پاکستان میں ذی فائیو بند، نیٹ فلکس بند کرنے کا ارادہ نہیں: فواد چوہدری

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر ذی فائیو اپنا ذیلی دفتر پاکستان میں کھولے اور ٹیکس کی ادائیگی کرے تو حکومت کو اعتراض نہیں ہے۔

 ذی فائیو بھارتی ایپلیکیشن ہے جہاں پر مختلف ڈرامے دکھائے جاتے ہیں اور یہ آن لائن میسر ہے (ذی فائیو/ فیس بک)

بھارت کے آن لائن چینلز کو پاکستانی بینکنگ نظام کے ذریعے انٹرنیٹ سے رقوم کی ترسیل بند کیے جانے کے بعد اب معروف بھارتی ایپلیکیشن ’ذی فائیو‘ کی سروسز بھی پاکستان میں معطل ہو جائے گی۔

اس حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر ذی فائیو اپنا ذیلی دفتر پاکستان میں کھولے اور ٹیکس کی ادائیگی کرے تو حکومت کو اعتراض نہیں ہے۔

فواد چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ذی فائیو ایپلیکیشن میں پاکستانی رقوم بغیر کسی ٹیکس کے باہر جا رہی ہیں جس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بھی ایک وجہ ہے جس کے باعث کابینہ نے پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔‘

پاکستان میں نیٹفلکس کی طرز پر  OTT tv  لانچ کرنے کے بعد نیٹفلکس بھی پاکستان میں بند کر دیا جائے گا؟

اس سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ نیٹفلکس کو بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ نیٹفلکس سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنا ذیلی دفتر پاکستان میں کھولیں تاکہ وہ پاکستانی صارفین جو نیٹفلکس استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکس کے دائرے میں آ سکیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا کہ بھارتی چینلز کو پاکستان سے ادائیگیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے بھارتی چینلز کو رقوم کی ادائیگی کے تمام ذرائع منقطع کر دیے گئے ہیں۔

اس معاملے کا سیاق و سباق کیا ہے؟

 ذی فائیو بھارتی ایپلیکیشن ہے جہاں پر مختلف ڈرامے دکھائے جاتے ہیں اور یہ آن لائن میسر ہے۔ اس کی سروس خریدنی پڑتی ہے جیسے کہ تین ماہ کا پلان تین سو پاکستانی روپے کے لگ بھگ ملتا ہے۔

دو ماہ قبل سوشل میڈیا پر ذی فائیو پر نشر ہونے والے مشہور پاکستانی ڈرامہ  ’چڑیلز‘ کے ایک متنازعہ سین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا چونکہ اداکار بھی پاکستانی تھے اس لیے سوشل میڈیا پر پیمرا اور حکومت سے صارفین کی جانب سے درخواست کی گئی کہ اس پر پابندی عائد کی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چونکہ ذی فائیو بھارتی نیٹ ورک ہے اور پیمرا کے دائرہ کار سے باہر ہے اس لیے معاملہ کابینہ کی میٹنگ میں بھی زیر بحث آیا، جس کے بعد یہ طے پایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اسے ریگولیٹ نہیں کر سکتا اس لیے سٹیٹ بینک کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی کہ مذکورہ ایپلیکیشن کے لیے رقم کی ترسیل کسی بھی پاکستانی بینک یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ناممکن بنا دی جائے۔

سرکاری حکام کے مطابق کابینہ ڈویژن نے سٹیٹ بینک کو خط لکھ کر ان تخفظات سے آگاہ کیا تھا اور ہدایات جاری کیں تھیں۔

واضح رہے کہ چڑیلز سیریز کے متنازعہ سین کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والے اعتراضات کے باعث ذی فائیو نے پاکستانی ناظرین کے لیے وہ سیریز اپنی ایپلیکیشن سے ہٹا دی تھی۔

پاکستانی ڈرامہ ڈائریکٹر مہرین جبار نے اس حوالے سے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ حکومت کو ذی فائیو پر پابندی عائد نہیں کرنی چاہیے اس سے اور کچھ نہیں ہو گا لیکن انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا نقصان ہو گا۔

مہرین جبار کی ڈائریکٹ کی ہوئی ویب سیریز ’ایک جھوٹی لو سٹوری‘ کے نام سے گذشتہ ماہ ہی ذی فائیو پر نشر ہوئی۔

اس سے قبل مختلف اعتراضات پر پاکستان ٹینڈر اور دیگر ڈیٹنگ ایپلیکیشنز پر بھی پابندی عائد کر چکا ہے۔ مشہور گیم پب جی پر بھی پی ٹی اے کی پابندی عدالتی حکم کے بعد ختم ہوئی جبکہ ٹِک ٹاک پر بھی پابندی لگائی گئی تھی لیکن معاملہ عدالت میں جانے کے بعد ٹک ٹاک بحال کر دی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان