چارسدہ کی ڈھائی سالہ زینب کے ریپ اور قتل کا ملزم کیسے پکڑا گیا؟  

پولیس کے مطابق 'فاتر العقل' لعل محمد کو جب تفتیش میں شامل کیا تو اس نے اقبال جرم کیا اور معلوم ہوا کہ واقعہ کا ذمہ دار ایک دکاندار بھی ہے جس نے لعل محمد کو سر درد کی بجائے شہوت بڑھانے والی گولیاں دیں۔

بچوں پر جنسی تشدد کے خلاف ایک مظاہرہ (اے ایف پی ائل)

جہاں گذشتہ روز پنجاب میں ایک ماہ کی کوششوں کے بعد لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کے گینگ ریپ کے مرکزی ملزم کو آخرکار گرفتار کرلیا گیا وہیں خیبر پختونخوا میں بھی سات اکتوبر کو ریپ کے بعد قتل کی جانے والی ڈھائی سالہ زینب کے کیس میں بھی ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر کامران بنگش نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ ایک اندھا کیس تھا جس میں ملزم تک پہنچنا اتنا آسان نہ تھا، لیکن پولیس جدید طریقہ کار کا استعمال کرکے ملزم سے مقتولہ کے جوتے، آلہ قتل اور شہوت بڑھانے والی گولیاں برآمد کرکے  یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی کہ اصل ملزم کون ہے۔

تاہم، جہاں ملزم کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے وہاں ایک بات پولیس سے یہ بھی معلوم ہوئی ہے کہ اس واقعے کا اصل ذمہ دار ایک اور شخص بھی ہے جس کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔

ملزم کا سراغ کیسے ملا؟

ریپ کے بعد قتل کی جانی والی زینب کے کیس کا سراغ لگانے والے افسر بشیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چارسدہ پولیس نے ملزم تک پہنچنے کے لیے ہر وہ تکنیک استعمال کی جو اس کیس میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سات اکتوبر کو  بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہونے کے فوراً بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔

ان کے مطابق: ’جرائم کا ارتکاب کرنے والے اکثر خود کو بہت ہوشیار سمجھتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پولیس کے پاس مجرموں کو پکڑنے کے لیے ان سے زیادہ ہوشیار حربے ہوتے ہیں۔‘

سراغ رساں افسر بشیر خان نے بتایا کہ انہوں نے  سب سے پہلے علاقے کی جیو فینسگ کی۔ جیو فینسنگ سے مراد کسی بھی علاقے کے اندر کسی خاص تاریخ یا اوقات کے اندر کیے جانے والے موبائل کالز کا ڈیٹا نکالنا ہوتا ہے۔

 بشیر خان نے بتایا کہ چونکہ پولیس کو لوگ معلومات دینے سے ڈرتے اور کتراتے ہیں لہذا کسی ملزم کا سراغ لگانے کے لیے پولیس متعلقہ علاقے کے عام لوگوں کا تعاون  بھی حاصل کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نے اس علاقے کے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ملزم تک پہنچنے میں ہماری مدد کریں۔ اس طرح کئی مشتبہ افراد کو ہم نے گرفتار کر لیا، لیکن اصل مجرم تک پہنچنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی۔‘

 کامیابی کیسے ملی؟

انوسٹی گیشن آفیسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واردات کے اگلے روز اس گاؤں کا ایک رہائشی اسرار اپنے مویشیوں کے لیےچارہ لانے گاؤں کے ویرانے میں گئے۔ جب وہ گھاس کاٹ رہے تھے تو  اسی گاؤں کے مکین لعل محمد نامی شخص نے ان کو اشارے سے کسی اور جگہ گھاس کاٹنے کی تجویز دی۔

افسر نے کہا کہ اسرار جیسے ہی دوسری جگہ گھاس کاٹنے لگے ان کی نظر جھاڑیوں کے پاس زینب کی  لاش پر پڑی۔

’اسرار نے پولیس کی ڈر سے امام مسجد کو اطلاع دی اور امام مسجد نے پولیس کو مطلع کیا۔

 45 سالہ لعل محمد گاؤں میں ایک ’بھولے‘ کے طور پر مشہور ہے۔ اس کی شادی نہیں ہوئی اور وہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ لعل محمد  ہر وقت اپنی کسی دنیا میں گم رہتا ہے، لہذا ابتدائی طور پر کسی کو اس پر شک نہیں ہوا۔ لیکن پھر طے پایا کہ اس کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔تفتیش کے بعد ملزم کی جانب سے اقبال جرم کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ دراصل لعل محمد ہی اصل ملزم ہے۔‘

کیس کا دوسرا ملزم کون؟

لعل محمد نے پولیس کو بتایا کہ ان کے سر میں درد تھا لہذا انہوں نےگاؤں کے ایک دکاندار سے سر درد کی گولی مانگی۔ انوسٹی گیشن آفیسر کا کہنا ہے کہ دکاندار نے لعل محمد کو سر درد کی گولی دینے کی بجائے شہوت بڑھانے والی گولیاں دیں۔جس میں ایک گولی ملزم نے کھا لی۔پولیس کے مطابق، دکاندار کے اسی فعل کی وجہ سے انہیں گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

انسانی و سماجی حقوق کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے  کہ آخر ایک دکاندار نے کیسے شہوت بڑھانے والی گولیاں ایسےکسی شخص کے ہاتھ تھما دیں۔  انہوں نے نہ صرف حکومت سے متعلقہ دکاندار کو سزا دینے  بلکہ شہوت بڑھانے والی ادویات کی کسی ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر کاؤنٹر پر بیچنے کی روک تھام کی بھی درخواست کی۔

ایک عام بحث یہ بھی کی جارہی ہےکہ اکثر نوجوان شرارت میں معاشرے کے بھولے افراد کو نشہ آور اشیا پلا کر ان کی بدحواسی سے محظوظ ہوتے ہیں، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں لعل محمد کو قصداً اس حالت تک نہ پہنچایا گیا ہو۔

لیکن اس تمام بحث  سے ہٹ کر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا لعل محمد واقعئی ’بھولا‘ہے اور کیا قانون میں ایسے کسی شخص کے لیے کوئی سزا ہے؟

فاتر العقل شخص کی قانون میں کیا سزا ہوگی؟

پشاور ہائی کورٹ کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چاہے کوئی بھی جرم ہو اگر ایک شخص کا ذہنی توازن درست نہ ہو تو اس پر قانون کی جانب سے کوئی سزا لاگو نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ آیا ایک شخص ذہنی طور پر بیمار ہے یا اس کی ایکٹنگ کر رہا ہے اس کے لیے خیبر پختونخوا میں ایک میڈیکل بورڈ موجود ہے جو ملزم  کو آبزرویشن میں رکھ کر اس کے حرکات وسکنات اور بات چیت سے اس کے ذہنی طور پر ٹھیک یا بیمار ہونے کا تعین کرتا ہے۔

شبیر حسین گگیانی کے مطابق میڈیکل بورڈ  یہ پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ واردات کے وقت  ملزم کی ذہنی کیفیت کیسی تھی۔ اگر یہ ثابت ہو کہ اس کا توازن درست نہیں ہے اس کے بعد اگر  متعلقہ شخص  نے چاہے کتنا ہی بڑا جرم کیا ہو اس کو قانوناً کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔

تاہم  ایسے شخص  کو ذہنی امراض کے کسی مرکز بھجوا کر تب تک وہاں رکھا جاتا ہے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوجاتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان