سنگاپور: بچے پیدا کرنے والے جوڑوں کے لیے خصوصی انعامی رقم

یہ معاونت موجودہ ’بے بی بونس کیش گفٹ‘ سکیم کے ذریعے فراہم کی جائے گی جس کے تحت ایسے والدین کو دس ہزار سنگاپوری ڈالر تک کی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

سنگاپور کے نائب وزیراعظم ہینگ سویکیٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ تاثر ملا ہے کہ کووڈ 19 نے کچھ ایسے والدین کو متاثر کیا ہے جو زیادہ بچے پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے‘(اے ایف پی)

سنگاپور نے اپنے شہریوں کو کووڈ 19 وبائی مرض سے بحالی میں مدد فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں زیادہ بچے پیدا کرنے کی خواہش رکھنے والے افراد کو معاشی مدد دینا بھی شامل ہے۔

بحر الہند کے چھوٹے سے جزیرے پر مشتمل اس ملک کے نائب وزیر اعظم ہینگ سوی کیٹ نے پارلیمنٹ میں متعدی مرض کا مقابلہ کے لیے حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ اور اس حوالے سے تجاویز پیش کیں اور بتایا کہ ’وبا سے بحالی کا یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ صحت کے محاذ کو سنبھالتے ہوئے حکومت کو بھی اس وائرس کے معاشی اور معاشرتی نتائج سے نمٹنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ملک میں کاروبار، محنت کش طبقہ اور گھریلو افراد اس وبا کے باعث پیدا ہونے والے خلل اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوئے ہیں۔

کیٹ نے کہا: ’ہمیں یہ تاثر ملا ہے کہ کووڈ 19 نے کچھ ایسے والدین کو متاثر کیا ہے جو زیادہ بچے پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یہ بات مکمل طور پر قابل فہم ہے خاص طور پر جب انہیں اپنی آمدنی کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہذا اس عرصے کے دوران اخراجات میں مدد کے لیے ہم نوزائیدہ بچوں کے لیے فوری طور پر اضافی معاونت متعارف کروا رہے ہیں۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ یہ معاونت موجودہ ’بے بی بونس کیش گفٹ‘ سکیم کے ذریعے فراہم کی جائے گی جس کے تحت ایسے والدین کو دس ہزار ڈالر (سنگاپور ڈالر) تک کی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

کیٹ، جو ملک کے وزیر خزانہ بھی ہیں، نے کہا کہ ان کی حکومت نے آئندہ چھ مہینوں میں وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے گھریلو افراد کی مدد کرنے اور ’مزید بچے پیدا کرنے‘ کا طریقہ کار وضع کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’میڈیکل فرنٹ اور عالمی معاشی صورت حال کے تناظر میں اگر ضرورت ہو تو ہم اپنے اس سپورٹ پروگرام کو ایڈجسٹ کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں کاروبار، محنت کش طبقہ اور گھریلو افراد ان وسائل کا بہتر استعمال کریں گے۔‘

روں سال کے آغاز میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے سنگاپور میں 57 ہزار 819 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ محض 27 افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنے ہیں۔

کیٹ نے زور دے کر کہا کہ پہلے سے اعلان کردہ گھریلو امداد بھی آئندہ مہینوں میں جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ کئی مہینوں کی مشکل کے بعد سنگاپور میں وائرس کی صورت حال ’مستحکم‘ ہوگئی ہے اور معیشت کے بڑے حصے کی بحالی شروع ہو گئی ہے۔‘

سنگاپور کی پارلیمنٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے کرونا سے نمٹنے کے لیے اب تک 100 ارب ڈالر کے امدادی اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔

کیٹ نے کہا کہ حکومت محنت کش طبقے کو ’بہتر ملازمتیں‘ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے  اور اگر وہ سنبھل نہ سکے تو حکومت ان کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت