کراچی کی ایک عدالت نے ہفتے کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی اور ان کے دو بیٹوں کی مبینہ طور پر پولیس کے ساتھ جھگڑا کرنے کے مقدمے میں 20 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
نہال ہاشمی اور ان کے دو بیٹوں بیرسٹر نصیر ہاشمی اور فہیم ہاشمی کے خلاف کراچی کی سعود آباد پولیس نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جھگڑا کرنے پر مقدمہ درج کیا تھا۔
گذشتہ رات کراچی کے علاقے ملیر کالا بورڈ کے نزدیک نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں کا پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جھگڑے کے بعد ایس ایچ او سعود آباد تھانے کی مدعیت میں پولیس اہلکاروں پر ’حملہ‘، ’قتل‘ کی دھمکیاں، سرکاری کام میں ’مداخلت‘ اور دیگر دفعات کے تحت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
نامہ نگار امر گرڑو کے مطابق کراچی کے وکلا نے نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں کے خلاف پولیس کی جانب سے ’سیاسی‘ بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ہفتے کی صبح عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے عدالت کے باہر احتجاج کیا۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل جی ایم کورائی نے الزام عائد کیا کہ نہال ہاشمی کے خلاف سیاسی بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں پر دفعہ 63 کے تحت مقدمہ سے خارج کیا جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعود آباد پولیس نے دعویٰ کیا کہ علاقے کے ایک ہسپتال کے قریب راہ گیر موٹر سائیکل سواروں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا، مجمع دیکھ کر پولیس موقعے پر پہنچی اور رش لگانے کی وجہ پوچھی، اس دوران نصیر ہاشمی اور ابراہیم ہاشمی جھگڑا ختم کرانے لیے پہنچے تو نہال ہاشمی کے بیٹوں نے پولیس سے ’بدتمیزی‘ شروع کر دی اور اہلکاروں کی وردیاں بھی ’پھاڑ‘ دیں۔ اس کے علاوہ تھانے میں بھی گھس کر پولیس پر ’تشدد‘ کیا۔
دوسری جانب نہال ہاشمی کے کوآرڈینیٹر اسد عثمانی نے دعویٰ کیا کہ سعود آباد پولیس کے چند اہلکار علاقے میں ’بھتہ خوری‘ کر رہے تھے۔ نہال ہاشمی کے بیٹے نے مداخلت کی اور بھتہ لینے سے روکا تو پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا اور بعد میں مقدمہ درج کرکے نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں کو گرفتار کر لیا۔