اندازہ نہیں تھا کتاب کے ٹائٹل پر ایسا ردعمل آئے گا: سہیل وڑائچ

مقتدر حلقوں کی جانب سے کتاب کے ٹائٹل پر مبینہ اعتراض کے بعد سہیل وڑائچ کی کتاب مارکیٹ سے اٹھا لی گئی، لیکن چند دنوں بعد یہ کتاب نئے ٹائٹل کے ساتھ دوبارہ پیش کی جائے گی۔

اس کتاب کے بک سٹالز پر سے اچانک غائب ہونے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے (سوشل میڈیا)

پاکستان کے معروف اینکر اور صحافی سہیل وڑائچ کی کتاب ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘ فروخت ہونے سے پہلے ہی مارکیٹ سے غائب ہو گئی ہے۔

ان کی کتاب بک سٹالز پر تو آئی مگر اسے مبینہ طور پر پاکستان کے کچھ ریاستی اداروں کی جانب سے اعتراض کے بعد ہٹوا دیا گیا۔ کتاب کے بک سٹالز پر سے اچانک غائب ہونے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگ اس کے مخالفت اور حق میں رائے دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے سہیل وڑائچ  نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کتاب لکھنا کوئی بہت بڑا کاروبار نہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کسی حکمت عملی کے تحت کامیاب بنانے کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ اپنی کتاب کے ٹائٹل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’کتاب میں ایسے کالموں کا مجموعہ ہے جو پہلے ہی شائع ہوچکے ہیں لیکن اعتراض اس کے سرورق پر لگی تصویر پر اٹھایا گیا ہے۔

'ہم صحافی ہیں پروفیشنل مصنف تو ہیں نہیں کہ اندازہ ہو سکے کہ کیسے کتاب کو شہرت ملے گی۔ دوسرا یہ کہ ٹائٹل پر لگی تصویر پاکستان کے معروف کارٹونسٹ صابر نذر نے بنائی ہے، جن کے اکثر و بیشتر کارٹون پہلے بھی چھپتے رہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی مقبولیت سے متعلق انہیں کوئی اندازہ نہیں تاہم بعض حلقوں کے اعتراض  پر اس کا ٹائٹل تبدیل کر رہے ہیں، ہفتے دس دن بعد نئے ٹائٹل کے ساتھ یہ کتاب مارکیٹ میں لائی جائے گی۔

ان کے خیال میں اس ٹائٹل میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں کیونکہ خاکے کو عموماً سنجیدگی کی بجائے ہلکے پھلے انداز میں لیا جاتا ہے۔ 'میرا مقصد صرف اپنی کتاب کے مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دلچسپ ٹائٹل کے ذریعے قارئین کی توجہ حاصل کرنا تھا، جیسے ہر مصنف نئے آئیڈیاز سے اپنی تصانیف اور کتابوں کے ٹائٹل کو دلچسپ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔' سہیل وڑائچ کو اب بھی اندازہ نہیں کہ جب ان کی کتاب نئے ٹائٹل کے ساتھ مارکیٹ میں آئے گی تو اس کو کتنے لوگ پڑھنا چاہیں گے۔ 

ٹائٹل پر اعتراض اور اس کے اثرات

 تجزیہ کار امتیاز عالم کے مطابق اس طرح کے اعتراضات آزادی اظہار کے خلاف ہیں۔ ’کارٹون مزاح کی نمائندگی کرتے ہیں، اعتراض کرنے والے معاشرے سے مزاح ختم کرنا چاہتے ہیں جب ایسا ہو تو فکری گھٹن پیدا ہوتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کارٹون سے حکومتی فارمیشن کی عکاسی کی گئی ہے جو حقائق پر مبنی ہے اور کسی کو بھی اس کے اظہار کی آزادی کا حق ہے۔ اس پر اعتراض اس لیے کیا گیا کہ اس کارٹون میں مزاحیہ انداز سے حقیقت دکھائی گئی کہ عمران خان کی حکومت کہاں سے کنٹرول ہو رہی ہے اور سٹیبلشمنٹ کا کردار کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہاں مذہبی منافرت اور فرقہ ورانہ مواد سے متعلق لٹریچرعام  ہے اس کے ذمہ داروں کو کوئی پکڑ نہیں سکتا جبکہ حقائق لکھنے بولنے اور دکھانے پر اعتراض ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسے اعتراض تخلیقی اور تحقیقی کام کو روکنے کا موجب ہیں کیونکہ سرکاری سچ سچ  ہو جائے تو جھوٹ کہاں ڈھونڈیں گے؟ امتیاز عالم کے مطابق فکر کو تحقیق کو تخلیق اور تنقید کو کھلا چھوڑنا چاہیے لوگ خود فیصلہ کریں کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے۔

کسی معاملے کی نشاندہی قانونی حق ہے؟

یہ سوال جب پاکستان میں کئی کتابوں کے مصنف وجاہت مسعود سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کسی کی خواہش یا اعتراض کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی کیونکہ ریاست میں آئین موجود ہے جس کے آرٹیکل 19 میں ہر پاکستانی شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کارٹونسٹ خاکہ نگاری کرتے ہیں جن کو مسخ آئینہ قرار دیا گیا ہے۔ کارٹونسٹ اپنے فن سے معاشرے میں کسی بھی معاملے کی نشاندہی جامع انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ہر ملک میں ہوتا ہے سوائے ایران، سعودی عرب اور چین کے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وجاہت نے کہا کہ معاملات کسی کی خواہش یا اعتراض پر طے نہیں ہوتے بلکہ آئین و قانون کی روشنی میں طے ہوتے ہیں لہٰذا سہیل وڑائچ نے اگر کوئی قانونی خلاف ورزی کی ہے تو ان کے خلاف مقدمہ درج تو نہیں ہوا۔ ’کارٹون ادب بجا لا کر یا احرام  باندھ کر نہیں بنائے جاتے بلکہ حقائق کی عکاسی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ لوگ بغیر بتائے بھی سب جانتے ہیں، ایسے کارٹون سے لوگوں کو حقیقت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ ’اس ملک کو کسی مخصوص سوچ سے نہیں چلایا جاسکتا بلکہ ہر مکتبہ فکر کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ سہیل وڑائچ کی کتاب کے ٹائٹل پر کارٹون سے جن حقائق کی عکاسی ہوتی ہے انہیں جھٹلانے والے کارٹون کے ذریعے اس کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے؟ ’کیونکہ تحریر کا تحریر سے، تصویر کا تصویر سے، بیان کا بیان سے اور قانون کا قانون سے مقابلہ ہوتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان