اب کی بار نواز شریف کا نیا پاکستان؟

کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں کبھی کی راتیں۔ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ ’نیا پاکستان‘ کا خواب جو کبھی پی ٹی آئی نے دیکھا تھا اب وہی خواب نواز شریف بھی دیکھنے لگے ہیں۔

(مسلم لیگ ن سوشل میڈیا)

صاحبو تیار ہو جاؤ!  نیا پاکستان ایک بار پھر بنے گا؟ اب کی بار اس کا معمار کوئی اور ہو گا۔  ایک بار پھر غریب عوام کی خوش حالی کے خواب دیکھتی آنکھوں میں پھر سے یہ نیا خواب بسایا جائے گا؟

جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کافی تاخیر سے لیکن سوشل میڈیا کے خارزار میں قدم رکھ دیا ہے وہیں انہوں نے نئے پاکستان کا نعرہ بھی لگا دیا ہے۔ تو کیا اب کی بار ’ایک اور نیا پاکستان‘ سوشل میڈیا پر وجود میں آئے گا۔

ایسا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نواز شریف بھی نیا پاکستان بنانے کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کی آنکھوں سے یہ خواب کس نے چرا لیا ۔۔ پی ٹی آئی نے عمران خان نے یا کسی اور نے؟ کیوں کہ ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تو ان کا خواب تھا جس کو پورا نہ ہونے دیا گیا اور راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔

دل میں خیال آیا کہ کہیں نواز شریف کا یہ خواب عمران خان نے تو نہیں چرایا تھا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں کبھی کی راتیں۔ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ ’نیا پاکستان‘ کا خواب جو کبھی پی ٹی آئی نے دیکھا تھا اب وہی خواب نواز شریف بھی دیکھنے لگے ہیں۔

 کثیرالجماعتی کانفرنس نے نواز شریف کو ایک بار پھر سیاست میں ’ان‘ ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔  وہیں ان سے نئے پاکستان کا نعرہ بھی لگوا دیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے فیس بک پر اپنے کارکنوں کے لیے ایک پیغام ریکارڈ کروایا ہے جو فیس بک پر مسلم لیگ ن کے آفیشل میڈیا اکاؤنٹ سے نشر کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کو ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر نشر کیا گیا ہے۔

نواز شریف نے اس میں یہ کہہ کر لوگوں کو چونکا دیا ہے کہ وہ ایک عرصے سے نیا پاکستان بنانے کے خواہش مند تھے لیکن ان کو بنانے نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا ’السلام علیکم میرا نام نواز شریف ہے اور میرا تعلق پی ایم ایل این سے ہے۔ اور میں آج آپ سب کو پی ایم ایل این کےآفیشل فیس بک پیج سے خوش آمدید کہتا ہوں۔ مجھے خاص طور پر پاکستان کے نوجوانوں سے یہ کہنا ہے کہ ان کے اندر بہت خوبیاں ہیں کہ جن کو استعمال کر کے ہم ایک نیا پاکستان بنا سکتے ہیں۔ یہ میرا دیرینہ خواب ہے بڑا پرانا خواب ہے جو جب بھی پورا ہونے لگتا تھا تو کوئی نہ کوئی اس میں رکاوٹ آتی رہی ہے لیکن آپ میرا ساتھ دیں تو پھر انشااللہ یہ سب رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ ہم اس کو ایک ترقی یافتہ اور خوبصورت نیا پاکستان بنائیں گے۔‘

نواز شریف صاحب بڑی دیر کر دی مہرباں خواب دیکھتے دیکھتے۔

جناب والا آپ نے نیا پاکستان بنانے کا عزم کر کے پی ٹی آئی کا یہ بیانیہ اپنا لیا ہے کہ دراصل نیا پاکستان بننا ناگزیر تھا۔ جب آپ یہ کہیں گے تو اس کا معنی یہ لیا جائے گا کہ پرانا پاکستان اس قابل نہ تھا کہ اس کو آگے چلایا جاتا لہذا نیا پاکستان بنانا پڑا۔

جس نعرے پر مسلم لیگ ن ہمیشہ تنقید کرتی رہی آج اسی کو اپنانے کا مطلب کہ کام پڑنے پر سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کر لو۔ خواب بیچنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا چاہتا ہے۔ ٹوکری میں ہر طرح کے پھل ہونے چاہیں کہ جب ضرورت پڑے جس کو دینا ہو اس کا من پسند پھل نکال لیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوام کو ایک بار پھر نئے پاکستان کے حسین خواب دکھانے کا خواب نواز شریف دیکھ رہے ہیں۔  شاید نواز شریف یہ بھول گئے کہ پرانا پاکستان تو ان ہی کا عطا کردہ تھا۔ وہ تین بار اقتدار میں رہے تو انہوں نے پرانے کو پہلے ہی نیا کیوں نہ بنایا؟ اگر بنا لیتے تو لوگوں کو کنٹینر پر چڑھ کر عوام کو یہ حسین خواب دکھانے کا موقع ہی نہ ملتا۔

گذشتہ تیس برسوں میں تو مسلم لیگ ن کے کسی لیڈر کی زبان پر کبھی نئے پاکستان کا لفظ تک نہ آیا۔ اب سمجھ میں آیا کہ نوجوانوں کو متوجہ کرنے کا یہ بہت عمدہ نسخہ ہے۔  

اگر ہم کہیں کہ اے گردش ایام ذرا دوڑ پیچھے کی طرف تو ہمیں 2014 میں اگست کے وہ دن یاد آ جائیں گے جب پی ٹی آئی نے ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ لگا کر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب سے اب تک اس نئے پاکستان نے کیا کیا گل نہ کھلائے ہوں گے۔ اس کی تعمیر کے لیے کیا کچھ نہ ہوا۔

’کہ مری تعمیر میں مضمر ہے اک سورت خرابی کی‘  

کہا جاتا ہے کہ نئے پاکستان کے موجد نے ہی شریف خاندان کو اس حال کو پہنچایا ہے۔ وہ نااہل ہونے کے بعد کورٹ کچہریوں کے چکر لگاتے رہے اور اس کے بعد لندن سدھار گئے اور پھر پس منظر سے بھی غائب ہو گئے تھے۔ اب پی ایم ایل این نے سوشل میڈیا کا پتہ کھیل ڈالا ہے۔ نواز شریف کو سات سمندر پار بیٹھ کر بھی سیاست کرنے کا اس سے بہتر طریقہ کار دستیاب نہ ہوسکتا تھا۔

یہ بھی شنید ہے کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے ذریعے نواز شریف کی سیاست کے سوشل آغاز کا آئیڈیا دراصل مریم نواز کا ہی ہے۔ گو بلاول بھٹو نے نواز شریف کو فون کر کے ایسا کرنے کی تجویز پیش کی کہ آل پارٹیز کانفرنس سے ڈیجیٹل میڈیا کے لنک پر خطاب کیا جائے۔ اس کو ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جو جگہ شہباز شریف کے پاس تھی اب ان کی جگہ نواز شریف خطاب کریں گے۔ مریم اور شہباز ایک بیانیہ کبھی بھی نہ ہوا۔ ایک بیانیہ جو نواز شریف کا بیانیہ کہلاتا لیکن سیاست کے سینے میں نہ تو دل ہوتا ہے اور کرسی کی کشش اور اقتدار کی دوڑ خونی رشتوں میں بھی دراڑیں اور فاصلے پیدا کر دیتی ہے اور خون سفید ہوتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن اب نواز شریف کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان ہونے کے بعد شہباز شریف کے لیے شاید وہ جگہ نہ رہے گی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

سوشل میڈیا پر سربراہان مملکت کا بیانات جاری کرنا اب ایک معمول کی بات ہے بلکہ اب تو صدور اور سربراہان کے بیچ ٹوئٹر پر لفظی جنگ بھی دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ ٹوئٹر بیانیہ ترتیب دینے کا ایک اہم ٹول سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک پراپیگینڈا مشین ہے۔ کیا اب مسلم لیگ ن کو اس سے تقویت ملے گی واضح نہیں لیکن نواز شریف نے آتے ہی نئے پاکستان کی بات کر کے نیا پیغام ضرور دے ڈالا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ