ملتان جلسہ: آصفہ کی شرکت مزید جارحانہ سیاست کا پیش خیمہ؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ملتان میں ہونے والے جلسے میں آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔

پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کرونا میں مبتلا ہونے کے باعث  آصفہ بھٹو زرداری نے  ان کی جگہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی (تصویر: پاکستان پیپلز پارٹی )

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ملتان میں ہونے والا حکومت مخالف جلسہ اس لحاظ سے اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اس میں دو سابق وزرائے اعظم کی بیٹیوں نے اپنی پارٹی کی قیادت کی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز تو نائب صدر کی حیثیت سے اکثر وبیشتر مسلم لیگ ن کی قیادت کرتی نظر آتی ہیں لیکن سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کے سیاسی کیریئر کے پہلے بڑے جلسہ میں پارٹی کی قیادت کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کرونا (کورونا) وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث اس وقت قرنطینہ میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی جگہ ان کی بہن آصفہ نے ملتان کے گھنٹہ گھر چوک میں ہونے والے جلسے میں ان کی نمائندگی کی۔

پی ڈی ایم نے اپنے جلسے کا اعلان تو قاسم باغ سٹیڈیم میں کیا تھا، لیکن انتظامیہ کی جانب سے سٹیڈیم میں جلسے کی اجازت نہ دینے، کنٹینرز لگا کر راستے سیل کرنے، موبائل سروس بند کرنے اور گرفتاریوں کے باعث گھنٹہ گھر چوک میں ہی جلسہ کرنا پڑا۔

اپنے خطاب میں آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے خاندان اور پارٹی کی جانب سے دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے کہا کہ 'سلکیٹڈ حکومت کے ظلم و جبر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ آج عوام نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا، اب حکومت کو جانا ہوگا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'میں ایک ایسے وقت پر آپ کے سامنے آئی ہوں جب پارٹی چیئرمین اور میرے بھائی بلاول کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔' آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پارٹی کی بنیاد عوامی جمہوری اور فلاحی ریاست کے لیے رکھی تھی اور وہ اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی آصفہ کو جماعت کے اندر اپنی جگہ بنانے میں وقت لگے گا، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی مخصوص حالات میں پارٹی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔

ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ کارکنوں کو ان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جھلک دکھائی دینا ہوسکتی ہے۔

جنوبی پنجاب کے تجزیہ کار رضی الدین رضی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'آصفہ بھٹو زرداری کی پی پی پی کے 53ویں یوم تاسیس جیسے اہم ترین موقع پر پارٹی قیادت اہمیت کی حامل ہے۔'

ساتھ ہی انہوں نے کہا: 'اس کی وجہ محض بلاول بھٹو زرداری کا کرونا سے متاثر ہوکر غیر حاضر ہونا نہیں، کیونکہ ان کی جگہ تو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی قیادت کر سکتے تھے۔'

رضی الدین رضی کے مطابق: 'آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پہلے بڑے جلسے سے خطاب میں بھرپور خود اعتمادی سے خطاب کیا اور نعروں کے ذریعے کارکنوں میں جوش و ولولہ پیدا کردیا۔ دوسری بات یہ کہ محترمہ کے تینوں بچوں میں سے آصف علی زرداری کے سب سے قریب آصفہ رہیں اور ان کی سیاسی تربیت بھی مفاہمت کے بادشاہ سمجھے جانے والے آصف علی زرداری نے خود کی ہے، لہذا بلاول کے ساتھ آصفہ کو بھی مستقبل میں پارٹی قیادت کی ذمہ داریاں سونپے جانے کا قوی امکان ہے۔'

رضی الدین کا مزید کہنا تھا کہ آصفہ نے خطاب کے دوران بھی وہی انداز اپنایا جس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کا ابتدائی ایام میں تھا۔ 'پہلے خطاب کے باوجود بھی آصفہ کافی پر اعتماد دکھائی دیں ارو انہوں نے آخر میں نعرے لگوا کر کارکنوں میں مزید جوش پیدا کیا۔'

انہوں نے کہا کہ 'بلاول کی طرح آصفہ کا لہجہ بھی اردو زبان میں بی بی جیسا ہی ہے، اس لیے ان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جھلک زیادہ نظر آئی۔ وہ شکل وصورت کے لحاظ سے بھی بے نظیر بھٹو سے مشابہت رکھتی ہیں اس لیے کارکن بھی انہیں اپنی حقیقی لیڈر ماننے کو تیار نظر آتے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رضی الدین کے مطابق پی ڈی ایم کی قیادت کی موجودگی کے موقع پر آصفہ بھٹو زرداری کو متعارف کرانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی کہ سیاسی شخصیات میں وہ اپنا مقام بنا سکیں۔

دوسری جانب حکومت پنجاب کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے آصفہ بھٹو کے میدان سیاست میں آنے کو 'پاکستان میں موروثی سیاست کا تسلسل' قرار دیا۔

معروف اینکر اور سینیئر صحافی حامد میر نے اپنی ایک تحریر میں کہا کہ آصف زرداری پیپلز پارٹی کو بلاول کے حوالے کر چکے ہیں اور بلاول نے پچھلے کچھ عرصے میں مفاہمت کا تجربہ کرکے دیکھ لیا ہے۔ ’آصفہ کو اپنی معاونت کے لیے سیاست میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جارحانہ سیاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

آصف علی زرداری نے طبی وجوہات کی بنا پر پچھلے برس درخواست ضمانت دائر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بلاول سمیت پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماﺅں نے بہت منت سماجت کی لیکن آصف زرداری آمادہ نہ ہوئے ۔بلآخر بلاول نے آصفہ سے مدد حاصل کی اور آصفہ نے اپنے والد کو درخواست ضمانت پر دستخط کے لیے راضی کیا۔

آصفہ بھٹو زرداری نے 2018کے انتخابات میں اپنے والد اور بھائی کی انتخابی مہم میں تھوڑا بہت حصہ لیا لیکن وہ عملی سیاست سے دور رہیں۔ یہ آصفہ بھٹو کا باضابطہ طور پر کسی سیاسی جلسے سے پہلا خطاب تھا۔ اس سے قبل وہ 2018 کے عام انتخابات میں ہولوگرام کے ذریعے لیاری کے عوام سے خطاب کرچکی ہیں۔

وہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ملک میں انسداد پولیو مہم کا حصہ بھی رہی ہیں۔ 

30 نومبر پاکستان پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس ہے اور اس موقع پر آصفہ کا سیاست میں آنا کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست