اپوزیشن کو ذرا توفیق نہیں کہ حکومت کی تعریف کر دے: عمران خان

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے وزیر اعظم کا خطاب، حکومت نے کامیابی سے ایف اے ٹی ایف سے متعلق قوانین کے علاوہ دوسری قانون سازی کی، شہباز شریف اور بلاول بھٹو سپیکر سے ناراض۔   

اجلاس کی ساری کارروائی کے دوران وزیر اعظم عمران خان ایوان میں موجود رہے(اے پی پی)

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی حزب اختلاف نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی کی مخالفت کر کے اپنے اور ملکی کے مفادات کا مختلف ہونا ثابت کر دیا ہے۔ 

وہ بدھ کی رات ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کے لیے بلائے گئے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس کی ساری کارروائی کے دوران وزیر اعظم عمران خان ایوان میں موجود رہے اور آج تحریک انصاف حکومت نے بڑی کامیابی سے ایف اے ٹی ایف سے متعلق قوانین کے علاوہ دوسری قانون سازی بھی کی۔   

وزیر اعظم عمران خان نے کہا 'اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے بہانے اپنے کرپشن کیسز ختم کروانا چاہتی تھی لیکن ہماری حکومت اور اتحادیوں نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ میں اپوزیشن کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم (حکومت) جمہوریت کے لیے ہر چیز پر مصلحت سے کام لے سکتے ہیں لیکن کرپشن پر کوئی مصلحت نہیں ہو گی۔' 

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے پوری کوشش کی کہ ایف اے ٹی ایف کے بہانے کسی طرح نیب کے ادارے کو بے کار بنا دیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے نیب کے قانون میں 34 ترامیم پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنما منی لانڈرنگ کے معاملے میں بے بس ہو گئ۔ اور اسی وجہ سے انہوں (حزب اختلاف) نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کی مخالفت کی۔ 

'اب میں پوری طرح قائل ہو گیا ہوں کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں اور پاکستان کے مفادات ایک جیسے نہیں، یہ لوگ صرف اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں نہ کہ ملک کے۔'

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ حزب اختلاف کے تمام اراکین ملکی مفادات کے خلاف نہیں ہیں۔ 'بلکہ صرف ان کے رہنما ایسے ہیں جو پاکستان کے مفادات پر اپنی تحفظ اور اپنی کرپشن کو ترجیح دیتے ہیں۔' 

موٹروے ریپ کیس 

وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں موٹروے پر خاتون کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں جلد ہی قوانین پارلیمان میں پیش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے ساتھ ریپ سے متعلق بھی سخت قوانین تیار کیے جا رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ لاہور موٹروے ریپ کیس کا اصل مجرم جلد ہی پکڑا جائے گا۔ وزیر اعظم نے خواتین اور بچوں کے ساتھ ریپ میں ملوث پائے جانے والے افراد کی معلومات پر مبنی ڈیٹا بینک بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

کرونا وائرس 

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا پر قابو پا کر ان کی حکومت نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی، جس پر حزب اختلاف بالکل بھی توجہ نہیں دے رہی۔ میرا خیال تھا کہ آج کے اجلاس میں حزب اختلاف کرونا وائرس پر حکومتی کامیابی کی تعریف کرے گی لیکن انہوں نے نہ تو تعریف کی اور نہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی میں حکومت کی حمایت کی۔'

عمران خان کا کہنا تھا: 'آج عالمی ادارہ صحت پاکستان کے اقدامات کی تعریف کر رہا ہے اور دنیا میں ہماری مثالیں دی جا رہی ہیں لیکن ہماری حزب اختلاف کو توفیق نہیں ہو رہی کہ حکومت کی تھوڑی سی ہی تعریف کر دے۔'

ایوان کی کارروائی 

پاکستان تحریک انصاف حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کی  شدید مخالفت کے باوجود بدھ کی شام پارلیمان کے دونوں ایوانوں (سینٹ اور قومی اسمبلی) کے مشترکہ اجلاس میں اہم قانون سازی کرانے میں کامیاب رہی۔ 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیے گئے قوانین کی اکثریت کا تعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے تھا۔ تاہم ایف اے ٹی ایف سے متعلق قوانین کے علاوہ دوسری قانون سازی بھی کی گئی۔   

یاد رہے کہ بدھ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیے گئے تمام قانونی بل ایسے تھے جو ماضی میں قومی اسمبلی سے تو منظور ہو چکے تھے۔ لیکن سینیٹ نے ان بلوں کو رد کر دیا تھا۔   

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں حکومتی پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔ جبکہ سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا پلڑا بھاری ہے۔ 

حزب اختلاف کی جماعتیں دونوں ایوانوں میں مجموعی طور پر عددی برتری کے باوجود حکومت کی طرف سے پیش کی گئی قانون سازی کو روکنے میں ناکام رہی۔ 

اس وقت دونوں ایوانوں (سینیٹ اور قومی اسمبلی) میں حزب اختلاف کے اراکین کی مجموعی تعداد 227 ہے۔ اس کے برعکس حکومتی جماعت تحریک انصاف اور اس کے اتحادی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 216 بنتی ہے۔ 

تاہم بدھ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن پارٹیوں کے صرف 190 اراکین موجود تھے۔ جبکہ اس کے برعکس حکومتی جماعت اور اس کے اتحادیوں کے 200 ایم این ایز اور سینیٹرز مشترکہ اجلاس میں موجود پائے گئے۔ 

اجلاس میں موجود اس عددی برتری کے باعث تحریک انصاف حکومت کا کارروائی کے دوران پلڑا بھاری رہا۔ اور حکومت لگ بھگ ایک درجن قوانین اور ترامیم منظور کروانے میں کامیاب رہی۔ 

حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شروع میں قانون سازی کے راستے میں مزاحمت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم حکومتی عددی برتری کے باعث ان کی ایک نہ چل سکی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پرشور کارروائی کے بعد حزب اختلاف نے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ 

جب تک حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین ایوان میں موجود تھے کارروائی میں بار بار خلل پڑتا رہا۔ دونوں اطراف سے نعرہ بازی اور فقرہ بازی بھی سننے میں آئی۔ جبکہ دو اراکین کے درمیان ہاتھا پائی کا ایک واقعہ بھی پیش آیا۔ 

ایک موقعے پر سپیکر اسد قیصر اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے درمیان بھی تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ سینیٹر مشتاق علی خان نے سپیکر پر الزام لگایا کہ چئیر کی طرف سے انہیں پیش کیے جانے والے قوانین میں ترامیم پیش کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جارہا۔ اسی طرح کی ایک شکایت سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی نے بھی کی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے سربراہ بلال بھٹو زرداری نے بھی ایوان میں بولنے کی اجازت چاہی۔ تاہم سپیکر نے کہا کہ رولز کے مطابق صرف ترامیم پیش کرنے والے اراکین ہی بول سکتے ہیں۔ 

وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان نے بھی ترامیم پیش کرنے والے اراکین کے علاوہ دوسروں کے ایوان میں بولنے پر اعتراض کیا۔ اعتراضات کے باعث سپیکر اسد قیصر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کو بات کرنے کا موقع دیا۔ 

رضا ربانی نے قانون سازی کی غرض سے بلوں کا بابر اعوان کی جانب سے ایوان میں پیش کیے جانے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تاہم وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اس کی مخالفت کی۔ حزب اختلاف جماعتوں کے اراکین کے بائیکاٹ کے بعد قانون سازی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ اور مشکل کے جاری رہا۔ 

ایجنڈے پر موجود قانون سازی بہت زیادہ ہونے کے باعث ایک موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے سپیکر اسد قیصر سے درخواست کی کہ ایک قانون میں پیش کی جانے والی ترامیم کو اکٹھا پڑھا اور منظوری لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے وقت کی بچت ہو گی۔ 

تاہم اسد قیصر نے ابتدا میں اس تجویز کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ رولز کے تحت ہر ترمیم کا ایوان کے سامنے پڑھا جانا ضروری ہے۔ بابر اعوان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں حزب اختلاف کے اراکین موجود نہیں ہیں اور مخالفت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے کی کاروائی کے بعد ایوان کے مشترکہ اجلاس کی صدارت چئیرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سنبھال لی۔ 

بعد ازاں قومی اسمبلی میں حذب اختلاف کے قائد میاں شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپیکر اسد قیصر پر پارلیمان کی کارروائی کو پاؤں تلے روندنے کا الزام لگایا۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کی قیادت نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔ جس میں شہباز شریف نے کہا کہ æسپیکر اسد قیصر نے آج ریڈ لائن عبور کرلی ہے۔ ہم ان کے رویے کی مذمت کرتے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے حوالے سے باہمی مشاورت کے بعد جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان