جسٹس عیسیٰ کیس: تفصیلی فیصلے میں شامل اختلافی نوٹ میں کیا تھا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں شامل جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مقبول باقر کے اختلافی نوٹ جاری کر دیے گئے۔

رواں برس جون میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے  مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا تھا۔(تصویر: سپریم کورٹ ویب سائٹ)

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں شامل دو ججوں کے اختلافی نوٹ جاری کر دیے گئے، جن میں ریفرنس کو 'بدنیتی پر مبنی' قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو غیرقانونی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔

واضح رہے کہ تفصیلی فیصلے میں اکثریتی ججز کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس مؤقف کو مسترد کیا گیا کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا جبکہ دو ججز کے اختلافی نوٹ میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مشتمل تھا۔

بدھ کو جاری ہونے والے جسٹس منصور علی شاہ کے 65 صفحات پر مشتمل نوٹ میں انہوں نے قرار دیا کہ 'جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی معلومات لیک کرنے کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے کیونکہ وفاقی حکومت یا اس کے ادارے جج کے کنڈکٹ پر کونسل کو شکایت نہیں کرسکتے۔'

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 'معاون خصوصی شہزاد اکبر اور ایسٹس ریکوری یونٹ ٹیم کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور نادرا اور ایف بی آر حکام جنہوں نے غیرقانونی طریقے سے معلومات دیں، ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔'

جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ 'شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ہسپانوی نام معلوم ہونا اور لندن میں ان کی جائیدادوں تک رسائی حاصل کرنا بھی حیران کن ہے۔'

انہوں نے اختلافی نوٹ میں سوالات اٹھائے کہ 'شہزاد اکبر نے یہ نہیں بتایا کہ وحید ڈوگر کو اس سب کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ اختلافی نوٹ میں مزید درج ہے کہ وفاق کا موقف ہے کہ صحافی کو اس کا سورس بتانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، وفاقی کا یہ موقف درست نہیں۔ شکایت کنندہ وحید ڈوگر نے اپنی تحقیقاتی خبر کسی اخبار میں شائع نہیں کی بلکہ انہوں نے جج کے خلاف ایکشن کے لیے شکایت کا اندراج کرایا، اس لیے وحید ڈوگر کا اسٹیٹس ایک شکایت کنندہ کا تھا، صحافی کا نہیں اور جس کسی نے بھی وحید ڈوگر کو یہ معلومات فیڈ کیں وہ ہی اس کہانی کے اصل کردار ہیں۔'

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ 'صدر مملکت نے سمری بھیجنے سے پہلے شاید دماغ استعمال نہیں کیا، اس سارے معاملے میں ایف بی آر کو تحقیقات کی ہدایات دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ کونسل کسی بھی جج کے معاملے پر ازخود نوٹس لینے میں آ زاد ہے۔' ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایف بی آر یا کونسل کی جانب کارروائی سے گریزاں ہونے کا موقف کسی فریق نے نہیں اپنایا۔ اداروں کو اختیارات نہ ہونے پر سپریم کورٹ اپنے حکم سے اختیارات نہیں دے سکتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معزز جج نے مزید لکھا کہ 'ایف بی آر کی رپورٹ کونسل کے سامنے جج کے خلاف ایک نئی شکایت ہوگی۔ ایف بی آر کو آرٹیکل 209 کے تحت صدر کو اپروچ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس عیسیٰ کے خاندان کو بھی عام شہریوں کی طرح آزادی اور تحفظ حاصل ہے، لیکن جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو  بلاکر نہ تو سنا گیا اور نہ ہی فریق بنایا گیا لہذا شکایت کنندہ کی شکایت کو پزیرائی دینے کے تمام اقدامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں جسٹس مقبول باقر نے 68 صفحات پر مشتمل اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ریفرنس کالعدم ہونے کے بعد جج کے اہلخانہ کی جائیدادیں اور ٹیکس معاملات عوامی مفاد کے زمرے میں نہیں آتے۔ ایف بی آر قوانین کے مطابق 2004سے 2013 تک خریدی گئی جائیدادوں کے سورس آف انکم کی تحقیقات نہیں ہوسکتیں اس لیے جسٹس عیسیٰ پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد اور بدنیتی پرمبنی ہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے مزید لکھا کہ 'آئین ہر شہری کو حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادی فراہم کرتا ہے، جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوانے کا مطلب ہے کہ ججز فیملی معاملات پر جوابدہ ہیں، ججز کی جوابدہی کا یہ تصور کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہے، ایسے تصور کا عدالتی ساکھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'عدلیہ کی آزادی اور احتساب پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ عدلیہ کی آزادی اور احتساب دو اہم ستون ہیں، یہ دونوں ستون مل کر عوام کا اعتماد اور عدالتی نظام کی صداقت کو قائم رکھتے ہیں۔'

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 23 اکتوبر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا۔ سات ججز کا 173 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا تھا۔ تفصیلی فیصلے میں 11 وجوہات بتاتے ہوئے عدالت نے  قرار دیا تھا کہ صدارتی ریفرنس دائر کرکے قواعد و ضوابط اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، اس لیے یہ ریفرنس کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

اس سے قبل رواں برس جون میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے  مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا تھا۔

مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرلی گئی تھی، جو دس ججز کا متفقہ فیصلہ تھا جبکہ معاملہ ایف بی آر بھجوانے کا سات ججز کا اکثریتی فیصلہ تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان