’فارمولا دودھ کی تیاری میں بوتلوں سے مائیکروپلاسٹک کا اخراج‘

سائنس دانوں کے مطابق گرم مائع جیسے کہ فارمولا یا پانی جو بوتل کو سٹرلائز کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، پلاسٹک کے ان چھوٹے ٹکڑوں کے اخراج کی بڑی وجہ ہے۔

سائنس دانوں نے مائیکروپلاسٹکس اور حدت کے درمیان بھی تعلق دریافت کیا ہے۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بچوں کی بوتلوں میں فارمولا دودھ کی تیاری کے دوران پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں یعنی مائیکروپلاسٹکس کا بڑی تعداد میں اخراج ہوتا ہے۔

سائنس دانوں نے مائیکروپلاسٹکس اور حدت کے درمیان بھی تعلق دریافت کیا ہے۔ گرم مائع جیسے کہ فارمولا یا پانی جو بوتل کو سٹرلائز (جراثیم سے پاک) کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ان چھوٹے ٹکڑوں کے اخراج کی بڑی وجہ ہے۔

مائیکرو (حتیٰ کہ نینو) پلاسٹکس ہماری خوراک اور پانی میں پلاسٹک کے فضلے کے طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔

اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ مائیکروپلاسٹکس سمندر میں موجود پلاسٹک کی آلودگی کی وجہ سے خوراک کے ذریعے انسانی معدے میں داخل ہو جاتے ہیں۔

لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ روز مرہ مصنوعات سے مائیکروپلاسٹکس کے بلاواسطہ اخراج کے حوالے سے تحقیق کی جا رہی ہے۔

اس تحقیق میں ٹرنٹی کالج ڈبلن کے سائنس دان شامل ہیں اور اس کی پیش کردہ سفارشات میں پلاسٹک کی بوتلوں میں فارمولا تیار کرنے کے حوالے سے کئی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ مائیکروپلاسٹکس کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔

یہ تحقیق مقالے ’نیچر فوڈ‘ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں پولی پروپیلین سے تیار کردہ بوتلوں سے خارج ہونے والے مائیکروپلاسٹکس پر تحقیق کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولی پروپیلین دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی قسم ہے، جسے خاص طور پر کھانوں کی تیاری اور انہیں سٹور کرنے کی اشیا جیسے لنچ باکس، کیتلیوں اور بچوں کے فیڈروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ریسرچ ٹیم کے مطابق اس کی مائیکروپلاسٹکس خارج کرنے کی شرح  کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے۔

محققین نے 48 ممالک اور خطوں میں مائیکروپلاسٹکس سے متاثر ہونے والے ایک سالہ بچوں کا بھی تخمینہ لگایا ہے۔

سامنے آنے والی اہم معلومات

  • پولی پروپیلین سے تیار ہونے والی بچوں کی بوتلیں فی لیٹر ایک کروڑ 60 لاکھ مائیکروپلاسٹکس خارج کر سکتی ہیں جبکہ نینو پلاسٹکس کی تعداد کھربوں میں ہو سکتی ہے۔
  • درجہ حرارت کے 25 سیلسیس سے 95 سیلسیس تک بڑھنے کی صورت میں گرم پانی سے سٹرلائز کرنا مائیکروپلاسٹکس کی اخراج کی شرح کو فی لیٹر چھ لاکھ سے پانچ کروڑ 50 لاکھ تک بڑھا سکتا ہے۔
  • دوسری مصنوعات جیسے کہ کیتلیاں اور لنچ باکسز جو پولی پروپیلین سے بنے ہوتے ہیں، بھی اسی سطح کے مائیکروپلاسٹکس خارج کرتے ہیں۔
  • ایک نو عمر بچہ عام طور پر دن میں دس لاکھ تک مائیکروپلاسٹکس سے متاثر ہو سکتا ہے جبکہ سمندری علاقوں، شمالی امریکہ اور یورپ میں اس سے بلند سطح کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
  • سٹرلائیزیشن کے طریقے کو بدلنا اور فارمولے کو الگ طرح سے تیار کرنا مائیکروپلاسٹکس کے اخراج میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔

سٹرلائز کیسے کیا جائے اور فارمولے کی تیاری کیسے کی جائے؟

  • بوتلوں کو عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق سٹرلائز کریں۔
  • گرم پانی کو پلاسٹک کے بغیر کسی کیتلی یا ککر میں ابالیں جیسے کہ شیشہ یا سٹین لیس سٹیل۔
  • بوتلوں کو تین بار ایسے پانی سے دھویں جو کمرے کے درجہ حرارت کے مطابق ہو۔

فارمولا تیار کرنے کے لیے:

  • پانی کو نان پلاسٹک برتن میں ابالیں
  • بچوں کے لیے فارمولا نان پلاسٹک کنٹینر میں تیار کریں اور پانی کا درجہ حرارت کم سے کم 70 ڈگری ہو۔
  • تیار شدہ فارمولا دودھ کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر اس کو بچے کو پلانے کے لیے اچھے معیار کی پلاسٹک بوتل میں منتقل کریں۔

تحقیق کے مطابق پلاسٹک کنٹینر میں تیار کردہ فارمولے کو دوبارہ گرم نہ کریں خاص طور پر مائیکرویو میں۔ بوتل میں موجود فارمولے کو بہت زور سے نہ ہلائیں۔ بوتل کی صفائی کے لیے الٹراسونک کلینر استعمال نہ کریں۔

ٹرنٹی سکول آف کیمسٹری کے پروفیسر جان بولانڈ، جو اس تحقیق میں شامل تھے، کا کہنا ہے: ’جب ہم نے لیبارٹری میں یہ نتائج دیکھے تو ہم نے فوری طور پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوچا۔ سب سے آخری چیز جو ہم چاہتے ہیں وہ والدین کا غیر ضروری طور پر چونکنا ہے۔ خاص طور پر جب ہمارے پاس مائیکروپلاسٹکس کے کم عمر بچوں کی صحت پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے کافی معلومات نہیں ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم پالیسی سازوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کم عمر بچوں کے لیے بوتل میں تیار کیے جانے والے فارمولے کی تیاری سے متعلق موجودہ ہدایات کا دوبارہ جائزہ لیں۔ اہم طور پر ہم یہ پتہ لگا سکے ہیں کہ مائیکروپلاسٹکس سے لاحق خدشات کی سنگینی کو کم کرنا ممکن ہے جو سٹرلائزیشن اور فارمولے کی تیاری کے طریقہ کار کو بدل کر ہو سکتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق