قاتلوں نے گھر میں داخل ہو کر بابر قادری کو گولی ماری: رشتہ دار

گذشتہ رات بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں معروف وکیل بابر قادری کے قتل میں اب تک پولیس کا کوئی تحریری بیان سامنے نہیں آیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں جمعرات کی شام نامعلوم مسلح افراد نے معروف وکیل اور ٹی وی ڈیبیٹر بابر قادری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایک قریبی رشتہ دار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دو نامعلوم پستول بردار جمعرات کی شام قریب ساڑھے چھ بجے سری نگر کے حول علاقے میں واقع بابر قادری کی رہائش گاہ کے اندر داخل ہوئے اور ان پر نزدیک سے گولیاں چلائیں۔

انہوں نے کہا: 'مسلح افراد گولیاں چلانے کے فوراً بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے۔ ہم شدید زخمی بابر کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے گئے جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔'

پیشے سے وکیل 40 سالہ بابر قادری بھارتی ٹی وی چینلز پر کشمیر کے حالات و واقعات پر ہونے والے مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرک تھے۔

بابر قادری کا کنبہ 1990 کی دہائی میں شمالی ضلع بارہمولہ کے شیخ پورہ کنزر سے سری نگر کے حول علاقے میں منتقل ہوا تھا۔

ہسپتال سے بابر قادری کی میت حول لائی گئی جہاں آہ و بکا کے بیچ سینکڑوں افراد نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

بعد ازاں میت کو جمعرات کی شام دیر گئے آبائی علاقہ شیخ پورہ کنزز لایا گیا جہاں نماز جنازہ کا ایک اور اجتماع منعقد ہوا جس کے بعد انہیں سینکڑوں افراد کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔

کنزر سے ایک مقامی صحافی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جمعرات کی رات دیر گئے جب بابر قادری کی میت ان کے آبائی گاؤں لائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گیا اور ہر ایک کی آنکھیں نم ہوئیں۔

انگریزی روزنامہ 'گریٹر کشمیر' نے سری نگر کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر حسیب مغل کا ایک بیان چھاپا جس میں انہوں نے کہا: 'ہم نے معاملے میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔'

تاہم اس رپورٹ کے فائل کیے جانے تک کشمیر پولیس کی جانب سے بابر قادری کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی تحریری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اس طرح کی پراسرار ہلاکتیں ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2018 کے جون میں ایسی ہی ایک واردات میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے معروف صحافی سید شجاعت بخاری کو ہلاک کیا تھا۔

کشمیر پولیس اور دیگر بھارتی سکیورٹی ادارے اس طرح کی ہلاکتوں کے لیے ہر بار عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ان واقعات کی تحقیقات کبھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتی۔  

دریں اثنا عام کشمیریوں نے بالعموم اور وکلا برادری، سیاسی، سماجی و مذہبی جماعتوں کے لیڈران نے بالخصوص بابر قادری کی ہلاکت پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین یہی سوال پوچھے نظر آرہے ہیں کہ 'بابر قادری کو کس نے اور کیوں مارا؟'

خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

کشمیر پولیس نے ایڈووکیٹ بابر قادری کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے جمعے کو سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا: 'میں آج صبح بابر قادری کے گھر گیا۔ بعد ازاں میں نے ضلع سری نگر کے پولیس افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ ہم نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جس کی سربراہی ایس پی حضرت بل کریں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'تحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او جڈی بل، کارگو کے ایک ڈی ایس پی، متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور ایک قانونی ماہر بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ جلد از جلد اس معاملے کی تحقیقات مکمل کریں۔'

انہوں نے مزید بتایا: 'ہم بہت جلد پتہ لگائیں گے کہ اس میں کون اور کس تنظیم کے عسکریت پسند ملوث ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر گرفتاری ممکن نہ ہوئی تو جھڑپ میں ہلاک کریں گے۔ ہمارے لیے یہ کیس اہم ترجیحات میں شامل ہے۔'

وجے کمار نے بابر قادری پر حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ: 'جمعرات کی شام چھ بجکر 20 منٹ پر بابر قادری اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دو افراد اپنے آپ کو کلائنٹ بتاتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے۔ دونوں ماسک پہنے ہوئے تھے۔ جوں ہی بابر قادری اپنے مکان سے باہر آئے تو انہوں نے ان کے سر کو نشانہ بنا کر چار گولیاں چلادیں۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے۔ گلی میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔'

'جان کو خطرہ تھا'

کشمیر پولیس کے آئی جی وجے کمار کے مطابق بابر قادری کی جان کو خطرہ تھا لیکن انہوں نے کسی محفوظ جگہ پر منتقل ہونے سے انکار کیا تھا۔

'مجھے معلوم ہوا ہے کہ 2018 میں ایک بار ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی جان کو خطرہ تھا۔ ہمارے پولیس افسران نے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ حول میں نہ رہیں بلکہ کسی محفوظ جگہ پر منتقل ہوجائیں۔

'آج بھی متعلقہ علاقے کے پولیس افسران نے مجھے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے سے ہم ان سے گزارش کر رہے تھے کہ وہ فی الحال یہاں نہ رہیں۔ کیونکہ حول ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے جہاں پولیس کے لیے گشت کرنا بھی مشکل ہے، تاہم بابر قادری کا کہنا تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔'

وجے کمار نے بتایا کہ بابر قادری کے برادر نسبتی، جو خود ایک پولیس افسر ہیں، نے خود جا کر انہیں سمجھایا تھا کہ آپ حول میں نہ رہیں لیکن وہ بالکل ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

'وہ ایک پڑھے لکھے اور واقف کار شخص تھے۔ انہیں اپنی تمام باتیں ہمارے ساتھ شیئر کرنی چاہیے تھیں۔ ہم کسی کو زبردستی سکیورٹی دے سکتے ہیں اور نہ کہیں پر منتقل کر سکتے ہیں۔'

آئی جی پولیس نے کہا کہ ایڈووکیٹ قادری نے اپنی کچھ ٹویٹس میں اپنی جان کو لاحق خطرے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا لیکن انہوں نے ان میں کشمیر پولیس کو نہیں بلکہ جموں پولیس کو ٹیگ کیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بابر قادری ہمیں مطلع کرتے یا فون بھی کرتے تو ہم ضرور انہیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کرتے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا