کوؤں میں بھی انسانوں جیسا شعور پایا جاتا ہے؟

سائنسدانوں نے پہلی بار اس بات کے ثبوت دریافت کیے ہیں کہ کوؤں میں شعور کی وہ قسم پائی جاتی ہے جو اس سے قبل صرف انسانوں اور پرائمیٹس میں سامنے آئی تھی۔

ایک بصری تجربے کے دوران کوؤں کی دماغی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ پرندے بھی شعوری طور پر حسوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔(تصویر: پکسا بے)

سائنسدانوں نے پہلی بار اس بات کے ثبوت دریافت کیے ہیں کہ کوؤں میں شعور کی وہ قسم پائی جاتی ہے جو اس سے قبل صرف انسانوں اور پرائمیٹس (بندروں کی تمام اقسام) میں سامنے آئی تھی۔

یونیورسٹی آف ٹوبنجن جرمنی کے ایک ریسرچ گروپ نے ایک بصری تجربے کے دوران کوؤں کی دماغی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ پرندے بھی شعوری طور پر حسوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ دریافت حیران کن ہے جو اس سے قبل صرف انسانوں اور پرائمیٹس میں سامنے آئی تھی جن کی دماغی ساخت ان پرندوں سے بالکل مختلف ہے۔

یونیورسٹی آف ٹوبنجن میں جانوروں کی نفسیات کے ماہر پروفیسر اندریاس نائیدر کا کہنا ہے کہ ’ہماری تحقیق کے نتائج نئے دروازے کھولتے ہیں جو کہ شعور کے ادراک اور ارتقا کے طریقہ کار اور دماغی صورت حال اور اس کی حدود سامنے لائے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تحقیق جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے جس میں ریسرچ ٹیم نے دو کوؤں کو تربیت دی کہ وہ ایک رنگین روشنی میں ٹھونگیں ماریں، اگر انہیں سکرین پر ایسے ہی مناظر نظر آتے ہیں۔

 گو کہ اس سٹملی کا زیادہ تر حصہ صاف تھا لیکن اس میں کچھ کو جان بوجھ کر اتنا مدہم رکھا گیا تھا کہ کوئے اسے دیکھ نہ سکیں جس میں ان پرندوں نے مختلف نتائج اخذ کیے۔

 سائنسدانوں نے ایک انفرادی خلیے کی سرگرمی کی نگرانی کی۔ جب کوئے اپنے ٹاسک کو سرانجام دے رہے تھے تو اس میں سامنے آیا ہے کہ وہ اس خلیے کی سرگرمی کو دیکھ کر کوؤں کی جانب سے اس تجربے کے دوران محسوس ہونے والے مجموعی تجربے کی پیش گوئی کر سکتے تھے۔

پروفیسر نائیدر کا کہنا ہے کہ 'نرو خلیے جو انفرادی عناصر کے بغیر ہمیشہ ایک جیسا رد عمل دیتے تھے وہ اس تجربے کی شدت کے دوران بھی ویسا ہی رد عمل دے رہے تھے۔ گو کہ ہمارے نتائج بتدریج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کوؤں کے دماغ اس تجربے کے دوران خلیے کے زیادہ کام کرنے سے متاثر ہوئے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جانوروں کی دنیا میں شعور کی موجودگی اس بات سے کافی قدیم ہو سکتی ہے جتنی کہ سمجھی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'انسانوں اور کوؤں کے آخری مشترکہ اجداد 32 کروڑ سال قبل ایک ساتھ رہے تھے۔ مسلسل آگاہی صرف تب ہی ممکن ہے جب یہ وراثت میں منتقل ہوتی رہی ہو۔'

سائنسدانوں کے مطابق اس کی ایک اور وضاحت یہ بھی ہے کہ مسلسل آگاہی کا یہ عمل جانوروں اور لنگوروں میں مکمل آزادانہ طور پر پایا جاتا ہو۔

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق