افغانستان: باپ نے بیٹی کو پولیس میں ملازمت پر چاقو سے اندھا کر دیا

سیکیورٹی اور دفاعی دستوں میں افغان خواتین کی موجودگی کو معاشرتی، خاندانی اور حفاظتی مشکلات کا سامنا ہے۔

پولیس افسر خطیرہ  (تصویر-افغان وزارت داخلہ)

ایک افغان خاتون خطیرہ پولیس افسر صوبہ غزنی میں ملازمت کرتی تھیں۔ ان کے والد طالبان تحریک کے رکن تھے۔ کچھ دن پہلے اس لڑکی کے والد نے چار دیگر طالبان کے ساتھ مل کر ان پر گولیاں اور چھری چلا کر اپنی بیٹی کو اندھا کر دیا۔

افغان وزارت داخلہ نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ وزارت نے اس خاتون کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے اور انہیں ایک اپارٹمنٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے نامزد امیدوار مسعود اندربی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر خطیرہ سے ملاقات کے بارے میں لکھا کہ ’یہ طالبہ ایک بہادر پولیس اہلکار ہیں۔ ان کے والد نے اسے شدید زخمی کیا ہے۔ وہ آج میرے دفتر آئیں۔ میں نے اس کے علاج معاوضے کی ادائیگی اور اپارٹمنٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔‘

اندربی نے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ طاقت سے اس قوم کو شکست نہیں دے سکتے۔ افغان سکیورٹی فورسز ہر قیمت پر اپنے ملک کا دفاع کر رہی ہیں۔‘

بچوں اور خواتین کے لیے افغانستان کے محکمہ انسانی حقوق کی سربراہ مروہ امینی نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’محترمہ خطیرہ کو اس کے والد نے حکومت میں ملازمت کرنے اور پولیس اہلکار ہونے کی وجہ سے دس بار گولی ماری۔ انہوں نے ان کی آنکھ میں چھرا مارا اور زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ خطیرہ کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے بچوں کو نہیں دیکھ سکتی ہیں۔    

محترمہ امینی نے مزید کہا کہ ’ خطیرہ سے افغانستان کے وزیر داخلہ کی ملاقات میں نقد امداد کے علاوہ ان کے تمام طبی اخراجات کا احاطہ کیا گیا تھا۔‘

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائن نے یہ بھی کہا کہ خطیرہ علاج اور بحالی کے بعد مضبوط رہیں گے اور ہماری صفوں میں رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف ایک یادداشت ہی نہیں درجنوں یادوں کو طالبان نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ’طالبان کے ہمدرد، ایک والد نے اپنی بیٹی کو پولیس اہلکار ہونے کی وجہ سے اندھا کر دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجمل عثمانی 12 سال سے افغان سکیورٹی اور فوج کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ اس خبر کو چونکا دینے والا قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’اس خبر کی طرح ہم بھی ہر روز بری خبر سنتے ہیں۔ بڑی افسوس کی بات ہے کہ باپ کو اپنی بیٹی پر رحم نہیں آتا ہے۔ ایسی لڑکی جو نہ تو چور ہے، نہ ڈاکو اور نہ ہی کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتی ہے، لیکن پھر بھی اسے اپنی قوم اور حکومت کی خدمت کرنے پر مارا یا اندھا کر دیا جاتا ہے۔ میں اپنے ملک کے صدر سے مطالبہ کرتا ہوں، براہ کرم ایسے لوگوں کو افواج خصوصا ملک کی خواتین کے حوصلے کمزور ہونے کی اجازت نہ دیں۔ اس طرح کی غیر انسانی حرکتوں سے اس شخص کی جلد سے جلد شناخت کی جانی چاہیے اور اسے اس کے اعمال کی سزا دی جانی چاہیے۔ پہلے دن میں نے قسم کھائی تھی کہ ملک، عوام اور قومی وقار کا دفاع کرنے کے لیے میرے جسم میں ایک قطرہ خون بہے گا۔ اس طرح سے، اگر مجھے مارا گیا تو میں شہید ہوں گا۔‘

ملک کے سکیورٹی اور دفاعی دستوں میں موجود افغان خواتین کو اب بھی سماجی، خاندانی اور سکیورٹی کے مسائل درپیش ہیں۔

افغانستان میں ایک نیا باب کھولنے اور ایک نئے نظام کی تشکیل کے بعد ایک مضبوط فوجی قوت بنانے کے لیے سرمایہ کاری کا آغاز ہوا اور افغان سکیورٹی اور دفاعی افواج کی صفوں میں افغان خواتین کا فعال اور کردار نمایاں کرنے اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے کوششیں کی گئیں۔

افغان خواتین اب ملک کی سکیورٹی اور دفاعی دستوں میں موجود ہیں لیکن ان فوجی خواتین کو معاشرے، کنبے، رشتے داروں اور خاص طور پر حزب اختلاف (طالبان) کی طرف سے یہاں تک کہ انہیں بار بار جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ خطیرہ بھی اس ملک کی ہزاروں فوجی خواتین میں سے ایک ہیں جو موجودہ مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ تاہم اس ملک کی فوجی خواتین اب بھی اپنے ملک اور مٹی سے خون کے آخری قطرہ کا دفاع کرنے اور نظام کو تنہا نہ چھوڑنے پر اصرار کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر