کرونا ڈائری: ٹوٹکے اور مشورے

جب ناامیدی کا سیاہ سایہ زیادہ چھایا ہو تو مجبور لوگ سب کچھ ماننے اور ٹرائی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

ساتویں روز جا کر اچھی نیند آئی۔ صبح کے نو بج چکے لیکن اٹھنے کو دل نہ کرے۔ کھانسی اور گلے کی خراش میں بہتری تھی لہٰذا معلوم نہیں ہوا کہ یہ نیند کمزوری یا حالت میں بہتری کی وجہ سے آ رہی ہے۔

آج ٹی وی کی خبروں سے پرہیز کا مسلسل چھٹا دن تھا۔ کسی کو یاد رہتا تھا تو دن کے اخبار کمرے میں پھینک دیتا تھا ورنہ وہ بھی میں نے مانگے نہیں۔ جب بات اپنی جان پر بنی ہو تو دنیا کا کوئی کیا کرے۔ خیر 10 منٹ کے اخبار کے مطالعے سے جتنا حالات و واقعات کو سمجھنا ضروری تھا سمجھ لیتا تھا۔

لیکن سیاست کے علاوہ جو خبر ٹھاہ کر کے دل پر لگتی تھی وہ روزانہ کرونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ تھا۔ متاثرہ اور مرنے والوں کی بڑھتی تعداد طبعیت پر شدید گراں گزرتی تھی۔ بیماری کے ابتدائی دنوں میں ایسی بھیانک خبروں کو دیکھ کر اپنا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگتا تھا۔

نامساعد حالات میں بری خبریں آپ کے اعتماد اور ایمان کو زیادہ دھچکہ پہنچاتی ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس قسم کی خبریں ان دنوں میں کیسے دی جائیں۔ کیا ان کا لوگوں پر کوئی اثر ہوتا ہے؟ یا وہ اثر لیتے ہوئے اتنی احتیاط کرتے ہیں جتنی انہیں کرنے چاہیے؟ شدید دھچکے کی صورت میں ہو تو ’شاک فیکٹر‘ ہوتا ہے لیکن اگر روزانہ ہی دس بیس کے مرنے کی خبر تواتر سے ملتی رہے تو کیا وہ خبر رہتی ہے یا معمول بن جاتا ہے؟

خیر ان خبروں کا کوئی فائدہ ہوا یا نہیں لیکن اسی اخبار سے دو میں سے ایک گھس بیٹھیے یعنیٰ مکھیوں میں سے ایک کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہا۔ دوسری چست و چالاک مکھی ’میڈ گڈ ہر سکیپ۔‘ اب کمرے میں ایک میں، ایک مکھی اور ایک چھپکلی جیسے جاندار باقی رہ گئے تھے۔

چھپکلی وہیں کی وہیں دو روز سے ٹنگی تھی۔ نہ کوئی ہل اور نہ جل۔ پردہ ہلانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ نہ جانی تھی سو نہ گئی۔ایسے میں سوشل میڈیا پر دیکھا کہ ڈان کے ضرار کھوڑو کی کشتی بھی اس بیماری کے بھنور میں پھنس گئی۔ ٹوئٹر پر ان سے حال احوال کیا اور اپنی ادویات کی بہترین دریافت بھی بتا دی کہ چلو کسی کا بھلا ہوتا ہے تو ہو۔ جواب آیا کہ یہ تو لیکویڈ وکس جیسی ہے۔ کچھ دیگر صحافی ساتھیوں اور دوست احباب نے بھی اپنی وٹامن اور دیگر تراکیب شیئر کیں۔

ایک افغان دوست نے بتایا کہ کابل میں ایک ڈاکٹر کرونا کے 10 ہزار مریضوں کا کامیاب علاج کر چکا ہے تو وہ ان سے علاج پوچھتے ہیں۔ دوسرے دن فون آیا کہ ’گوشت خوب کھاؤ، مدافعت بڑھاؤ۔‘ وٹس ایپ پر بظاہر سعودی عرب سے ایک پاکستانی ڈاکٹر کی ویڈیو بھی موصول ہوئی، دیکھی تو ایسا لگا جیسے میرے مرض کی ہی تشخیص کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا علاج بتا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسے حالات میں چونکہ میری صورت حال بہتری کی طرف گامزن تھی تو خوراک کے علاوہ کسی دوسری بات پر زیادہ توجہ نہیں دی لیکن مجھے معلوم ہے کہ جب ناامیدی کا سیاہ سایہ زیادہ چھایا ہو تو مجبور لوگ سب کچھ ماننے اور ٹرائی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

سب سے بری بات بظاہر کسی کو، یہ اگرچہ اچھی نیت سے ہوتا ہے، کہنا کہ اگر ہسپتال میں داخلے یا وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑے تو مجھے کہیے گا میرے جاننے والے ہیں۔ یہ جاننا اچھا ہے لیکن مریض کی بجائے کسی رشتہ دار کو یہ بات کہیں تو زیادہ مفید رہے گی۔

دوسری مکھی پر بھی کاری ضربوں کاسلسلہ جاری رہا لیکن وہ ان قاتلانہ حملوں سے بال بال بچ نکلتی۔ مکھی مار مہم میں تو کامیابی نہیں ملی لیکن اس دن کی اچھی خبر منہ کے ذائقے کے خراب ہونے کی صورت میں ملی۔ دوستوں نے بتایا کہ اگر منہ کا ذائقہ خراب ہونے اور سونگھنے کی حس چلی جائے تو اس کا مطلب ہے شفا مل رہی ہے۔ یہ بھی شاید کوئی سائنسی دریافت نہیں بلکہ متاثرہ افراد کے تجربات ہی ہیں۔


یہ ویڈیو ڈائری تین اقساط پر مشتمل ہے جس کا دوسرا حصہ آج پیش کیا گیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کے ہارون رشید نے یہ ویڈیوز کرونا سے متاثر ہونے کے بعد قرنطینہ کے دوران ریکارڈ کی تھیں۔  اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی