’مفرور‘ کا خطاب روکنے کے آپشن اور ٹوئٹر پر ’ووٹ کو عزت دو‘

اسلام آباد میں اپوزیشن کی جانب سے اتوار کو کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے امکان ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف خطاب کریں گے۔

آل پارٹیز کانفرنس سے امکان ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف خطاب کریں (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتیں ایک مرتبہ پھر سرجوڑ کر بیٹھ رہی ہیں۔

اس حوالے سے اتوار کو اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے جس کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس ضمن میں بتایا کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس سے سابق صدر آصف زرداری بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں ہی جمعرات کو پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ پارلیمان میں ان سے ’زبردستی‘ بل پاس کرائے گئے ہیں۔

 

دوسری جانب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

تاہم نواز شریف کے خطاب کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے سیاسی امور شہباز گل نے آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کے خطاب کو روکنے کے حوالے سے بیان دیا ہے۔

شہباز گل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ’اگر مفرور مجرم نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب کیا اور ان کا خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر قانونی آپشن استعمال ہوں گے۔‘

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفرور مجرم سیاسی ایکٹیوٹییز کرے اور بھاشن دے-‘

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کے بارے میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے کہا کہ نواز شریف کا خطاب لندن سے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہ راست نشر کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کارکنان کی اس تجویز پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ’ہم ایسا ہی کرنے والے ہیں انشا اللہ۔‘

دوسری جانب اس سب کے فوراً بعد ہی مریم نواز کی جانب سے ایک اور ٹویٹ کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنانے کے حوالے سے بتایا۔

مریم نواز نے لکھا کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان کے لوگوں کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے میاں نواز شریف نے ٹوئٹر پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

جس کے چند لمحوں بعد ہی نواز شریف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پہلی ٹویٹ کی گئی جس میں انہوں نے لکھا: ’ووٹ کو عزت دو۔‘

مریم نواز اور نواز شریف کی ٹویٹ کے بعد سے یک دم ٹوئٹر پر ’نواز شریف کو ٹوئٹر خوش آمدید‘ اور ’ووٹ کو عزت دو‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

نواز شریف کی جانب سے پہلی ٹویٹ کے فوراً بعد ہی ان کے فالوورز کے تعداد ہزاروں میں ہو گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست