کہنا مشکل ہے کہ مذاکرات کتنے طویل ہو سکتے ہیں: ترجمان طالبان

افغان حکومت کے وفد نے مذاکرات کے پہلے ہی دن ملک میں جنگ بندی کے اعلان کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ تاہم طالبان کے وفد نے اس مطالبہ پر بات کرنے سے گریز کیا۔

(اے ایف پی)

افغانستان میں قیام امن ممکن بنانے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات کے پہلے مرحلہ میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان رسمی بات چیت کا طریقہ کار، ایجنڈا اور ضابطہ اخلاق طے کیے جا رہے ہیں۔

اس بات کا انکشاف افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم وردک نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا رسمی طریقہ کار اور حتی کہ ایجنڈا بھی پہلے سے طے نہیں تھا۔ اس لیے سب سے پہلا کام دونوں فریقوں کے درمیان ان معاملات پر اتفاق ضروری ہے۔

افغانستان میں گذشتہ انیس سال سے جاری جنگ بندی کے خاتمہ کے لیے ہفتہ کے روز دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ افغان جنگجو گروہ طالبان اور کابل میں صدر اشرف غنی کی حکومت رسمی مذاکرات کے لیے آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ 

ویسے تو افغانستان لگ بھگ چار دہائیوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ تاہم ستمبر 2001 میں امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی (نائن الیون) کے واقعات کے بعد امریکہ کی رہنمائی میں اتحادی افواج نے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ تب سے پاکستان کے مغربی ہمسایہ ملک میں جنگوں کا نیا سلسلہ جاری ہے۔  

اس سال فروری میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے پایا۔ جس کے نتیجہ میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجوں کا انخلا شروع کیا۔ اور طالبان جنگجو گروہ کے رہنما بین الافغان مذاکرات پر راضی ہوئے۔ 

بین الافغان مذاکرات میں افغان حکومت کے وفد کی سربراہی چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کر رہے ہیں۔ جبکہ افغان طالبان کے مذاکراتی ٹیم لیڈر قطر میں تنظیم کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر ہیں۔

افغان حکومت کے وفد نے مذاکرات کے پہلے ہی دن ملک میں جنگ بندی کے اعلان کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ تاہم طالبان کے وفد نے اس مطالبہ پر بات کرنے سے گریز کیا۔

ڈاکٹر نعیم وردک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا:جب تک رسمی بات چیت کا کوئی فریم ورک طے نہیں ہو جاتا کسی دوسرے ایشو پر بات نہیں ہو سکتی۔

فریم ورک اور ایجنڈے کے طے کیے بغیر فریقین کے لیے اہم نوعیت کے نکات پر بحث کرنا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے  مزید کہا کہ بین الافغان مذاکرات کا پہلے طے شدہ ایجنڈا صرف بات چیت کرنا تھا۔ کن کن امور پر گفتگو ہو سکتی ہے اور یہ گفتگو کیسے ہو گی؟ یہ تمام فیصلے مذاکرات کے ان ابتدائی مراحل میں طے کیے جائیں گے۔

پیر کے روز دونوں اطراف نے مذاکرات کا فریم ورک طے کرنے کے لیے ایک مسودہ تیار کیا تھا۔ جس پر گفتگو کے لیے منگل کی شام دونوں فریقین کے کنٹیکٹ گروپس نے ملاقات کی۔

منگل کی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ رسمی بات چیت کے لیے فریم ورک طے پا جانے کے بعد ہی مذاکراتی ایجنڈے اور شیڈول پر گفتگو شروع کی جائے گی۔ 

ڈاکٹر نعیم وردک نے ٹوئیٹر پر پیغامات میں بتایا: فریم ورک پر زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب محض تھوڑے سے حصہ پر حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منگل کے اجلاس میں دونوں اطراف نے اپنے اپنے رابطہ افسران بھی تعینات کیے۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں بتایا: اجلاس میں بین الافغان مذاکرات کے دوران دونوں اطراف نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال پر کہ دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کتنے عرصہ تک چل سکتے ہیں ڈاکٹر نعیم وردک نے کہا: اس سلسلہ میں وقت کا تعین کرنا مشکل ہو گا۔ اس عمل پر وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کافی سارے ایشوز ہیں جو بین الافغان مذاکرات میں اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اس لیے کہنا مشکل ہے کہ مذاکرات کتنے طویل ہو سکتے ہیں۔

 ایک بین الاقوامی جریدہ میں طالبان رہنماوں کی طرف سے کابل میں حکومت قائم کرنے، یا کم از کم پانچ وزارتیں حاصل کرنے اور خواتین کو حکومتی امور میں شامل کرنے سے متعلق خواہشات سے متعلق سوال پر ڈاکٹر نعیم وردک کا کہنا تھا: یہ اور ان جیسے دوسرے تمام معاملات پر بعد کے مراحل میں گفتگو ہو گی۔ ابھی اس متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

ڈاکٹر نعیم وردک نے منگل کو رات گئے بھی ٹوئیٹر پر پیغامات جاری کیے۔ جن میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا اصل مقصد افغانستان میں اسلامی حکومت کا قیام ہے۔ اور افغان طالبان اپنی سرزمین کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان امریکہ کے ساتھ فوروری میں ہونے والے معاہدہ کے پابند ہیں۔ اور دوسرے فریق کو بھی اس کی سختی سے پابندی کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ افغانوں کو اپنے مسائل خود حل کرنا چاہیے اور کسی غیر ملکی جماعت کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

افغانستان میں تقریبا بیس سال قبل طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ جبکہ ملک کی معیشت بکھر رہی ہے۔ جس نے لاکھوں شہریوں کو غربت میں دھکیل دیا ہے۔

گذشتہ ہفتہ کے آخری ایام میں افغانستان کے مختلف حصوں میں مبینہ طور پر طالبان جنگجووں کے حملوں میں گیارہ پولیس اہلکار ہلاک  ہوئے تھے۔

اس سال فروری میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدہ میں جنگی قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات کا ممکن ہونا طے پایا تھا۔

تاہم بعض قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کے باعث مذاکرات چھ مہینے دیر سے شروع ہوئے۔

امریکہ طالبان معاہدے کی شرائط کے تحت تمام غیر ملکی فوجوں کو 2021 افغانستان چھوڑنا ہے۔

اسی معاہدہ کے تحت طالبان نے ایک ہزار افغان فوجیوں کو اور کابل انتظامیہ نے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا