فرانس: نیس شہر کے چرچ میں حملہ، تین ہلاک

نیس کے ناظم کرسٹین استورسی نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ اپنی ٹویٹ میں استورسی کا کہنا تھا کہ حملہ آور حملے کے دوران اور گرفتار کیے جانے کے بعد بار بار اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہا تھا۔

فرانسیسی شہر نیس میں چرچ میں ہونے والے ایک حملے کے دوران تین افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس اور مقامی حکام کے مطابق حملہ آور نے 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگاتے ہوئے چاقو کے وار کرتے ہوئے ایک خاتون سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والی خاتون کی گردن ان کے دھڑ سے الگ ہو گئی تھی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیس کے ناظم کرسٹین استورسی نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ اپنی ٹویٹ میں استورسی کا کہنا تھا کہ حملہ آور حملے کے دوران اور گرفتار کیے جانے کے بعد بار بار اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں چرچ کے منتظم بھی شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والی خاتون نے بھی چرچ سے باہر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ استروسی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'گرفتار کرنے کے دوران حملہ آور کو گولی مار کے زخمی بھی کیا گیا ہے۔ بس بہت ہو چکا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فرانس کو اپنی زمین سے اسلامی شدت پسندی کا صفایا کرنا ہو گا۔'
کرسٹین استروسی کے مطابق فرانسیسی صدر ایمونوئیل میکروں بھی جلد نیس کا دورہ کریں گے۔ فرانسی پارلیمنٹ میں بھی نیس میں ہونے والے حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ