جی20 کانفرنس: کیا عالمی سیاست معمول پر واپس آ رہی ہے؟ 

جی 20 کے طویل المدتی مستقبل کو ایسے ہی نہیں چھوڑا جا سکتا لیکن یہ ٹرمپ کے طوفان سے نکل آیا ہے۔ گذشتہ تین سال کے بعد یہ ایک کامیابی ہی شمار ہو گی۔

جی 20 جسے آج سے 11 سال قبل کے معاشی بحران کے دوران موجودہ شکل میں قائم کیا گیا تھا وہ ٹرمپ کی اس عالمی اداروں کی تباہی کی لہر سے نسبتا کم متاثر رہا ہے (اے ایف پی)

ایک ویران کانفرنس ہال میں آنے والے طوفان کی طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 2017 سے عالمی اداروں کو پہنچائے جانے والے نقصان کو سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ہم نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی راہ میں مشکلات کھڑی ہوتی دیکھیں، عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ واپس لیا جانا بھی دیکھا اور معاہدہ پیرس سے امریکہ کا انخلا بھی دیکھا۔

جی 20 جسے آج سے 11 سال قبل کے معاشی بحران کے دوران موجودہ شکل میں قائم کیا گیا تھا وہ ٹرمپ کی اس عالمی اداروں کی تباہی کی لہر سے نسبتا کم متاثر رہا ہے۔

اس کے باوجود یہ کثیرالملکی فورم ٹرمپ کی صدارت کے دوران صحیح سے چل نہیں پایا۔

ٹرمپ نے جی 20 کے ماضی میں جاری کیے جانے والے اعلامیے میں استعمال کی جانے والی معمول کی زبان استعمال کرنے سے انکار کیا جو انفرادی فائدے کو ٹھکراتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتی تھی، ٹرمپ نے ان کو مزید کھوکھلا کر دیا جیسے ناقدین کہیں گے کہ مزید بے معنی بنا دیا۔

رواں سال ہی وائٹ ہاوس نے عملی طور پر اس اعلامیے کو اس وقت پھاڑ ڈالا تھا جب اس کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی۔

سعودی عرب کی قیادت میں مارچ میں جی 20 کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس کا مقصد اس وقت اعلان کی گئی کرونا کی وبا کے رد عمل پر غور کرنا تھا اور اس میں ’عالمی ادارہ صحت کے اختیار کو مضبوط‘ بنانے کی بات کی گئی۔ اس سے اگلے مہینے ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ وہ اس ادارے کو دی جانے والی امریکی امداد بند کر رہے ہیں۔

ایسے رویے نے جی ٹوئنٹی کی ساکھ پر جلتے ہوئے سوال اٹھا دیے۔ یہ بھی سوال ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاوس سے روانگی اس آگ کو بجھا سکے گی؟ کیا اس ہفتے ریاض میں ہونے والا جی 20 رہنماؤں کا اجلاس (باوجود اس کے وہ ورچوئل تھا) ہمیں بحالی کی ایک جھلک دکھا رہا ہے؟

صدر ٹرمپ تکنیکی طور پر اس سال کے اجلاس کا حصہ تھے لیکن وہ اس میں نیم دلانہ انداز میں شریک ہوئے۔ ہفتے کو وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اپنے میز کے پیچھے بیٹھے ان کی تصویر دنیا کے رہنماؤں کو ریاض کے کمانڈ سینٹر کے ذریعے نظر آ رہی تھی لیکن اس کے باوجود امریکی صدر جن کی مدت 20 جنوری کو ختم ہو رہی ہے ان کی توجہ کہیں اور تھی۔

سی این این کے مطابق اجلاس شروع ہونے کے 13 منٹ بعد وہ امریکی الیکشن کے نتائج کے بارے میں ٹویٹ کر رہے تھے جو وہ ابھی بھی لڑ رہے ہیں۔ ملاقات ختم ہوئی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ گالف کھیلنے نکل گئے۔

کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ایسے شخص کے لیے ڈیجیٹل اجلاس کیا اہمیت رکھتا ہے جو دوسرے رہنماؤں کے ساتھ ذاتی طور پر لین دین کے معاہدے کرتا ہو جیسا کہ انہوں نے 2018 میں جی 20 کے دوران کیا جب ٹرمپ اور چینی صدر شی جنگ پنگ نے ایک دوسرے پر وہ ٹیرف ملتوی کرنے پر اتفاق کیا جن کی وہ دھمکی دے رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسے شخص کے لیے ویڈیو سکرین کیا اہمیت رکھتی ہے جو عالمی رہنماؤں سے بھرے کمرے میں ساری توجہ اپنے لیے چاہتا ہے؟

اس سمٹ میں ٹرمپ کی ماحول پر ریکارڈ شدہ تقریر ان کی انتظامیہ کی ایک کوشش تھی جو پیرس معاہدے سے ان کے انخلا کے دفاع پر مبنی تھی بجائے اس کے وہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی تعمیری بات کرتے۔

ریاض سمٹ کے حتمی اعلامیہ کے بارے میں یہ کہنا جائز ہو گا کہ اس کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔ یورپی کمیشن کی درخواستوں کے باوجود ایک ایسے فنڈ کا قیام یقینی نہیں بنایا گیا جو کرونا وائرس کی کسی ممکنہ ویکسین کی منصفانہ عالمی تقسیم میں مدد دے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے مطالبوں کے باوجود ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جی 20 ارکان نے ان معمالات پر 2021 میں غور کرنے پر اتفاق کیا۔ اس معاملے میں بات کرنے اور نجی قرض دہندگان کو اس بات پر راضی کرنے کی ذمہ داری اٹلی کو سونپ دی گئی ہے جو سعودی عرب کے بعد اگلے سال کے لیے صدارت سنبھالے گا۔ 

موسمیاتی تبدیلی اور تجارت کے معاملے میں بھی رکاوٹیں ہیں جو بلا شبہ وائٹ ہاؤس کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔

لیکن گذشتہ برسوں کی نسبت اس کانفرنس کا ماحول بہت مثبت محسوس ہوا ہے شاید اس کی وجہ ٹرمپ کے جانشین کی شناخت ہے۔

رکن ریاستیں جانتی ہیں کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن نے امریکہ کی معاہدہ پیرس میں واپسی، عالمی ادارہ صحت میں امریکی رکنیت، اور ڈبلیو ٹی او فریم ورک میں تعمیری کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

براک اوباما کے نائب صدر کے طور پر اپنے دور میں آنے والے معاشی بحران کے بعد بائیڈن خاص طور پر ایک عالمی بحران کے دوران جی 20 جیسی تنظیم کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں۔

جی 20 کی میز پر سخت گیر حکمرانوں کی طویل فہرست ہے جن میں برازیل کے بولسونارو، ترکی کے اردوعان، بھارت کے مودی اور روس کے پوتن سمیت چین کے شی شامل ہیں۔

لیکن ٹرمپ کے بغیر ان حکمرانوں کے اکٹھ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اور تجارت پر ہونے والے کسی تعاون کی راہ میں رکاوٹ حائل کرنے کے امکانات کم ہوں گے۔ پوتن کے علاوہ باقی تمام ہی بائیڈن کو ان کی فتح پر مبارک باد دے چکے ہیں۔

جی 20 کے طویل المدتی مستقبل کو ایسے ہی نہیں چھوڑا جا سکتا لیکن یہ ٹرمپ کے طوفان سے نکل آیا ہے۔ گذشتہ تین سال کے بعد یہ ایک کامیابی ہی شمار ہو گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا