پاکستان میں پشتو کے ’اولین ٹائپسٹ‘ انور خان لالا

محض 16 سال کی عمر میں پشاور یونیورسٹی کی پشتو اکیڈمی میں ملازمت کا آغاز کرنے والے انور خان لالا کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف پشاور یونیورسٹی بلکہ پاکستان کے پہلے پشتو ٹائپسٹ ہیں۔

انور خان لالا پشاور یونیورسٹی میں پشتو اکیڈمی کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔  وہ پچھلے 58 سال سے پشتو اکیڈمی سے وابستہ ہیں۔

 اس دوران انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے کئی ادوار دیکھے،  پشتو شعبے سے منسلک کئی اساتذہ اور طلبہ کو آتے اور جاتے دیکھا۔

پشتو اکیڈمی میں ملازمت کے آغاز میں وہ صرف 16 سالہ نوجوان تھے، جن کو پشتو اکیڈمی کے پہلے سربراہ مولانا عبد القادر نے پشتو ٹائپسٹ کے طور پر رکھتے ہوئے انہیں پشتو اکیڈمی کے پہلے پشتو ٹائپسٹ ہونے کا اعزاز  بخشا۔

تاہم 76 سالہ انور خان کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف پشاور یونیورسٹی بلکہ پاکستان کے پہلے پشتو ٹائپسٹ ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ چونکہ اس زمانے میں ٹائپنگ مشین اتنی عام نہ تھی اور خود پشتو اکیڈمی کو بھی افغانستان اور بعد میں جرمنی نے یہ مشین تحفے میں دی تھی لہذا پشتو ٹائپسٹ بھی ملک میں نہ ہونے کے برابر تھے۔

ان کے مطابق: ’1960 میں میٹرک پاس کرنے کے بعد مجھے یہاں ٹائپسٹ کی نوکری ملی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں پاکستان کا اولین پشتو ٹائپسٹ ہوں۔ دوران ملازمت مجھے پشتو اکیڈمی میں کتابوں کی پبلی کیشن اور فوٹو سٹیٹ کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی اور میں ہر فن مولا ہو گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انور خان کو پشتو ٹائپنگ کی ملازمت چھوڑے کئی سال گزر گئے ہیں، تاہم جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے رابطہ کیا تو پرانی یادیں تازہ کرنے کے لیے انہوں نے اکیڈمی کے میوزیم سے اپنا پرانا ٹائپ رائٹر نکالا اور کہنے لگے ’میں آج 20 سال بعد اس مشین کے سامنے بیٹھا ہوں اور ٹائپنگ کر رہا ہوں۔‘

انہوں نے ٹائپنگ مشین کے پرزے ٹھیک کرتے ہوئے کہا کہ خیال نہ رکھنے کے باعث یہ اس حالت میں نہیں رہی ہے جس طرح پرانے وقتوں میں ہوا کرتی تھی۔

’میں اس مشین پر کافی تیز رفتاری کے ساتھ ٹائیپنگ کرتا تھا۔ مجھے جس ٹائپنگ مشین کے سامنے بھی بٹھا دیا جاتا، مجھے کوئی خاص دشواری نہ ہوتی۔‘

انور خان کے مطابق جب وہ ٹائپنگ کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو پشتو اکیڈمی کے سربراہ طاہر خان نے انہیں اکیڈمی کی کتابوں کے لیے ایک دکان کھولنے کا مشورہ دیا۔  انور خان بھی چونکہ اکیڈمی سے خاص رغبت رکھتے آئے تھے اور دوران ملازمت کئی اداروں سے پیشکش کے باوجود نہیں گئے لہذا انہوں نے اکیڈمی کی جانب سے فراہم کردہ ایک کمرے میں دکان کھولی، جس میں انہوں نے پشتو زبان کے شعرا اور دیگر نایاب کتب کو بیچنے کے لیے رکھ دیا۔

یونیورسٹی میں بہت سے نئے آنے والے طلبہ انور خان لالا کو صرف کتاب فروش کے طور پر جانتے ہیں لیکن بہت کم طلبہ کو یہ معلوم ہے کہ وہ پشتو اکیڈمی کے پہلے ٹائپسٹ ہیں اور  یادوں کا ایک بڑا خزانہ رکھتے ہیں۔

انور خان کا کہنا ہے کہ پشتو اکیڈمی میں گزارے گئے  58 سالوں پر محیط عرصے کی یاداشتوں کو انہوں نے ایک کتاب کی شکل دی ہے جس کی بہت جلد رونمائی کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس