افغانستان کے لیے ٹرمپ اچھے یا بائیڈن؟

افغانستان میں امریکہ کی بااثر اور اہم موجودگی کی وجہ سے آج کے انتخابات کو خصوصی مشاہدے اور حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

افغانستان میں داعش کے بڑھتے حملوں سے کیسے نمٹا جائے گا اس پر کوئی بات نہیں ہو رہی (اے ایف پی)

امریکی عوام آج ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ جو بائیڈن کے درمیان وائٹ ​​ہاؤس کے لیے انتخاب کریں گے۔

عالمی اور علاقائی سیاسی پیش رفت، خاص طور پر کرونا وائرس کے پھیلنے نے، صدارتی انتخابات کے بارے میں پیش گویوں کی درستگی کی سطح کو شدت سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس وجہ سے، انتخابات سے 24 گھنٹے پہلے تک، کوئی بھی اب تک یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات کون جیتے گا۔

امریکی انتخابات دنیا کے اہم انتخابات میں سے ایک ہیں۔ دو طاقتور ترین امریکی پارٹیوں میں سے ایک کی جیت کی وجہ سے دنیا کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی کا انداز نسبتا نمایاں طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں دونوں اپنے اپنے چشموں سے عالمی مسائل کو دیکھتے ہیں۔

اگرچہ اس کے سیاسی نظریے کے مطابق دنیا کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی تقریبا یقینی ہے، لیکن متعدد مواقعوں پر ہر پارٹی کے صدور نے خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں کی ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی صدارت کے دوران ٹرمپ نے پوری دنیا میں اور کسی حد تک امریکہ تک کسی بھی علاقائی مسئلے میں ملوث ہونے کی پالیسی کو کم کرنے کی کوشش کی۔

ٹرمپ کے نقطہ نظر کو کبھی کبھی دنیا کے بارے میں امریکہ کی تمام روایتی پالیسیوں سے مختلف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے دوران اپنے مشیروں میں سب سے زیادہ تبدیلیاں کیں۔

افغانستان میں امریکہ کی بااثر اور اہم موجودگی کی وجہ سے آج کے انتخابات کو خصوصی مشاہدے اور حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال میں جہاں امریکہ نے اپنے اصل دشمن، طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور وہ افغانستان سے اپنی تمام فوجیں واپس بلانے کی کوشش کر رہا ہے، مستقبل کی امریکی انتظامیہ کی پالیسی اس ملک کے لیے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔ اگرچہ دونوں صدور کے انتخابی مباحثوں کے دوران افغانستان ایک مرکزی مسئلہ نہیں رہا ہے، لیکن ان دونوں امیدواروں کا افغانستان کے بارے میں اندازہ بہت حد تک واضح ہے۔ مسٹر ٹرمپ وہ ہیں جنہوں نے طالبان قیادت کے ساتھ براہ راست بات کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے افغانستان سے ہزاروں امریکی فوج واپس بلائے اور کہا کہ وہ کرسمس تک تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیں گے۔ افغانستان میں مسٹر ٹرمپ کی انتظامیہ کے نمائندے افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو کہ گذشتہ 19 سالوں میں افغانستان کی امریکہ کے تعاون سے حاصل کردہ بیشتر جنگی کارناموں کو ضائع کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں سیاست دان مسٹر ٹرمپ کے دوبارہ جیت سے پریشان ہیں۔ لیکن دوسری طرف جو بائیڈن کو افغانستان میں رہنے میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مکمل طور پر افغانستان سے انخلا پر غور سے بہت پہلے بائیڈن نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے بارے میں پرامید نہیں ہیں۔

جو بائیڈن کے مطابق امریکہ پاکستان میں متعدد فوجی اڈے بنا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرسکتا ہے اور افغانستان میں فوج کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، بائیڈن ٹرمپ کے مقابلے میں افغانستان کے بارے میں زیادہ سخت نظریہ رکھتے ہیں۔

بائیڈن کا خیال ہے کہ افغانستان ایک ملک نہیں بلکہ تین الگ الگ ممالک سے مل بنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائیڈن افغانستان کی تقسیم کی حمایت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے برسوں قبل عراق کے بارے میں کیا کہا اور عراق کو تین ممالک شیعہ، سنی اور کردوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لہذا عوامی توقعات کے خلاف کوئی بھی شخص انتخابات میں بائیڈن کی جیت کی صورت میں مکمل طور پر مطمئین نہیں ہوسکتا ہے۔

ڈیموکریٹس یا ریپبلکن وائٹ ہاؤس کا اقتدار جو بھی سنبھال لے، افغانستان کی تقدیر واضح معلوم ہوتی ہے۔ یقینا، ہر صدر افغانستان سے نکلنے کی کوشش کرے گا ، لیکن سب سے اہم مسئلہ یہ ہوگا کہ امریکی فوجی کیسے اور کب افغانستان سے نکلیں گے۔

اگر یہ انخلا روس کے افغانستان سے انخلا کے مترادف ہے تو 1990 کی دہائی کی تلخ واپسی ناگزیر ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر اس انخلا کے ساتھ ساتھ افغانستان میں موجودہ حکومت کو حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے تو پھر، کوئی امید کرسکتا ہے کہ خود افغان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے اور اس پر عمل کرنے کے اہل ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ