ہم نے چین میں بھی ٹک ٹاک چلا دیا

چین میں فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام کے ساتھ ساتھ ٹک ٹاک پر پابندی ہے۔ مگر ہمارا گزارہ ٹاک ٹاک کے بغیر کہاں ہونا تھا۔

(ٹک ٹاک)

ہم ڈیڑھ سال پاکستان میں رہتے تھے۔ ہماری بڑی بورنگ سی روٹین تھی۔ صبح ہوتے ہی دفتر بھاگ جاتے تھے اور شام پڑتے ہی گھر لوٹ آتے تھے۔ اس کے بعد گھر کے وہی کام جنہیں کرتے کرتے انسان ختم ہو جائے پر وہ نہ ختم ہوں۔

روزانہ کا یہی معمول تھا۔ کبھی کبھار بوریت کا جھٹکا لگتا تو ٹک ٹاک کھول لیتے تھے۔ آدھا گھنٹہ گزرتا، گھنٹہ گزرتا اور ہم بے خبر ویڈیوز دیکھتے چلے جاتے۔ کچھ ویڈیوز تو ہمیں اتنی پسند آتیں کہ ہم فوراً انہیں ڈاؤن لوڈ کرتے اور وٹس ایپ پر جہاں تک ہو سکتا، پہنچا دیتے۔

پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ ہم بیٹھے جہاز میں اور جہاز اترا چین کے دارالحکومت بیجنگ میں۔ ہمارے پاس نہ سِم تھی نہ انٹرنیٹ تھا۔ ایک دن بعد سم ملی اور اس کے دو دن بعد وائی فائی۔ سم کے انٹرنیٹ پر ہمارا فری کا وی پی این کنیکٹ نہیں ہوتا تھا، وائی فائی پر ہو جاتا تھا اوراس کے کنیکٹ ہوتے ہی ہماری عید ہو جاتی تھی۔ ہر وہ ایپ جو چین میں بلاک ہے، چلنے لگ جاتی تھی اور ہم اپنی دنیا سے دوبارہ سے جُڑ جاتے تھے۔

چینی اس پابندی کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ان کا اپنا انٹرنیٹ ہے اور اپنا سوشل میڈیا ہے۔ انہوں نے مغرب کے ہر انٹرنیٹ پلیٹ فارم کے جواب میں اپنے پلیٹ فارم بنائے ہوئے ہیں۔ گوگل کی جگہ بیدو ہے، فیس بک کی جگہ رین رین ہے، ٹوئٹر کی جگہ ویبو ہے، یوٹیوب کی جگہ یوکو ہے اور وٹس ایپ کی جگہ وی چیٹ ہے۔ چین میں ٹنڈر بلاک نہیں ہے لیکن اس کے مقابلے میں بھی کئی ایپس موجود ہیں۔

کرونا کی وجہ سے آن لائں کلاسیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا چینیوں نے زوم کا متبادل بھی بنایا ہوا ہے جسے یہ ڈنگ ٹاک کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایپس ہیں جن پر آن لائن کلاسز لی جا سکتی ہیں۔ ایک کلاس اِن ہے جو ہمیں بہت پسند ہے۔ پچھلے دنوں ایک کلاس نہیں لے سکے  تو یہ سافٹ ویئر ہمیں پورا دن اس کلاس کی جھلکیاں دکھا دکھا کر بتاتا رہا کہ دیکھو تمہارے کلاس فیلوز نے آج کتنا مزہ کیا۔ تم نے آج ہی چھٹی کی اور آج ہی سب سے اچھی کلاس ہوئی۔

خیر وی پی این نے ہمارے فون میں موجود ساری ایپس چلا دیں بس ٹک ٹاک نہیں چلایا۔ ویسے تو ٹک ٹاک ایک چینی کمپنی کی بنائی ہوئی ایپ ہے لیکن یہ چین میں نہیں چلتی۔ اسی کمپنی نے چین کے لیے ایک الگ ایپ بنائی ہوئی ہے جس کا نام ڈویِن ہے۔ دونوں ایپس کا ایک جیسا انٹرفیس اور ایک جیسا لوگو ہے، بس مارکیٹ مختلف ہے۔ ڈویِن خاص چین کے لیے ہے اور ٹک ٹاک باقی دنیا کے لیے۔

ہم چین کے دارالحکومت میں ٹک ٹاک کھولتے تو ہمارے سامنے کالی سکرین آ جاتی تھی۔ وی پی این لگاتے پھر بھی وہ کالی سکرین نہ ہٹتی۔ مفت کا وی پی این چھوڑا، ایک مہنگا وی پی این خریدا، پھر بھی وہ کالی سکرین نہ ہٹی۔ یقین مانیں اتنا دکھ زندگی میں کبھی نہیں ہوا جتنا اس دن ہوا۔ ایک ہی تو ہماری تفریح تھی، وہ بھی ہم سے چھن گئی۔ ہمارا ایک دوست چین میں دو سال بغیر فیس بک اور ٹوئٹر کے گزار چکا ہے، ہم خود میں اتنا حوصلہ نہیں پاتے۔ ہم تین سال ٹک ٹاک کے بغیر نہیں گزار سکتے تھے۔ ہمیں کسی طرح یہ ایپ چلانی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دن سے ہم نے اپنے پروفیسروں کی جان کھانا شروع کر دی۔ وہ سوشل میڈیا پڑھاتے تو ہم انہیں ٹک ٹاک پر لے آتے اور پوچھتے باقی سوشل میڈیا نیٹ ورکس وی پی این کی مدد سے چل جاتے ہیں، یہ کیوں نہیں چلتا؟

پروفیسر پریشان ہو جاتے۔ نہیں چلتا تو نہ چولہے میں جلے، انہیں کیا، ان کے پاس تو ان کا ڈویِن ہے، وہ اس کے ہوتے ہوئے ٹک ٹاک کیوں دیکھیں؟ وہ تو اللہ بھلا کرے ہماری ایک کلاس فیلو کا جس نے ہمیں چین میں ٹک ٹاک چلانے کا طریقہ بتایا۔ اس نے کہا فون سے سم نکال دو، ٹک ٹاک چل جائے گا۔

ویسے تو ہم نے کبھی دوسروں کے مشوروں پر عمل نہیں کیا اس دن سوچا چلو کر ہی لیتے ہیں۔ سم نکالی، وائی فائی چلایا، وی پی این لگایا، ٹک ٹاک کھولا اور وہ چل گیا۔ ہماری تو اس دن عید ہی ہو گئی۔ ہمیں چین میں پاکستان مل گیا۔ ہاں سموسوں کی کمی اب بھی باقی ہے۔ کوئی انہیں سموسے بنانا سکھا دے تو ہم چین کو ہی پاکستان کہنا شروع کر دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ