اکتوبر: فلو ویکسین لگوانے کے لیے 'گولڈن' مہینہ

لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی ماہر وبائی امراض ایلیس بنی یامین کا کہنا ہے 'کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ فلو شاٹس لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن فلو سے ہلاک ہونے والوں میں 80 فی صد بچے وہ تھے جنہیں یہ ویکسین نہیں دی گئی تھی۔'

(اے ایف پی)

رواں سال ماہرین نے 'جڑواں وباؤں' کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کووڈ 19 اور انفلوئنزا وائرسز کا ملاپ جان لیوا ہو سکتا ہے۔

گو کہ فلو شاٹس لینا آپ کو کووڈ 19 سے تو محفوظ نہیں رکھ سکتا لیکن یہ آپ کو بیمار ہونے سے بچا سکتا ہے جس کا بلا واسطہ فائدہ نظام صحت پر بوجھ کم ہونے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

اس سال فلو شاٹس کی اہمیت پہلے سے زیادہ کیوں ہیں اس بارے میں ہم نے تمام ضروری معلومات یہاں جمع کی ہیں۔

انفلوئنزا یا فلو ایک وائرل انفیکشن ہے جو انسان کے نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے۔ یہ عمومی طور پر سردیوں کے دوران سامنے آتا ہے اور یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں بہت جلد منتقل ہونے والا انفیکشن ہے۔

فلو کی علامات:

فلو کی عام طور درج ذیل علامات ہیں۔

بخار

سردی محسوس ہونا

جسم میں درد

کھانسی

سر درد

تھکن

ہر سال فلو شاٹ لینا آپ کو ان تمام علامات سے محفوظ رکھ سکتا ہے یا ان کی شدت کو کم سکتا ہے۔

سال 2018-2019 کے فلو سیزن کے دوران ویکسینز نے 44 لاکھ انفلوئنزا کیسز کو روکا تھا جب کہ 58000 ہزار افراد اس سے متاثر ہو کر ہسپتالوں میں زیر علاج رہے جن میں سے 3500 کی ہلاکت واقع ہو گئی تھی۔

 فلو شاٹ کب لینا چاہییں؟

ماہرین کے مطابق اکتوبر کا مہینہ فلو شاٹس لینے کے گولڈن منتھ یعنی سنہری موقع ہے۔ اس دوران لیے گئے فلو شاٹس آپ کو پورا سیزن فلو سے محفوظ رکھتے ہیں جو اکتوبر سے مارچ تک چل سکتا ہے۔

فلو شاٹس کام کیسے کرتے ہیں؟

فلو شاٹس انسانی جسم میں اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں جو آپ کو انفلوئنزا سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

زیادہ تر فلو ویکسیز کو کواڈری ویلنٹ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ انسان کو انفلوئنزا کے اے اور بی سمیت چار اقسام کے وائرس سے بچاتی ہیں۔

فلو ویکسین مختلف طریقوں سے استعمال کی جا سکتی ہے اور ہر سال اس کے استعمال کے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔

انجیکشن: عام طور پر فلو شاٹس انجیکشن یعنی سرنج کے ذریعے انسانی جسم میں داخل کیے جاتے ہیں جو انسانی جسم میں اینٹی باڈیز پیدا کر کے فلو سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ناک میں سپرے: ناک کے ذریعے سانس کھینچ کر لی جانے ویکسین ان لوگوں کے لیے دی جاتی ہے جو انجیکشن لگوانے کو ترجیح نہیں دیتے۔

 2019 میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ انجیکشن جتنی موثر نہیں اس لیے فلو کا شکار ہونے والے ہائی رسک افراد کو اسے استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔

فلو شاٹ کیوں ضروری ہیں؟

لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی ماہر وبائی امراض ایلیس بنی یامین کا کہنا ہے 'کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ فلو شاٹس لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن فلو سے ہلاک ہونے والوں میں 80 فی صد بچے وہ تھے جنہیں یہ ویکسین نہیں دی گئی تھی۔' ان کے مطابق بالغوں میں فلو شاٹس کی بدولت بیماری سے بچنے کے امکانات 40 سے 60 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

فلو شاٹس کے سائیڈ افیکٹس کیا ہو سکتے ہیں؟

عام طور پر فلو شاٹس کے سائیڈ افیکٹس میں انجکشن لگنے کی جگہ پر سوجن یا پٹھوں میں کھچاؤ، سر یا معدے میں درد ہو سکتا ہے۔

گو کہ یہ علامات شدید نہیں ہوتی اور کچھ دن میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ ناک کے سپرے کی صورت میں ناک بہنا یا گلا خراب ہونا بھی اس کی علامات میں شامل ہے۔

فلو شاٹس کسے لینے چاہییں؟

ہر وہ انسان جس کی عمر چھ ماہ سے زائد ہے اسے سال میں ایک بار فلو شاٹس لینے چاہییں۔

ہائی رسک گروپس جن میں طبی عملہ، کمزور امیونٹی والے افراد اور ذیابیطس اور سانس کی بیماریوں سے متاثر افراد شامل ہیں، ان کے لیے فلو شاٹس بہت اہم ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اگر بچوں کی عمر چھ ماہ سے زائد ہے تو وہ فلو شاٹس لے سکتے ہیں۔ دو سال سے کم عمر بچے اگر فلو سے متاثر ہو جائیں تو ان کے لیے یہ بیماری سنگین نتائج کی موجب بن سکتے ہیں۔

وہ بچے جن کی عمر آٹھ سال سے کم ہے وہ چار ہفتوں کے فرق سے فلو شاٹس کے دو انجیکشن لگوا سکتے ہیں جبکہ دو سال تک کی عمر والے بچوں کے لیے نیزل سپرے یعنی ناک کا سپرے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 بڑی عمر کے افراد جو کمزور امیونٹی رکھتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ مزید کمزور ہوتی جاتی ہے ان کے جسم میں وائرس سے لڑنے کے اینٹی باڈیز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ان کے لیے بھی دو قسم کے فلو شاٹس استعمال کیے جاتے ہیں جو ان کے امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں۔

 حاملہ خواتین قوت مدافعت کی کمزوری کے باعث فلو کا آسان ہدف بن سکتی ہیں اس لیے ان کے لیے بھی فلو شاٹس لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

کسے فلو شاٹ نہیں لینا چاہیے؟

سی ڈی سی کے مطابق چھ ماہ سے کم عمر بچوں یا مختلف بیماریوں کے شکار افراد کو فلو شاٹس لینے سے گریز کرنا چاہیئے۔

ان بیماریوں میں فلو شاٹس سے الرجی، بخار، جی بی ایس یعنی امیون سسٹم کو کمزور کرنے والا ڈس آرڈر شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت