمیسی پر ادویات فروخت کرنے والوں نے بتایا کہ قیمتوں  میں اوسطاً 100 فیصد تک  اضافے کے بعد مریضوں کی قوت خرید کم ہو گئی ہے  اور جہاں مریض پہلے ایک ہفتے یا پانچ دن کی خوراک لیتے تھے وہیں انہوں نے اسے ایک سے دو دن کی خوراک تک محدود کر دیا ہے۔

میڈیا پرقیمتوں میں من مانے اضافے کی خبروں کے بعد وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے ڈریپ کو ایسی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔

 وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کی جانب سے  ڈریپ کے صوبائی دفاتر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ دواؤں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرنے والے بد عنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تمام ادویات کی مقررہ نرخوں پر فروخت  یقینی بنائی جائے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ زیادہ قیمتوں پر ادویات بیچنے والوں کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے، جس کے بعد  ڈریپ نے ملک گیر کارروائیوں کا آغاز  کرتے ہوئے اب تک 31 فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دوائیاں بنانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ  ان پر ڈرگ ایکٹ کے تحت مقدمے  بھی درج کر  لیے ہیں۔

کارروائیوں کے دوران زائد قیمت پر فروخت کی جانے والی 143 ادویات بھی ضبط کی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین زاہد سعید کے مطابق قیمتوں میں اضافہ راتوں رات  نہیں ہوا۔ ’یہ قیمتیں تقریبا ساڑھے چار سال سے منجمد تھیں اور اس حوالے سے کئی مقدمات ہائی کورٹس میں تھے۔ سپریم کورٹ نے ان مقدمات کو اپنے پاس طلب کرتے ہوئے ان کا جائزہ لیا اور کہا  کہ مقدمات کے جون 2018 کی پالیسی کے تحت فیصلے کیے جائیں۔‘

زاہد سعید نے بتایا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 31 دسمبر، 2018 کو جاری ہونے والے ڈریپ کے  ایس آر او کے تحت  550 ہارڈ شپ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ دیا گیا۔ ’یہ ضروری ادویات چونکہ 15 سالوں میں قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے دستیاب نہیں رہی تھیں لہذا ان کے اندر پچھلے 15 سالوں کو مدنظر رکھ کر اضافہ کیا گیا۔ ‘

پھر 10 جنوری 2019 کو ڈریپ کا ایک اور ایس آر او نکلا جس کے تحت تمام ادویات میں 15 فیصد جبکہ ہارڈ شپ ادویات پر 9 فیصداضافے کی اجازت ملی۔

زاہد سعید کا کہنا تھا کہ میڈیا اور عوام ان دونوں ایس آراوز کو آپس میں کنفیوز کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام ادویات کی قیمتیں ڈریپ کنٹرول کرتی ہے اور ایسا پورے خطے میں نہیں ہوتا۔’ بھارت میں کُل 254 ضروری ادویات کو کنٹرول کیا جاتا ہے باقی سب کو ڈی کنٹرول کر دیا گیا ہے۔اسی طرح بنگلہ دیش میں 54 ضروری دوائیں کنٹرول ہوتی ہیں باقی ادویات کی قیمتیں مارکیٹ خود طے کرتی ہے۔‘

قیمتوں میں اضافہ ہائی کورٹ میں چیلنج

ڈریپ کے جنوری میں جاری ہونے والے ایس آر او  کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ادویات میں من مانے اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں  چیلنج کر دیا گیا ہے۔

لاہور میں ندیم سرور نامی وکیل کی جانب سے  دائر رٹ پٹیشن میں وفاقی اور صوبائی صحت اتھارٹیز کو فریق بناتے ہوئے  موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصدتک اضافہ منظور ہوا تھا لیکن کمپنیوں نے ان میں 100 فیصد تک غیر قانونی اضافہ کر دیا۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ  قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کو ختم کرتے ہوئے ڈریپ کے 15 فیصد اضافے کے نوٹیفیکیشن کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔درخواست گزار نے عدالت سے کہا  کہ وہ حکومت کو قیمتیں مقرر کرنے کافارمولہ بنانے کا بھی حکم دے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

قیمتوں میں راتوں رات ہوش ربا  اضافے پر سوشل میڈیا پر بھی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔

 کئی صارفین نے ادویات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پرانی اور نئی قیمتوں کا موازنہ  دیکھایا۔

ایک صارف احسن علی نے دوائی کی پرانی اور نئی قیمتوں کو پرانے اور نئے پاکستان سے تشبیہ دے ڈالی۔

اسی طرح فریڈم ٹالک۔ نیٹ نے ٹوئٹ کی ـ’ڈوبتی معیشت اور ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ۔ کیا پاکستان وینزویلا بننے جا رہا ہے؟

جبکہ سید آصف علی شاہ نے ٹوئٹ کی: عمران خان ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، لیکن یہ وہ نیا پاکستان نہیں جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا۔

تنویر حسین نے ٹوئٹ میں کہا: نئے پاکستان میں عوام کو جو سہولیات میسر تھیں وہ حکومت نے چھین لی ہیں۔ علاج معالجے، طبی ٹیسٹ اور دوائیاں غریبوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ یہ نیا پاکستان ہے؟ یہ ہے تبدیلی؟

 

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت