فرانس چرچ حملہ: پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کی مذمت

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان فرانس کے شہر نیس کے چرچ میں کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ایسے پرتشدد واقعات کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی خاص طور پر عبادت گاہوں میں۔'

(اے ایف پی)

پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے سے فرانسیسی شہر نیس میں جمعرات کو ہونے والے شدت پسند حملے کی مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان فرانس کے شہر نیس کے چرچ میں کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ایسے پرتشدد واقعات کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی خاص طور پر عبادت گاہوں میں۔'

جمعرات کو کیے جانے والا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے دنیا بھر کے مسلمان فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی تشہیر نو پر سراپا احتجاج ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، یورپی، عرب اور اسرائیلی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'ہمارے دل فرانس کے شہریوں کے ساتھ ہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اپنے پرانے اتحادی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسلامی شدت پسندوں کے حملے فوری طور پر رکنے چاہییں۔ فرانس سمیت کوئی بھی ملک یہ برداشت نہیں کر سکتا۔'

اس حملے کی سب سے پہلے مذمت ترکی کی جانب سے کی گئی ۔ حالیہ دنوں میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانس اور ترکی کے درمیان شدید بیان بازی اور کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے باین میں اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'اشتعال انگیزی کی کوششوں کے ساتھ امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔'

قطر، مصر کی وزارت خارجہ اور لبنانی وزیر اعظم سعدی حریری نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے جبکہ آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اس حملے کو 'آزادی پر حملہ' قرار دیا ہے۔'

 یورپی یونین کے رہنماؤں نے بھی فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ جرمن چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا تھاکہ 'ان بے رحمانہ ہلاکتوں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔'

جرمنی کے علاوہ اٹلی، ہنگری، آسٹریا، بھارت، برطانیہ اور پوپ فرانسس نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ 'تشدد اور دہشت گردی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔'جبکہ اسرائیلی صدر ریووین ویولن کا کہنا تھا کہ 'اسلام اور مسیحیت کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے نہ ہی اسلام اور یہودیت کے درمیان کوئی جنگ ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ کوئی ایسا نہ کر سکے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا