آصفہ بھٹو کی سیاست — امکان یا خطرہ؟

آصفہ بھٹو خاندان کے لیے اثاثہ بنیں گی یا پھر بے نظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ کی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کاتب تقدیر نے کیا لکھ رکھا ہے؟

 آصفہ کا سیاست میں آنا پیپلز پارٹی میں متبادل قیادت کا سامنے آنا نہیں،  یہ سیاست میں بھٹو خاندان کے امکانات کا دائرہ کار بڑھانے کی ایک کوشش ہے (اے ایف پی)

قومی سیاست میں آصفہ بھٹو کی انٹری دھماکہ خیز ہے۔ ماں کے لہجے اور اعتماد کی ایک ایسی تصویر، جس کا مظاہرہ بلاول نہ کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آیا وہ بھٹو خاندان کے لیے اثاثہ بنیں گی یا پھر بے نظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ کی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے؟ سیاست میں ہر امکان کے ساتھ ایک خطرہ بھی جڑا ہوتا ہے۔ اس بار کاتب تقدیر نے کیا لکھ رکھا ہے۔ — امکان یا خطرہ؟

یہ غلط فہمی تو اب سونامی میں غرق ہو چکی کہ موروثی سیاست ایک برائی ہے۔ یہ شاید ایک عصبیت ہے اورعصبیت سالوں میں نہیں عشروں میں تشکیل پاتی ہے۔عمران خان اگر موروثیت کے آزار سے محفوظ ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ ان کا انتخاب ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بچوں کی والدہ نے بچوں کا پاکستان میں رہنا گوارا ہی نہیں کیا اور عمران کبھی اس سے بد مزہ نہیں ہوئے۔ والدین میں گویا اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پاکستان ان کے بچوں کے رہنے کے قابل نہیں۔

آصفہ کا معاملہ الگ ہے اور سیاسی میراث بھی۔ کوئی پھانسی کے پھندے پر جھول گیا، کسی کو سڑک پر بھون دیا گیا اور کوئی جلسہ گاہ کی دہلیز پر قتل ہو گئی لیکن کسی نے ایک لمحے کو نہیں سوچا کہ یہ ملک اب ان بچوں کے رہنے کے قابل نہیں۔اس گھرانے کی ایک اور بیٹی کل عوام میں کھڑی تھی اور یہ جاننے کے باوجود کھڑی تھی کہ جلسے اور سڑکیں مقتل بنتے دیر نہیں لگتی۔ موروثیت سے بے زاری اپنی جگہ، سچ مگر یہ ہے کہ عصبیت کا یہ سفر بھی آسان نہیں۔

دوسری صف میں پاکستان تحریک انصاف میں بھی اتنی ہی موروثیت ہے جتنی کسی دوسری جماعت میں۔ بیچ میں کہیں کہیں جو ’غیر موروثی‘ چہرے تحریک انصاف نے متعارف کرائے ان کی کارکردگی دیکھ کر تو موروثیت ایک غنیمت لگتی ہے کہ کم از کم یہ وہ مخلوق تو ہے جو ٹوئٹر کی بجائے زمین پر عوام میں پائی جاتی ہے۔

ایلکٹیبلز بھی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اپنے دائرہ کار میں ایک عصبیت حاصل ہے اور لوگوں سے ان کا  اتنا رابطہ ضرور ہے کہ ووٹ لے کر ایوانوں میں جا بیٹھتے ہیں۔ کسی کو اچھی لگے یا بری، حقیقت یہی ہے۔ اس کے علاوہ جو ہے سراب ہے۔ مجھے یہ اعتراف کرنا ہے کہا اس سراب کا میں بھی اسیر رہا۔ یہ اس دور کی برکت ہے کہ فکری گرہیں کھل رہی ہیں۔

سوال اب موروثیت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے آصفہ ایک امکان ہیں یا خطرہ؟ انہیں بلاول کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے یا یہ سیاست میں بھٹو خاندان کے امکانات کا دائرہ کار بڑھانے کی کوشش ہے؟ بلاول کی بڑی کمزوری ان کا لہجہ ہے۔ ایک نیم خواندہ اور پدر سری معاشرے میں یہ لہجہ اثاثہ نہیں بوجھ ہے۔ شیخ رشید جیسے لوگ اس پر گرہیں لگاتے ہیں۔

بلاول نے اس لہجے کو بہتر کرنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ کی بھی ہے تو نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ ایسے میں پہلا تاثر یہی بنا کہ شاید آصفہ کو بلاول کے متبادل کے طور پر لایا گیا ہے۔ بلاول کی لانچنگ بھی مریم نواز کی طرح بھرپور نہیں ہو سکی اور ان کے لب و لہجے میں کہیں والدہ کی کوئی جھلک ہے نہ نانا کی۔طجلسوں میں وہ بھٹو کا انداز اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو صورت حال خاصی تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔

آصفہ کو سیاست میں لانے کی ایک وجہ پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم کے ’مہلک اثرات‘ سے بچانا بھی ہو سکتا۔ پی ڈی ایم کے جلسوں میں مریم نواز کو بلاول بھٹو پر برتری  حاصل ہے۔

اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پیپلز پارٹی کے بعض کارکنان مریم نواز میں بے نظیر کی مزاحمتی سیاست کی جھلک دیکھ کر اس طرف مائل ہو جائیں اس لیے آصفہ کو سامنے لایا گیا ہے تا کہ بی بی سے لوگوں کی نفسیاتی وابستگی کو بھی پیپلز پارٹی کے سیاسی دھارے سے جوڑ کر رکھا جائے اور وہ بے نظیر بھٹو جیسے لباس میں سامنے آئیں تو کارکنان کو بیٹی میں ماں دکھائی دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم آصفہ کا سیاست میں آنا پیپلز پارٹی میں متبادل قیادت کا سامنے آنا نہیں۔ یہ سیاست میں بھٹو خاندان کے امکانات کا دائرہ کار بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔

اس خاندان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ سیاست کا راستہ کتنا ناہموار اور خطرناک ہے۔ اس راہ پر چلتے ہوئے آصف علی زرداری نے غالباً اپنی پارٹی کی قیادت کے حوالے سے امکانات کو وسیع کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس اب ایک نہیں دو ’ولی عہد‘ ہیں جو ایک دوسرے کے دست و بازو بھی ہو سکتے ہیں اور کسی نازک گھڑی میں  متبادل بھی۔(لفظ ولی عہد سے کوئی بد مزہ ہو رہا ہو تو موروثی سیاست کے حوالے سے اوپر کی گئی بحث کو دوبارہ پڑھ سکتا ہے)۔

سیاست میں مگر امکانات کے ساتھ خطرات بھی ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ بساط جیسی بچھائی جائے یہ آخر تک ویسی ہی رہے۔آج توآصفہ اپنے بھائی کے معاون کے طور پر خوشی سے بروئے کار آئیں گی لیکن کل جب انہیں احساس ہوا کہ اب ان کی اپنی سیاسی عصبیت بھی مستحکم ہو چکی ہے تو ان کا رویہ بدل بھی سکتا ہے۔

وہ اس سیاسی میراث پر اپنا دعویٰ بھی کر سکتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کی صورت میں پیپلز پارٹی اس چپقلش کو پہلے ہی دیکھ چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ  اس بار کاتب تقدیر نے کیا لکھ رکھا ہے۔۔۔۔امکان یا خطرہ؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ