اسرائیل کے دو معاہدے، 'نئے مشرق وسطیٰ' کا آغاز؟

وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے یو اے ای اور بحرین سے معاہدے کی تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: 'ہم تاریخ کا رخ تبدیل کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ دہائیوں سے جاری تقسیم اور لڑائی کے بعد ہم نئے مشرق وسطیٰ کا آغاز کر رہے ہیں۔'

(بائیں سے دائیں)وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو،امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان  موجود  ہیں (تصویر: اے ایف پی)

اسرائیل نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب میں دو خلیجی عرب ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ دو تاریخی سفارتی معاہدوں پر دستخط کیے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'نئے مشرق وسطیٰ' کا آغاز قرار دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے  مطابق ان دو طرفہ معاہدوں سے اسرائیل کے ایران کے مخالف متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات کے پہلے سے جاری معمول پر آنے کے عمل کو رسمی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

تاہم ان معاہدوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ فلسطینی ان معاہدوں کو عرب ممالک کی جانب سے اپنی 'پیٹھ میں خنجر' اور 'مسئلہ فلسطین کے حل سے غداری' کے طور پر دیکھتے ہیں۔

معاہدوں پر دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقعے پر کرونا (کورونا) وائرس کے پیش نظر سماجی دوری کے ضابطے کو نظرانداز کیا گیا جبکہ کئی شرکا نے ماسک بھی نہیں لگایا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لان کے اوپر موجود بالکونی سے تقریب سے خطاب میں کہا: 'اس سہ پہر ہم تاریخ کا رخ تبدیل کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ دہائیوں سے جاری تقسیم اور لڑائی کے بعد ہم نئے مشرق وسطیٰ کا آغاز کر رہے ہیں۔'

اس موقعے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ یہ دن 'تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ امن کے نئے دور کی خبر سنا رہا ہے۔'

اپنی تقریر میں نہ تو نتن یاہو اور نہ ہی ٹرمپ نے فلسطینیوں کا ذکر کیا، تاہم متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں بات کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا عمل روکنے پر اسرائیلی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

اس علاقے پر فلسطینیوں کا دعویٰ ہے، جسے اسرائیل کا حصہ بنانے کی شرط پر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا، تاہم نتن یاہو کا اصرار ہےکہ اسرائیل نے مغربی کنارے کی بستیوں کو اپنا حصہ بنانے کی کارروائی کو صرف معطل کیا ہے۔

تقریب سے خطاب میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'آج ہم مشرق کے عین وسط میں پہلے سے جاری تبدیلی کا عمل دیکھ رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے دنیا بھر کو امید ملے گی۔'

اس موقعے پر بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے کہا: 'بحرین فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ آج کا دن تاریخی موقع اور امید کا لمحہ ہے۔'

وائٹ ہاؤس میں معاہدے کے تقریب کے موقعے پر غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر دو راکٹ داغے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایک راکٹ کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔

اس سے قبل فلسطینیوں نے مغربی کنارے اور غزہ میں چھوٹے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے اور ٹرمپ، نتن یاہو، اماراتی اور بحرینی رہنماؤں کی تصاویر نذر آتش کیں۔

تقریب سے پہلے صدر ٹرمپ نے رپورٹروں کو بتایا کہ ہم پانچ مختلف ملکوں کے ساتھ راستے پر سفر کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا